پاکستان میں ٹیلنٹ کمی نہیں ،حیدر علی

لاہور (سپورٹس نیوز) اٹک سے تعلق رکھنے والے قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بیٹسمین حیدر علی نے کہا ہے کہ وہ لمبی اننگز کھیلنے کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کررہے ہیں،وہ فارغ وقت میں انٹرنیشنل کرکٹرز کی ویڈیوز دیکھتے ہیں، بطور اوپنر وکٹ بچانا اہم ہے کیونکہ اوپنرز کے جلد آٹ ہوجانے سے پوری ٹیم پر دبا بڑھ جاتا ہے ،نیشنل کرکٹ اکیڈمی اور انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کوچز کا تجربہ اس ہنر کو سیکھنے میں ان کے لیے مددگار ثابت ہورہا ہے، کوچز نے دورہ سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے دوران میری بھرپور رہنمائی کی۔انہوں نے سمجھایا کہ اعتماد سے کھیلتے رہو اور اسکور بورڈ کو متحرک رکھو، اےک انٹر وےو کے دوران حےدر علی نے کہاکہ پاکستان میں ٹیلنٹ کمی نہیں مگر بطور بیٹسمین ہمیں نصف سنچری کو سنچری میں تبدیل کرنے کا آرٹ سیکھنے میں وقت لگتاہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے4سالہ ڈومیسٹک کرکٹ کیرئیرنے کئی نشیب و فراز دیکھے مگردورہ سری لنکا کے لیے قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم میں شمولیت سے میری صلاحیتوں میں نکھار آیا۔ کوچز نے میری قابلیت کی نشاندہی کرتے ہوئے مجھے کھیل میں بہتری کےگر سیکھائے اور یہی وجہ ہے کہ دورہ سری لنکا میں میری کارکردگی بہترین رہی۔ دورے کے دوران 5 میچوں میں 214رنز بنانے والے 18 سالہ نوجوان کرکٹر کا بہترین سکور 93 رنز ناٹ آٹ تھا۔ حیدر علی نے کہا کہ سری لنکا ٹور پر میں نے5 میچوں میں 3 نصف سنچریاں سکور کیں۔مگر مجھے سنچری نہ کرنے کا دکھ تھا ۔ جنوبی افریقہ روانگی سے قبل میں نے کوچز سے مشاورت کے ساتھ ساتھ دور حاضر کے انٹرنیشنل کرکٹرز کی بیٹنگ ویڈیوز دیکھنا شروع کردیں۔جس سے مجھے نصف سنچری کو سنچری میں بدلنے کا حوصلہ ملا۔ حیدر علی نے کہا کہ دورہ جنوبی افریقہ کے دوران میں نے صرف ایک سنچری سکور کی مگر یہاں مجھے اپنی اننگز کو طول دینے کے آرٹ پر عمل درآمدکرنے کا موقع ملا ۔سیریز میں حیدر علی نے 7 میچوں میں 317 رنز بنائے ، جس میں 1 سنچری اور 2 نصف سنچریاں شامل تھیں۔18 سالہ حیدر علی کا عزم ہے کہ رواں سال ایشیا کپ انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستان فاتح ہوگا تاہم ان کاماننا ہے کہ ایونٹ میں کامیابی کے لیے ہمیں کوچز کے مشوروں پر عمل کرناہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*