سابقہ ایک صدر اور دو وزیراعظم یا بند سلاسل

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سابق صدر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ،تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اور سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی اس وقت پا بند سلاسل ہےں ان پر متعدد مقدمات چل رہے ہےں
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دو اور منتخب وزراءاعظم پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف بھی اپنے خلاف قائم کئے گئے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں ۔
ملک کی تاریخ میں ایسی کاروائی کا ہونا بلاشبہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ سابق حکمران کرپشن جیسے الزامات کے تحت جیلوں میں ہیںجبکہ ان میں تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دیا گیا ہے یہ واقعی تشویشناک صورتحال ہے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان سابقہ حکمرانوں نے ملک کےلئے کچھ نہیں کیا بلکہ صر ف اپنے اثاثوں میں اضافہ کیا جس کی وجہ سے سے نیب نے اس کے خلاف ریفرنسز دائر کئے اور اس کے علاوہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور متعدد بار ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے والے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف بھی گرفتار ہوئے تھے جو آج کل ضمانت پر ہیں اسی طرح ان کے بیٹے اور قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز بھی گرفتار ہونے کے بعد آج کل ضمانت پر ہیں ۔
ملک کے سابق حکمرانوں اور دیگر اہم رہنماﺅں کا ایک ہی دور میں پابند سلاسل ہونا بلاشبہ قابل غور بات ہے ان رہنماﺅں نے ملک کے عوام کی خدمت کرنے کی بجائے ملک سے مبینہ طورپر پیسہ باہر لے جانے اور بقول موجودہ حکومت کے ملک کو دیوالیہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کے لئے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے اور متعد د رہنماﺅں کے اثاثے منجمد کردیئے گئے ہیں اور ان کے خلاف مزید ریفرنسز بنائے جائیں گے وزیراعظم عمران خان بار بار یہ بیان دے رہے ہیں کہ وہ کرپشن کرنے والوں کو ہر گز نہیں چھوڑ یں گے کچھ بھی ہو جائے ان کو این آر او نہیں دیا جائے گا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکمران کے درمیان یہ ایک ایسی جنگ چھڑ گئی ہے جس کا خمیازہ ملک کے عوام مہنگائی کی صورت میں بھگت رہے ہیں کیونکہ حکومت کہتی ہے کہ ملک کی معیشت کی حالت بہت ہی خراب ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ملک پر قرضہ بھی بہت ہی زیادہ ہے جو سابقہ حکمرانوں کی وجہ سے ہوا ہے اس لئے عوام کو ٹیکس دے کر حکومت کا ہاتھ بٹانا ہوگا اب اس طرح ٹیکسز کے نفاذ کی وجہ سے ملک میں مہنگائی میں بہت ہی زیادہ اضافہ ہوگیا ہے ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نے جو احتساب کا عمل شروع کر رکھا ہے اس میں تیزی لاتے ہوئے ان گرفتار رہنماﺅں پر جن پر مبینہ کرپشن کے الزامات ہیں کا فیصلہ کرکے اس دولت کو قومی خزانے میں جمع کیا جائے اور عوام کو ریلیف دیتے ہوئے مہنگائی پر قابو پانے کے احسن اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام معاشی طور پر مستحکم ہوسکیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*