کلبھوشن جادھو “دہشت گرد” ثابت!!!!

تحریر:محمد اکرم چودھری
عالمی عدالت انصاف سے بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن جادھو کو رہا نہ کرنے کا فیصلہ آنے کے بعد یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان نے بھارتی جاسوس کو جن الزامات پر گرفتار کیا اور جو شواہد عدالت میں پیش کیے گئے ان میں اتنی جان تھی کہ پاکستان کے موقف کو عالمی عدالت انصاف میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ کلبھوشن جادھو کو فوجی عدالت سے تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ بھارت کی طرف سے عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن کی سزا کی معطلی اور بری کرنے کی اپیل مستر ہوئی ہے دوسری طرف پاکستان سے کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی فراہم کرنے اور سزائے موت پر موثر نظر ثانی کے لیے بھی کہا گیا ہے۔اس کیس نے بھارت جو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت، پاکستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے، پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے، پاکستان میں بدامنی پھیلانے، دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔ کلبھوشن جادھو کی گرفتاری اس کے اعترافی بیان اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد کسی کو شبہ نہیں رہنا چاہیے کہ پاکستان میں بدامنی، تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے اصل میں کس کا ہاتھ ہے۔ پاکستان میں بڑی تعداد میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں بیرونی ہاتھ ملوث رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس میں ایک ہاتھ کا اضافہ بھی ہوا ہے۔ یہ وہ ہاتھ ہے جسے ہم دہائیوں تک سنبھالتے رہے، ان کے خیال کرتے اور ان کی دیکھ بھال میں اپنا وقت اور سرمایہ بھی خرچ کرتے رہے، مشکل وقت میں اپنے دروازے ان کے لیے کھول دیے، ان کی جنگ لڑتے رہے، ان کے تحفظ کو یقینی بناتے بناتے ہم خود غیر محفوظ ہو گئے اور ا?ج وہ ہمیں اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لیے غیروں کے ہاتھوں میں کھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ بہرحال افواج پاکستان میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ براہ راست بھارت اور اس کے آلہ کاروں کو ٹھیک کر سکے، انکی مذمت اور مرمت کر سکے۔ کلبھوشن جادھو کی گرفتاری اور اس کو دی جانے والی سزا مذمت اور مرمت کی تازہ،واضح اور مستند مثال ہے۔قارئین کرام کلبھوشن جادھو پہلا شخص نہیں ہے جس کے ذریعے بھارت نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے۔
بھارت کی طرف سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا یہ سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے۔ کلبھوشن جادھو پاکستان میں گرفتار ہونے والا پہلے بھارتی جاسوس نہیں۔ انیس سو تہتر میں کشمیر سنگھ جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوا تین دہائیوں سے زائد عرصہ پاکستانی جیلوں میں گذارنے کے بعد اسے دو ہزار ا?ٹھ میں رہا کیا گیا۔ دیگر جاسوسوں کے برعکس بھارت واپسی پر اس کاخیر مقدم کیا گیا۔
انیس سو ستتر میں ونود سانہی جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوا انیس سو اٹھاسی میں اسے رہائی ملی ان دنوں وہ بھارت میں سابق جاسوسوں کی فلاح کے لیے ایک تنظیم چلا رہا ہے۔ سرجیت سنگھ نامی جاسوس کو انیس سو بیاسی میں گرفتار کیا گیا وہ دو ہزار بارہ میں رہائی ملنے کے بعد بھارت واپس گیا۔ سرجیت سنگھ کا دعوی ٰہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کے لیے کام کرتا رہا ہے۔ انیس سو نوے میں گربخش رام جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہو ا اسے دو ہزار چھ میں رہائی ملی۔ جاسوس رویندرا کوشک کا کردار بہت دلچسپ ہے، اس نے لمبا عرصہ پاکستان میں گذارا گرفتاری کے سولہ سال بعد جیل میں رویندرا کوشک کی موت واقع ہوئی۔ دو ہزار چار میں رام راج نامی جاسوس کو لاہور میں گرفتار کیا گیا اسے چھ برس کی سزا کاٹنے کے بعد رہائی ملی۔ سربجیت سنگھ کو انیس سو نوے میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث پائے جانے پرموت کی سزا سنائی گئی دو ہزار تیرہ میں قیدیوں کے حملے میں سربجیت سنگھ کی موت واقع ہوئی اس کی آخری رسومات بھارت میں سرکاری اعزاز میں ہوئیں۔ دو ہزار سولہ میں بھارتی کلبھوشن جادھو پاکستان میں مبارک حسین پٹیل کے نام سے آنے والے بھارتی جاسوس کی آمد کا مقصد بلوچستان میں علیحدگی پسندوں سے ملاقاتیں اور پاکستان مخالف جذبات کو ابھارنا اور ملک میں افراتفری اور بدامنی پھیلانا تھا۔ اپنے اعترافی بیان میںاس نے ناصرف سازش کو بے نقاب کیا ہے بلکہ بھارت کا مکروہ چہرہ بھی دنیا کو دکھا دیا ہے۔میرے عزیز پاکستانیو موجودہ حالات میں پاکستان کو اندرونی و بیرونی طور پر بے پناہ مسائل کا سامنا ہے۔ افواج پاکستان کو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔
وطن عزیز کے چپے چپے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جوان قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ کلبھوشن جادھو کی گرفتاری تمام اندرونی و بیرونی دشمنوں کے لیے ایک پیغام ہے۔ پاکستان کے دشمنوں، وطن کی مخالفت کرنے والوں، پاکستان کے اندر بیٹھ کر اسے نقصان پہنچانے والوں کے بارے میں حساس اداروں کے پاس مکمل معلومات موجود ہیں،، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک حساس اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستان کے چوکیداروں کا مشن جاری رہے گا۔قارئین کرام دہشت گردوں کو نشان عبرت بنانا، ملک لوٹنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ملک کی بقا اور سالمیت کے لیے ضروری ہے۔ اس مشن میں ہم سب نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ہمیں ذاتی تعلقات، دوستیوں، کاروبار، مالی فائدے کے بجائے آنے والی نسلوں کے لیے کام کرنا ہے۔ کلبھوشن جادھو کے کیس کے بعد دنیا کو بھی پاکستان کے اندرونی مسائل پر بات کرتے ہوئے ہمسایوں کی کارروائیوں اور ان کے منفی کردار کو بھی دیکھنا ہو گا۔ پاکستان سے ہمیشہ امن اور سلامتی کا پیغام گیا ہے۔دنیا جان لے کہ ہم امن کے سفیر ہیں، ہم دوستی کے قائل ہیں، ہم محبت کے سوداگر ہیں، ہم روشنی پھیلانے والے ہیں، ہم لوگوں کو ملانے والے ہیں، ہم رشتے جوڑنے والے ہیں، ہم تعاون کرنے والے ہیں، ہم رشتے نبھانے والے ہیں، ہم زندہ دل ہیں، ہم کھلے ذہن والے ہیں، ہم شیریں زبان والے ہیں لیکن یہ سب اس وقت تک ہے جب ا?پ ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کریں، ہمارے ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازشیں نہ کریں اگر آپ ہمارے مستقبل سے کھیلیں گے تو جواب پوری طاقت اور شدت سے دیا جائے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*