ڈیرہ اسماعیل خان ، فائرنگ اور خود کش حملہ ، 6پولیس اہلکاروں سمیت 10افراد شہید،متعددزخمی

ڈیرہ اسماعیل خان (اے این این ) ڈی آئی خان میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پشاور میں ادا کر دی گئی۔ اس موقع پر پولیس حکام اور صوبائی حکومت نے حوصلے بلند ہونے کے عزم کو دہراتے ہوئے دہشت گردوں کے مکمل خاتمہ تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ڈیرہ اسماعیل خان میں فائرنگ اور خود کش حملہ کے نتیجے میں 6پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید جبکہ 35 سے زائد زخمی ہو گئے۔ شہید ہونے والے دو پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کی گئی۔شہید اہلکاروں کو اس موقع پر سلامی پیش کی گئی اور پھولوں کی چادریں بھی چڑھائی گئیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر نعیم خان نے اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہادتیں خیبر پختونخوا پولیس کی روایات میں شامل ہیں۔ پولیس شہدا کے نماز جنازہ میں پولیس کے دیگر اعلی افسران اور اہلکاروں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔دریں اثناءڈیرہ اسمٰعیل خان میں قائم چیک پوسٹ پر فائرنگ اور ہسپتال میں خودکش دھماکے سے 6 پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد شہید اور21 زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطا بق ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن روڈ کوٹلہ سیداں کے قریب دہشت گردوں نے پولیس چیک پوسٹ پر موٹر سائیکل پر سوار دو دہشتگردوں نے فائرنگ کی جس سے 2 اہلکار شہید جبکہ اسپتال (ٹراما سینٹر)کے مرکزی دروازے پر دھماکے میں 5افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ریسکیو1122 کی میڈیکل ٹیم نے لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ڈسٹرکٹ پولیس افسر سلیم ریاض کا کہنا ہے کہ صبح 7 بجکر 45 منٹ پر 4 موٹر سائیکلوں پر نامعلوم مسلح افراد نے چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے ۔ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد زخمیوں کو جس ہسپتال لے جایا گیا تھا کہ وہاں خودکش حملہ ہوا ۔جس میں 3 شہری جاں بحق اور 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ۔ڈی پی او کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ خودکش تھا جس میں ایک خاتون ملوث ہوسکتی ہیں جبکہ حملہ سوچی سمجھی سازش تھی۔انہوں نے مزید بتایا کہ ‘حملے میں 6 سے 7 کلو بارودی مواد کا استعمال کیا گیا تھا، پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے’۔جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لئے گئے ۔ زخمیوں کو بعد میں سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے ۔حکام کے مطابق چیک پوسٹ پر فائرنگ میں شہید ہونے والوں میں کانسٹیبل جہانگیر کا تعلق اعجاز آباد مریالی جب کہ دوسرے اہلکار انعام کا تعلق کورائی سے بتایا گیا ہے، دونوں کا تعلق ایف آرپی سے ہے، واردات کے بعد دہشتگرد فرار ہو گئے تاہم سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے دہشتگردوں کے خلاف سرچ آپریشن شروع کر دیا۔بی ڈی ایس کے مطابق اسپتال کے گیٹ پر ہونے والا آئی ای ڈی دھماکہ تھا۔ڈی ایس پی افتخار شاہ کے مطابق دھماکہ خودکش تھا اور خدشہ ہے کہ خودکش حملہ آور خاتون تھی۔ سی ایم ایچ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال میں 22 زخمی اور 7لاشیں لائی گئی ہیں بعد میں مزید پولیس اہلکار ہسپتال میں دم توڑ گئے جس کے بعد شہادتوں کی تعداد9ہو گئی۔واقعے کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جب کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کی بڑی تعداد علاقے میں تعینات کردی گئی ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے نے مزید دھماکا خیز مواد کی موجودگی کے خطرے کے پیش نظر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے افراد میں پولیس اہلکار سمیت بچے بھی شامل ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک ہے۔ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی)نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنے ایک ساتھی کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا۔ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق اس حملے میں اس کے ایس ٹی ایف اور ٹی ایس جی نامی ذیلی دہشت گرد ٹیموں نے کی۔کالعدم تنظیم نے ڈیرہ اسمعیل میں ہونے والے دہشت گرد حملے کو اپنے ایک ساتھی کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا۔دریں اثناءوزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان نے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور آئی جی پولیس نے رپورٹ طلب کر تے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔وزیر اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان نے ڈی آئی خان میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی جبکہ اسے مذموم کارروائی قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ شہیدوں کی یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، دہشت گردی ایک ناسور ہے جس کا صفایا کرکے ہی دم لیں گے کیونکہ اس طرح کی کارروائی ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔وزیراعلی خیبرپختونخوا نے کہا کہ وہ شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، کوئی بھی مذہب معصوم اور بے گناہ لوگوں پر حملے کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ادھر صدر مملکت عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو ہر ممکن علاج معالجہ فراہم کرنے اور دہشتگردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی ہے ۔ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی واقعے کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ڈیرہ غازی خان جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرائض کی ادائیگی میں شہید پولیس ملازمین پر فخر ہے، ایسی بزدلانہ کارروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہونگے۔گورنر کے پی شاہ فرمان ،وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بھی واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے بھی واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیے جامِ شہادت نوش کیا جن پر فخر ہے۔شہباز شریف نے شہدا کے درجات بلندی کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کی قربانیوں اور ان کی بہادری کے سبب پاکستان میں امن قائم ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ شوقِ شہادت کا عظیم جذبہ رکھنے والے جرات مند بیٹوں کی موجودگی میں پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے کوئی نہیں دیکھ سکتا ۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شہدا کے لواحقین سے ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پوری قوم دہشتگردی و انتہا پسندی کیخلاف متحد اور سینہ سپر ہے، انھوں نے زخمیوں کے بہتر علاج معالجے کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز،سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے بھی واقعہ کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔وزیر صحت کے پی ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے دہشتگرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے تمام زخمیوں کو بہترین اور بروقت علاج فراہم کرنے کی بھی ہدایات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ تمام ملحقہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*