بارشی کوالٹی کے سبب روئی کے بھاﺅمیں مندی کا رجحان

کراچی(این این آئی)مقامی کاٹن مارکیٹ میں مندی کا تسلسل جاری،ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز نے محتاط خریداری جاری رکھی لیکن بارشوں کی وجہ سے کوالٹی کے ایشو کی وجہ سے روئی کے بھاﺅ میں اضافہ نہ ہوسکا کاروباری ہفتے کے آخری تین روز کے دوران کاروباری حجم کم رہا جس کی ایک بڑی وجہ بارشی روئی اور دوسری وجہ عیدالاضحی کی وجہ سے جانوروں کی ترسیل میں اضافے کے سبب ٹرانسپورٹ کا مسئلہ لاحق رہا۔ جمعہ اور ہفتہ کے روز بارشوں کی پیشن گوئی کے سبب جنرز نے بھی پھٹی اتارنی کم کردی جس کے باعث کاشتکاروں کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا دوسری جانب ملز بھی روئی کی ڈیلیوری لینے میں محتاط رہے جمعہ،ہفتہ اور اتوار کے دوران زیادہ بارشوں کی پیشن گوئی کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا۔ اگر بارشیں ہوئی تو عیدالاضحی کے بعد کچھ دنوں تک کپاس کی کوالٹی کا مسئلہ درپیش رہے گا بحر حال عیدالاضحی کے بعد کاروباری حجم میں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ پھٹی کی ترسیل میں اضافہ کے ساتھ ملز کی روئی کی خریداری میں اضافے کے سبب سپلائی ڈیمانڈ کی کشمکش کے سبب روئی کے بھاﺅ میں نسبتا اضافہ ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ہفتے کے دوران صوبہ سندھ میں روئی کا بھاﺅ فی من 7700 تا 7800 روپے پھٹی کا بھاﺅ فی 40 کلو 3200 تا 3500 روپے رہا بنولہ کا بھاﺅ فی من 1500 تا 1550 روپے رہا۔ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاﺅ فی من 7900 تا 8000 روپے رہا پھٹی کا بھاﺅ فی 40کلو 3300 تا 3700 روپے رہا بنولہ کا بھاﺅ 1550 تا 1600 روپے رہا۔ بلوچستان میں پھٹی کا بھاﺅ فی 40 کلو 3500 تا 3600 روپے رہا۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 550 روپے کم کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 7750 روپے کے بھاﺅ پر بند کیا۔کراچی کاٹن بروکرزفورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں روئی کے بھاﺅ میں ملا جلا رجحان کہاجاسکتاہے خصوصی طور پر چین اور امریکہ کے مابین تنازعہ شدت پکڑ گیا ہے جس کے باعث پوری دنیا کا کاروبار متاثر ہورہا ہے جس کے اثرات ہمارے کاروبار پر مرتب ہو رہے ہیں خصوصی طور پر گزشتہ دنوں نیویارک کاٹن کے بھاﺅ میں نمایاں گراٹ کے اثرات مقامی کاٹن پر نظر آیا اور روئی کا بھاﺅ گزشتہ ہفتے کے دوران تقریبا فی من 600 تا 700 روپے کی نیچی سطح پر آ گیا تھا دوسری جانب بھارت میں روئی کے بھاﺅ میں نمایاں کمی واقع ہوئی شنکر 6 کوالٹی کی روئی کا بھاﺅ ایک روز می فی کینڈی (356 کلو)یکمشت 1500 روپے کم ہوگیا حالانکہ بھارت میں روئی کی پیداوار تخمینہ سے تقریبا 55 لاکھ گانٹھیں کم ہونے کے باوجود روئی کے بھاﺅ میں نمایاں کمی ہوئی اطلاعات کے مطابق بھارت میں ٹیکسٹائل سیکٹر مسائل کا شکار ہے۔ جبکہ چین میں بھی روئی کے بھاﺅ میں مجموعی طورپر کمی رہی اس کی ایک وجہ امریکا کے ساتھ اقتصادی تنازعہ میں شدت اور ڈالر کے نسبت چین کی کرنسی میں گراٹ بھی ہے۔ گو کہ یو ایس ایڈ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتہ کے دوران چین نے امریکا سے تقریبا 60 ہزار گانٹھوں کے درآمدی معاہدے کئے ہیں ہوسکتا ہے کہ یہ معاہدے معاملات میں شدت آنے سے قبل کئے ہوئے ہوں۔کشمیر کے تنازعہ کے سبب پاکستان و بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کے باعث پاکستانی حکومت نے بھارت کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے پاکستانی کاٹن پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں پاکستان کے ملز کئی سالوں سے بھارت سے خاصی مقدار میں روئی درآمد کر رہے ہیں ایک سال تو تقریبا 28 لاکھ گانٹھیں درآمد کی تھی اس کی وجہ بھارت کی روئی کی کوالٹی اور فوری ڈیلیوری ہے پاکستان کی جانب سے بھارتی مصنوعات کی درآمد بند ہونے کی وجہ سے کئی ملز بھارت سے کاٹن یارن اور کومبر بھی وافر مقدار میں درآمد کرتے تھے انہیں بھی مشکلات کا سامنا ہوگا بہر حال اپٹما کے کئی لوگ بھارت سے کاٹن یارن اور کومبر وغیرہ درآمد کرنے کی مخالفت کرتے تھے انکو خوشی ہوگی۔گزشتہ بدھ کے روز کراچی کی ایک مقامی ہوٹل میں کاٹن سے منسلک امریکی نمائندوں نے ٹیکسٹائل ملز مالکان کیلئے سیمینار کا انعقاد کیا تھا جس میں امریکا سے روئی درآمد کرنے کیلئے انھیں پروموٹ کیا جارہا تھا اس سیمینار میں ٹیکسٹائل ملز مالکان نے خاصی تعداد میں حصہ لیا تھا پاکستان کی کاٹن کے متعلق ٹاٹا گروپ کے شاہد ٹاٹا نے تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی تھی جبکہ امریکی کاٹنکے مقامی نمائندے مظہر مرزا اور بیرونی مندوبین نے امریکی کاٹن کے حوالے کی پریزنٹیشن پیش کی تھی۔گزشتہ روز اپٹما کے عہدیداران نے اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر سے ملاقات کی تھی گورنر نے اپٹما کو حائل مسائل کو تحمل سے سنا اور انکے مناسب حل کیلئے مثبت اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔مقامی ٹیکسٹائل مصنوعات اور کاٹن یارن کے بھاﺅ اور مانگ میں سست روی پائی گئی عیدالاضحی کے بعد کاروبار میں اضافہ ہونے کی توقع ہے حالیہ بارشوں کے باعث گو کے کچھ دنوں کے لیے کپاس کی کوالٹی متاثر ہوئی ہے لیکن مجموعی طور پر کپاس کی پیداوار حوصلہ افزا بتائی جاتی ہے ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ بارشیں فصل کو نقصان پہنچا سکتی ہے فی الحال ملک میں کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 25 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہونے کی توقع ہے۔دریں اثنا جمعرات کو منعقد ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پھٹی کا Indicative Price کا تعین کیا جانے والا تھا اس کو ایک بار پھر موخر کردیا گیا کپاس کے کاشتکار حکومت کی جانب سے پھٹی کی امدادی قیمت فی 40 کلو 4000 روپے مقرر کرنے کے حکومت کے وعدے کا انتظار کررہے ہیں عیدالاضحی کی طویل تعطیلات کے سبب آئندہ ہفتہ چھٹیوں میں گزر جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*