اسلام آباد کی تنہا اور اداس شامیں

اسد اللہ غالب
سرکاری ملازمت میں تبادلے انہونی بات نہیں۔ میں نے محکمہ تعلیم میں ڈیڑھ برس انگلش کے لیکچرر کے طور پر گزارا اور تین بار تبادلہ ہوا یعنی ہر چھ ماہ بعد نئی جگہ۔ میں سرپٹ بھاگ آیا۔ پلٹ کر نہیں دیکھا کہ محکمے نے مجھ سے کیسے نجات حاصل کی۔ ڈاکٹر آصف جاہ کسٹمز میں اعلیٰ افسر ہیں۔ لاہور میں رہے۔ پھر فیصل آباد اور اب اسلام آباد۔ انسان گھر سے بے گھر ہو جاتا ہے۔ کہاں لاہور کی گہما گہمی اور کہاں اسلام آباد کی ویرانی۔ اس ویرانی نے ان کے قلم کو جھنجھوڑا اور ایک شاہکار تخلیق کے مراحل میں ہے۔ اس کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔ماہ نور بولی بابا شام کو کیا کرتے ہیں؟ بیٹا شام کو اسلام آباد میں اداس اور تنہا ہوتا ہوں۔ فی الحال کرنے کو کچھ نہیں۔ ماہ نور بولی بابا اسلام ا?باد کی تنہا شامیں کے نام سے ایک ناول شروع کر دیں۔ بیٹی کے کہنے پہ ناول تو نہیں شروع کر سکا۔ کتاب کی شروعات کر دی ہے۔ اسلام آباد آنے کے بعد چند دن تو اداسی میں گزرے۔ دفتر سے آنے کے بعد وقت مشکل سے گزرتا۔ بڑی بے چینی اور بے کلی سی رہتی۔ کیا کروں۔ کدھر جاﺅں؟ پچھلے 25 سال سے مغرب سے عشاء تک ایک ہی روٹین رہی یعنی مغرب سے عشاء تک روزانہ بلا ناغہ غریب اور نادار مریضوں کی خدمت اور علاج۔ چاہے سرگودھا سے آمد ہو یا کسی دور دراز آفت زدہ علاقے سے ہمیشہ مغرب کی نماز 449 جہاں زیب بلاک علامہ اقبال ٹاﺅن میں ادا ہوتی اور اس کے بعد چل سو چل مریض آتے۔ چیک اپ کروا کے دوائیں لیتے د±عائیں دیتے جاتے۔ ان مریضوں کی دعاﺅں کی بدولت اللہ نے ہمیشہ کرم کیا۔ اس کا فضل شامل حال رہا۔ خدمت خلق کا ننھا پودا جو 25 سال پہلے لگایا تھا۔ وہ اب تناور درخت بن چکا جس کی شاخیں ملک کے کونے کونے کے علاوہ دنیا بھر میں پھیل چکی ہیں۔ جب بھی ملک کے کسی حصے میں کوئی ا?فت، زلزلہ، سیلاب وغیرہ آتا ہے۔ الحمدللہ کسٹمز ہیلتھ کئیر سو سائٹی کی ٹیمیں دادرسی کے لیے پہنچ جاتی ہیں۔ اسلام آباد کی تنہا شاموں کوخوش گوار اور بامقصد بنانے کے لیے آتے ہی کام کا آغاز کر دیا۔ اسلام ا?باد کلیکٹریٹ کی کلیکٹر سیما رضا بخاری اور ایڈیشنل کلیکٹر اشفاق احمد کے تعاون سے کسٹم ہاﺅس کے آفیسرز اور ملازمین کے لیے ایک خوبصورت ڈسپنسری بنائی جس کا افتتاح محکمہ کسٹمز کے نیک نام اور نام ور آفیسر استاد محترم محمد رمضان بھٹی نے کیا۔ الحمدللہ اسی دن G-10 مرکز کے غریب نادار لوگوں نے پی ایچ اے فلیٹس میں ایک اور ڈسپنسری بنا ڈالی۔ یوسف شاہ کا شانگلہ سے تعلق ہے۔
این جی اوکے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان سے کئی سال پہلے تعلق بنا جو ابھی تک برقرار ہے۔ شانگلہ میں 2016 کے زلزلے کے دوران ان کے توسط سے زلزلہ زدگان کی خدمت کی۔ یوسف شاہ نے ڈسپنسری کے لیے پی ایچ اے فلیٹس میں ایک فلیٹ کا بندوبست کر لیا۔ دنوں میں فلیٹ تیار ہو گیا۔ 8 فروری 2019 کو سینٹر طلحہ محمود، ڈاکٹر سعید الٰہی، چیئرمین ہلال احمر، ممتاز حیدر رضوی، سابق چیئرمین ایف بی آر محترم رمضان بھٹی کی موجودگی میں کسٹمز ہیلتھ کئیر سوسائٹی کی الحمدللہ 43 ویں ڈسپنسری کا افتتاح ہو گیا۔ الحمدللہ مریض آناشروع ہوگئے۔ اسی دن شام کے وقت اسلام آباد کے مضافات میں علی پور میں کیمپ لگایا۔ لاہور سے اشفاق، ڈاکٹر شہروز، علی حیدر، عابد، رفیق سب پہنچے ہوئے تھے۔ اسلم مروت نے اسلام آباد میں بھی پیچھا نہ چھوڑا۔ وہ بھی اپنی ٹوپی اور ڈنڈے کے ساتھ موجود تھے۔ علی پور میں کیمپ شروع کیا تو گمان ہوا کہ ہنزہ یا گلگت اور بلتستان میں بیٹھے ہیں۔ بچے، بوڑھے نوجوان لڑکے لڑکیاں سارے کے سارے بلتی اور ہنزئی۔ جعفر شاہ ڈرائیور نے بتایا کہ یہ پورا علاقہ بلتستان کے لوگوں سے آباد ہے۔ رات گئے تک سینکڑوں مریضوں کا علاج کیا۔ یہاں آکر اندازہ ہوا کہ اتنی بڑی ا?بادی کے لیے کوئی کلینک یا ہسپتا ل نہیں ہے۔ کیمپ لگنے سے علاقے کے لوگ بہت خوش تھے۔رات گئے تک مریض آتے گئے۔ اسلم مروت بچوں میں حسبِ معمول تحائف کی صورت میں خوشیاں بانٹتے رہے۔اسلام آباد میں G-6/4 کے علاقے میں بسیرا ہے جہاں لاہور سے آنے والے دوسرے افسر محترم فضل یزدانی، زاہد کھوکھر، نیئر شفیق، ہارون ملک اور کراچی سے جاوید غنی صاحب بھی قیام پذیر ہیں۔ اللہ والے عبدالرشید شیخ صاحب کبھی کبھی آتے ہیں۔ گھر کے قریب ہی بلال مسجد ہے۔ جہاں الحمدللہ باجماعت نماز پڑھنے کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔ مسجد میں چھوٹا سا مدرسہ ہے جہاں اٹھمقام کشمیر سے آئے ہوئے بچے مقیم ہیں۔ میس کے ڈائننگ ہال کی الماریوں میں دوائیاں سجا لیں۔
دوائی لینے کے لیے مدرسے کے بچوں کی آمد شروع ہو گئی۔ الحمدللہ اس پاس سے بھی مریض آنے لگے۔ لاہور اور اسلام آباد کا موسم بھی الگ ہے اور دونوں شہروں کا مزاج بھی الگ ہے۔ لاہور عام لوگوں کا شہر ہے۔ جبکہ اسلام آباد بابوﺅں اور گریڈوں کا شہرہے۔ کبھی کبھار تو یہاں رہ کر ایسے لگتا ہے کہ اسلام آباد میں انسان نہیں بلکہ انسان نما گریڈ بستے ہیں۔ ا?پ رات کے کسی حصے میں لاہور کی کس گلی کا رخ کر لیں وہاں انسان ملیں گے اور زندگی رواں رواں ہوگی جبکہ اسلام آباد شام ہوتے ہی ویرانی کا منظر پیش کرتا ہے۔ سڑکیں ویران ہو جاتی ہیں۔ اسلام آبادکے گریڈوں میں پلنے بڑھتے والے بابو اسلام آباد کلب کا رخ کرتے ہیں جہاں صبح سے شام تک گریڈوں اور تنخواہوں کی باتوں کا دوبارہ تذکرہ ہوتا ہے۔ شام کو اکثر G-6/4 کی سڑکوں پر پھرتے ہوئے لگتا ہے کہ یہاں کے لوگ سِرشام ہی سو گئے ہیں۔ بہرحال اسلام آباد ملک کا خوبصورت ترین شہر ہے۔ صاف و شفاف سڑکیں اور صاف گلیاں جتنی بھی بارش ہوجائے۔ کہیں پانی کھڑا نہیں ہوتا۔ فجر کے بعد آپ کسی بھی سڑک یا پارک میںسیر کے لیے چلے جائیں۔
کھلی فضا میں سیر کرنے اور لمبے سانس لینے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ الحمدللہ اسلام آباد میں تین ڈسپنسریاں بنانے کے بعد یہاں اپنا قیام اچھا لگنے لگا ہے اللہ نے شروع سے ہی غریب اور نادار مریضوں کی خدمت کی توفیق دی ہے۔ کسٹم ہاﺅس میں سٹاف کے لوگوں کا علاج ہو رہا ہے۔
پی ایچ اے فلیٹس میں آس پاس کے غریب لوگوں کی خدمت ہو رہی ہے اور یہاں G-6/4 میں مدرسہ کے بچوں کی خدمت جاری ہے۔ آس پاس نے غریب لوگوں کی خدمت بھی جاری ہے۔ پیر سے لے کر جمعہ اسلام آباد میں قیام ہوتا ہے۔ جمعہ کا انتظار ہوتا ہے۔ جمعہ کی شام لاہور روانگی ہوتی ہے۔ لاہور پہنچ کر ایسے لگتا ہے کہ یہاں سے گئے بہت دن بیت گئے ہیں۔ جمعہ کو جلد ی پہنچ جائیں تو ہسپتال میں پہنچ کر مریضوں کا چیک اپ اور علاج شروع ہو جاتا ہے۔ ہفتہ بھر مریض منتظر رہتے ہیں سوموار کے دن صبح سویرے واپسی ہوتی ہے۔ کسٹمز کے درویش منش کولیگ محترم سید احمد عالم صاحب تشریف لائے۔ انہوں نے زبردست آپ بیتی لکھی ہے۔ ان سے دل کی باتیں ہوئیں۔
شام کے وقت اسلام آباد کے مشہور عالم دینی، محقق اور سکالر ڈاکٹر ساجد الرحمن سے ملنے کے لیے بحریہ ٹاﺅن کا رخ کیا۔ ڈاکٹر ساجد الرحمن سے کئی سال پہلے ملاقات ہوئی وہ اسلام کے روشن خیال سکالر ہیں۔ ماشاء اللہ گدی نشین ہیں۔ دینی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیرت النبی ان کا خاص موضوع ہے۔ اسلام آباد میں (اللہ کعبہ اور بندہ) کی تقریب رونمائی میں انہوں نے شرکت کی تھی۔ ان کے پر اثر خطاب نے سامعین پہ سحر طاری کر دیا تھا۔ علامہ صاحب سے حج کے سفر کا تذکرہ ہوا۔ مکہ اور مدینہ کے روحانی سفر کے بارے میں تبادلہ خیالات ہوا۔علامہ صاحب نے بتایا کہ (اللہ کعبہ اور بندہ) پڑھ کر ایسے لگتا ہے کہ بندہ ڈاکٹر ا?صف محمود جاہ کے ساتھ مکہ اور مدینہ کی گلیوں میں محوِ سفر ہے۔
کتاب پڑھ کر بندہ اللہ اور اس کے نبی کے عشق میں کھو جاتا ہے۔ واپسی پر فرینٹیر میڈیکل کالج کے 92 سالہ پرنسپل ڈاکٹر اے خاں سے بات ہوئی۔ تعارف کرانے پر پتہ چلاکہ وہ بھی Kemcolian ہیں۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کاتعارف کراتے ہی مہ وسال کے سارے پردے اٹھ جاتے ہیں۔ ان سے دل کی باتیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت جلد ایبٹ آباد بلائیں گے۔ الحمدللہ دنیا بھر سے ہزاروں لوگ ہمارے ساتھ خیر کے کاموں میں تعاون کرتے ہیں۔ اس تعاون کی وجہ سے خدمت اور علاج کا سلسلہ جاری ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*