ارض کشمیر کے جانباز جوانوں کو سلام

اسد اللہ غالب
سعید آسی نے ایک ویڈیو شیئر کی اور اتفاق کی بات ہے کہ یہی وڈیو چودھری ریاض نے بھی بھجوائی۔ ساتھ ہی فون کیا کہ آپ مجھے بھول چکے ہیں۔ہم برسوں سے نہیںملے مگر کشمیر پر قیامت کی گھڑی نے ہمیں پھر آپس میں مربوط کر دیا ہے۔ چودھری ریاض کا تعلق گوجر خان سے ہے ، انیس سو پچاسی سے ان سے ملاقاتیں شروع ہوئیں، وہ غیر سیاسی الیکشن کے نتیجے میں پنجاب اسمبلی میں آئے تھے۔پھر وقت نے انہیں میاںنواز شریف کا ساتھی بنا دیا۔ وہ دن اور آج کا دن وہ نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔وہ قومی اسمبلی میں بھی پہنچے۔ میں ان کے سامنے ایک تحریک استحقاق بھی بھگت چکا ہوں مگر اس کے نتیجے میں ہمارے درمیان دوستی اور قربت کا پائیدار ر رشتہ قائم ہوا۔میری بد قسمتی ہے کہ ایکٹو جرنلزم سے دور ہو کر گوشہ نشین ہو گیا۔ اب کوئی بھولا بسرا شخص فون کر لے تو تاریخ کا ایک یادگار دھارا آنکھوں کے سامنے لہرا جاتا ہے۔ چودھری ریاض سے پچیس برس سے ملنا نہیں ہوا۔ اب یہ جوایک ویڈیو ارسال کی تو ان کے جذبات کی حدت نے میرے جسم و جاں میں بھی بجلیاں دوڑا دی ہیں۔، یہ ویڈیو نوابزادہ نصراللہ خان کی ایک شعری نشست کی ہے۔یہ تو معلوم نہیں کہ یہ محفل کس زمانے کی ہے مگر زمانے کا تعین کرنا مشکل نہیں، ایساہی زمانہ جب کشمیری کسی بڑی مشکل اور ابتلا میں پھنسے ہوں گے بالکل آج کی طرح، نوابزادہ کے اشعار آج کی تصویر سامنے لاتے ہیں۔سعید آسی اس نظم کو اخبار میں پورا شائع کر دیں تو قارئین بھی اپنے ایمان کو گرما سکتے ہیں۔ نوابزادہ نصراللہ خان تو کبھی ٹھنڈے ہوئے نہیں ، وہ تو یخ ماحول کو بھی گرما دیتے تھے اور لوگوںکو تڑپا دیتے تھے۔چودھری ریاض نے بتایا کہ وہ لندن میں ہیں اور مزید دو تین ہفتے وہیں رہیں گے، بس فون پر چودھری ریاض ہچکیاں بھر رہے تھے،۔ وہ کہہ رہے تھے کہ گوجر خان ان کا گھر ضرور ہے مگر ان کی آنکھیںہمیشہ ان پہاڑی چوٹیوں پر مرکوز رہیں جن کے پار وہ جنت نظیر وادی ہے جو برسہا برس سے لہو لہان ہے۔ جہاں کے گھر گھر سے کشمیریوں کا خون ٹپکتا ہے۔ جہاں کے دریاﺅں سے کشمیریوں کی لاشوں کا تحفہ ملتا ہے۔ جہاں کے جنگلوں میں برہان مظفر وانی کے آزادی کے نغمے گونجتے ہیں۔میںنے پوچھا کہ چودھری صاحب ، میںنے تو ہمیشہ آپ کے ہونٹوںپر بشاشت کھیلتے دیکھی ہے ، یہ آج اس قدر غم زدہ کیوںہو گئے۔ کہنے لگے ، کشمیر پر بھارت نے جو کاری وار کیا ہے،۔اسکے بعد کوئی سنگدل ہی خوش دکھائی دے گا۔ میں تو مسلم لیگی ہوں۔ میرے عظیم قائد جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا۔ انہیں زندگی نے مہلت نہ دی ورنہ نہرو کی مکاری کام نہ آتی اور پاکستان کی شہہ رگ بھارت کے قبضے میں نہ جاتی۔ چودھری صاحب نے کہا کہ پاکستان نے بساط بھر کشمیر کی آزادی کے لئے جدو جد تو کی مگر یہ سرے نہ چڑھ سکی اسلئے کہ ہم قائد کے جمہوری نظریات سے دور ہٹتے چلے گئے تھے اور ہماری پالیسیاں ایک آزاد، خود مختار جمہوری مملکت خداداد پاکستان کی روح کو پامال کر نے لگی تھیں۔ انہوںنے کہا کہ جمہوریت پر پہلا وار ایوب خان نے کیا اورا س کے دور میں پاکستان کو امریکہ کی سیاسی محکومی میں دے دیا گیا اورا سکا بھانڈا ا س وقت پھوٹا جب پشاور کے قریب بڈ بیر سے پرواز کرنے والے ایک امریکی یو ٹو طیارے کو روس نے گرا لیا۔ یہ وہ پہلا لمحہ تھا جب روس نے پاکستان کے گرد سرخ دائرہ کھینچ دیا تھا۔ ایوب کے بعد ایک اور ڈکٹیٹر یحییٰ خان آ گیا۔ اس نے تو پاکستان کو دو لخت کر کے ملک کی جان چھوڑی۔ ایک مختصر سے جمہوری وقفے کے بعد ملک ایک بار پھر مارشل لا کے چنگل میں چلا گیا۔ اور سوویت روس نے وہ کام انجام دینے کی کوشش کی جس کا اس نے یو ٹو کی پرواز گرانے کے بعد سے عزم کیا تھا۔ ہم نے سوویت خطرے سے نبٹنے کے لئے اپنے آپ کو امریکہ کی غلامی میں دے ڈلا اور پاکستان محض ایک طفیلی یا کرائے کا ملک بن کررہ گیا۔ ہم جشن مناتے ہیں کہ ہم نے دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور کو شکست دی ا ور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا مگر یہ نہیں دیکھتے کہ خود ہمارے لئے کیا کیا مصائب کھڑے ہو گئے،ہم اپنی جمہوری منزل سے دور ہو چکے تھے اور کشمیر کی ا س کاز کو بھول چکے تھے جسے قائد اعظم نے ملک کی شہہ رگ کہا تھا۔ بد قسمتی سے ہماری جمہوری حکومتوں کو بچہ جمورا کی طرح کنٹرول کیا گیا ، کسی کو ا سکی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ڈکٹیٹر خود تو ایک ایک عشرہ گزارتے رہے مگر منتخب حکومت اپنی ٹرم کبھی پوری نہیں کرنے پائے۔ مشرف دور میںبھی تین وزیر اعظم آئے۔ اس کی بھی اپنے ہی مہروں سے نہ بن سکی۔مشرف نے ایک ظلم اور کیا کہ پاکستان کو نائن الیون کے بعد امریکی پٹھو بنا دیا۔ اس کردار نے جسد قومی کو لہو لہو کر دیا، پاکستان کے طو ل وعرض میں بے گناہوں کی لاشیں گرنے لگیں ،بم دھماکے ہوئے اور کوئی جگہ محفوظ نہ تھی۔ جی ایچ کیو سے لے کر مسجدوں اورمزاروں تک اور چرچوں سے لے کر اسکولوں اور بازاروں تک ہر مقام لہو لہو تھا۔ مشرف نے ایک ظلم کشمیریوں پر ڈھایا کہ ان کے لہو کا سودا کرنے کی کوشش کی۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے نام پر اس جنت نظیر وادی کے کئی ٹکڑوں کا فارمولہ سامنے آگیا۔ اسے کشمیری کیسے تسلیم کر سکتے تھے۔ انہوںنے اپنے زور بازو سے ا ٓ زادی کی تحریک شروع کی اور قربانیوںپر قربانیاں پیش کیں۔ وزیر اعظم نواز شریف تیسرے دور حکومت میں جنرل اسمبلی گئے تو انہوںنے کشمیر کا ایسا مقدمہ پیش کیا کہ کشمیری پھر پاکستان کی طرف دیکھنے لگے۔ دوسرے دور حکومت میں بھی نواز شریف نے کلنٹن کی مداخلت سے کشمیر کو بچایا اور انتہا پسند واجپائی کو لاہور مدعو کیا۔ چودھری ریاض نے فخر سے بتایا کہ جب وزیر اعظم نواز شریف واہگہ پر واجپائی کا استقبال کرنے گئے تو ان کی کار ڈرائیو کرنے کا اعزاز انہیں حاصل ہوا۔ واجپائی کو مینار پاکستان پر لے جایا گیا جہاں اس نے واشگاف الفاظ میں تسلیم کیا کہ پاکستان ایک حقیت ہے۔ یہ واجپائی بھی انتہا پسند بی جے پی کا نمائندہ تھا مگر نواز شریف کے دلائل نے اسے اپنے موقف سے ہٹنے اور بر صغیر میںدیر پا امن کے لئے مینار پاکستان کی عظمتوں کے سامنے سر جھکا نے پر مجبور کردیا مگر آج ہم اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ اسی بی جے پی کے ایک وزیر اعظم مودی کو اپنی دوسری ٹرم میں کشمیر پر کاری وار کرنے کا موقع ملا۔ یہ کام وہ پہلی ٹرم میں بھی کر سکتا تھا مگر نواز شریف نے شادی ڈپلومیسی سے اسے اپنے مذموم عزائم سے باز رہنے پر مجبور کر دیا۔ بھٹو کو بھی ہمیں یا درکھنا چاہئے جس نے اندرا گاندھی کے ساتھ شملہ سمجھوتہ کر کے نہ صرف ہزاروںمربع میل کا مقبوضہ رقبہ واپس لیا بلکہ نوے ہزار جنگی قیدی بھی رہا کروائے۔ بھٹو نے شملہ معاہدے میں لکھا کہ دونوں ملک کشمیر پر اپنے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے تمام مسائل کا حل دو طرفہ مذاکرات سے تلاش کریں گے مگر اب پاکستان کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مودی نے نہ اقوام متحدہ کی قراردادیں باقی رہنے دیں۔ نہ شملہ سمجھوتہ اور نہ اعلان لاہور۔ اب نہ کوئی کنٹرول لائن ہے۔ بلکہ ریاست جموں و کشمیر کی ہیئت تبدیل کر دی گئی ہے،۔ اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔اگرچہ مودی یہ سمجھتا ہے کہ ا س نے آخری وار کر لیا اور اس نے اپنے ٹی وی پر بیٹھ کر بڑی شانت تقریر بھی کی ہے مگر وہ جان لے کہ کشمیری قوم کا مزاج باقی قوموں سے الگ ہے۔ وہ محکومی اور غلامی کو برداشت نہیں کرتے۔ وہ جانیں لڑا تے رہتے ہیں اورلڑاتے رہیں گے۔ جمعرات کو سری نگر کے لوگ کرفیو کی پابندیاں توڑ کر گھروں سے نکلے اور آزادی آزادی کے نعرے دیوانہ وار لگانے لگے۔ بھارتی افواج نے ہٹلر کے نازی جرمنی اور اسرائیل کی خون آشام فوج کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بے دریغ فائر کھولا اور سری نگر کے ایک چھوٹے سے ہسپتال میں پچاس شہیدوں کی لاشیں لائی گئیں۔ کارگل اور لداخ میں کرفیو نافذ نہیں تھا۔ وہاں بھی لوگ باہر نکلے اور ہنگاموں پر قابو پانے کے لئے دفعہ ایک سو چوالیس کے نام پر کرفیو نافذ کر دیا گیا۔چودھری ریاض کی کال طویل ہوتی جا رہی تھی۔ میںنے کہا کہ چودھری صاحب کوئی حل بھی تو بتایئے۔ کہنے لگے حل تو خود کشمیری نکالیں گے۔ بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کی ساری توجہ اپنی اپوزیشن کو رگڑا دینے پر مرکوز ہے۔ کوئی منتشر قوم کسی دوسرے محکوم کی کیا خاک مددکر کر سکتی ہے۔ہمیں اپنی جیلیں بھرنے سے فرصت ملے تو کشمیر کا کوئی حل سوچیں۔ مگر میں پھر بھی کہتا ہوں کہ باہمی محاذ آرائی سے بالا تر ہو کر پاکستانی قوم کو کشمیریوں کی خاطر اتحاد کا ثبوت دینا چایئے ا ور اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا چاہیے کیونکہ کوئی حل نکلنا ہے تو مذاکرات کا رستہ بند ہوچکا۔ اب تو طاقت ہی بر صغیر کی قسمت کا فیصلہ کرے گی اور ہمیں اپنی مسلح افواج پر مکمل بھروسہ ہے۔ کشمیر کا حل ان کے ٹریگر کے ذریعے ہو گا

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*