بلوچستان بھر کے تمام ہسپتالوں کو ادویات کی فراہمی شروع

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی ہدایت پر محکمہ صحت کی جانب سے صوبہ بھر کے تمام ہسپتالوں کو ادویات کی فراہمی شروع کردی گئی جبکہ اس سلسلے میں ادویات کی کمی کوپورا کرنے کےلئے مزید ادویات بھی خرید لی لی گئی ہیں صوبائی سیکرٹری صحت حافظ عبد الماجد نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت عوام کو صحت کی تمام سہولتیں ان کی دہلیز پر فراہم کرنے کےلئے اقدامات کررہی ہے جبکہ محکمہ صحت بلوچستان اس سلسلے میں پوری طرح متحد ہے ۔
محکمہ صحت کی جانب سے صوبہ بھر کے تمام ہسپتالوں کو ادویات کی فراہمی شروع کرنا بلاشبہ ایک خوش آئند اور قابل تعریف اقدام ہے کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی عدم دستیابی ایک بہت بڑا مسئلہ تھا جیسے گزشتہ حکومتوں نے حل نہیں کیا جس کے باعث غریب عوام کو بازار سے ادویات خریدنی پڑتی تھیں جو بلاشبہ ان پر ایک بہت بڑا بوجھ تھا اب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی ہدایت پر محکمہ صحت نے مذکورہ اقدام اٹھا کر عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا کردیا ہے جوکہ بلاشبہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی عوام کے مسائل کے حل کرنے کی جانب ایک بہت بڑا قدم ہے اور اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عوام کے مسائل حل کرنے کےلئے کوشاں ہیں جو ان کا عوامی نمائندہ ہونے کا ثبوت ہے ۔
یہاں اس بات کا ذکر کرنا از حد ضروری ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کا یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہےے اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر باقاعدہ طور پر چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی ہونا ضروری ہے تاکہ اس میں مبینہ طور پر گڑ بڑ نہ ہوسکے ۔
او پی ڈی میں آنے والی عوام اور ہسپتالوں میں داخل مریضوں کو ادویات کی بلا تعطل اور بلا تمیز ترسیل ہونی چاہےے اس سلسلے میں کسی بھی غفلت اور لاپرواہی پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اگر اس میں کوئی بھی ملوث ہو اس کے خلاف کاروائی بہت ضروری ہے اس پر کسی بھی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہےے کیونکہ یہ خالصتاً عوام کا معاملہ ہے ۔
امید ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان اور محکمہ صحت عوام کو صحت کی مزید سہولتیں بھی فراہم کرنے کے احسن اقدامات کرینگے جن میں ہسپتالوں میں بروقت علاج کی بہتر سہولتوں کی فراہمی ،ڈاکٹر ز اور دیگر عملے کی حاضری کے ساتھ ساتھ تمام ٹیسٹوں کی سہولیات شامل ہےں کو سرکاری ہسپتالوں میں ہی کیا جائے گا اور اس طرح سرکاری ہسپتالوں میں مز ید جدید مشینوں کی تنصیب کے عمل کو بھی شروع کیا جائےگا ۔
ا ن تمام اقدامات کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ ہسپتالوں اور پرائیویٹ کلینکس پر بھی چیک اینڈ بیلنس کا نظام رائج ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ یہاں عوام کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے یہاں بھاری فیسوں کے ساتھ ساتھ ادویات کی بھی ایک بھاری مقدار مریضوں کو لکھ کردی جاتی ہے اور ٹیسٹ بھی مہنگی لیبارٹریوں سے کروانے کی ہدایت کی جاتی ہے جس سے عوام شدید مالی مشکلات کا شکار ہوجاتی ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*