گھریلو سازشیں

تحریر : ممتاز ملک.پیرس
مشترکہ گھروں میں نئی بہو کے آتے ہی کچھ چالاک دماغ اپنے اپنے گھریلو سیاسی کھیل کا آغاز کر دیتے ہیں۔ جیسے کہ ایک گھر میں چار بھائی رہتے ہیں۔ ان میں کوئی سیدھا سادھا ہوتا ہے تو کوئی مکار، کوئی محنتی ہوتا ہے اور کوئی کام چور۔ اکثر لوگوں کی زبانی سننے میں آتا ہے کہ بہو نے گھر آتے ہی بھائیوں میں دراڑ ڈالدی۔ یا پھر گھر میں گھر کے کاموں کو لیکر ہنگامہ آرائی کا آغاز ہو گیا ہے۔ کوئی بھی لڑکی شادی کے بعد گھونگھٹ اٹھاتے ہی نہ تو بدتمیز ہوتی ہے، نہ کام چور۔ کیونکہ اسے اس گھر میں خود کو کارآمد اور سگھڑ ثابت کرنا ہوتا ہے۔ سب کے دل میں اپنی جگہ بنانی ہوتی ہے۔گھر کے کام سبھی گھر کے لوگوں کو مل جل کر کرنا ہوتے ہیں۔ ایک نے کھانا بنایا تو دوسرے نے برتن دھو دیئے ، صفائی کر دی۔ ایک نے کپڑے دھوئے تو کسی نے کپڑے استری کر دیئے تب تک تو گھر کا انتظام بہترین انداز میں چلتا رہتا ہے۔ایسے میں وہ چالباز بھائی جو دوسروں کے سر پر اپنا رعب جمانا چاہتا ہے وہ اپنی بیوی کو کام چوری اور زبان دراز ی کے گر سکھاتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کو نہ صرف مہارانی بنانا چاہتا ہے بلکہ دوسرے بھائیوں کے مال پر بھی نظریں گاڑ کر بیٹھا ہوتا ہے۔ اس کی اکثر توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ ساری بھاوجوں کو اپنی بیوی کی باندیاں بنا کر رکھے۔جبکہ دوسری بھاوجیں اس بات پر کڑھنا شروع کر دیتی ہیں کہ ہم سب کا رشتہ ایک سا ہے تو یہ نوابزادی کون ہوتی ہے ہمیں اپنی ملازمہ بنانے والی۔ یوں کم گو اور شریف یا بزدل بھائی جب اپنی بیوی کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر خود آواز نہیں اٹھاتا تو بیوی خود اپنے خلاف ہونے والی زیادتی پر صدائے احتجاج بلند کر دیتی ہے۔ جس پر سازشی یا بدمعاش بھائی بجائے اپنی حرکتیں درست کرنے کے اور معذرت کرنے کے اپنے بھائی بھابی کیساتھ فساد کا اور بدزبانی کا آغاز کر دیتا ہے۔ یوں گھروں میں فساد، بٹوارے ، اور رشتوں کی کھینچا تانی کا آغاز ہو جاتا ہے۔اگر گھروں کے بیٹے اپنے بیویوں کو بھڑکانے اور دوسروں کو دبانے کا سبق دینے کے بجائے سب کو اپنی مرضی سے بانٹ کر کام کرنے کا موقع دیں اور گھر کی بہووں کو سمجھا دیں کہ یہ گھر سب بہووں کا برابر کا ہے اور اس کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی سب پر برابر کی عائد ہوتی ہے۔ اور کوئی کسی پر پردھان بننے کی کوشش نہ کرے۔ اور آپس میں بہوئیں مل کر کام کا دن طے کر لیں۔ تو یقین جانیں کسی بھی گھر میں بدنظمی اور ناچاقی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایسے میں اگر گھر میں نندیں بھی موجود ہیں تو انہیں بھی ان کاموں میں برابر کی شراکت داری دی جائے اور انہیں مہمان یا بچیاں کہہ کر بھاوجوں پر مسلط کرنے کی کوشش ہر گز مت کیجیئے۔ کیوں کہ یاد رکھیں مہمان ایک دو دن کے لیئے آکر ٹہرنے والے کو کہا جاتا ہے۔ مستقل سب کے سر پر سوار ہونے والے کو یا روز روز آ دھمکنے والے کو نہیں۔وقتی طور پر اگر آپ کسی کو خوش کرنے کے لیئے ایسی بہنوں کی طرفداری کر بھی لیں تو اس سے ایک۔تو وہ بہنیں نکمی اور کام چور بن کر اپنے سسرال میں آپ کی ناک کٹوائیں گی دوسرا ان رشتوں ( نند بھاوج ) کے بیچ جو کڑواہٹ پیدا ہو جائے گی وہ تاحیات کسی طور پر جانے والی نہیں ہو گی۔ بہنوں کو اپنی بیویوں کے معاملات میں دخل دینے سے باز رکھیں۔ کیونکہ شادی شدہ بہن یا بھائیوں کی زندگی میں ان کے ساتھی کے معاملات میں آپ کی دخل اندازی اسے اگر وقتی طور پر نقصان پہنچا بھی دے تو آپ ہمیشہ کے لیئے اپنے ہی بہن یا بھائی کی نظر سے بھی گر جائینگے بلکہ خدا کے حضور بھی میاں بیوی میں جدائی ڈالنے والے شیطان کے چیلوں میں شمار کیئے جائینگے۔ جس کا ٹھکانہ جہنم کے سوا کچھ اور نہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*