بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی کاروائیاں

بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں کاروائیاں بدستور جاری ہیں اس نے شہر کے کھانے پینے کی اشیاءبنانے والی فیکٹریاں کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں ،سویٹ ہاﺅس اوربیکریز دیگر مقامات پر چھاپے مارے اور ان میں سے متعدد کو جرمانے اور کچھ کو تنبیہ دی اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے شہر کے متعدد مقامات پر گندے پانی سے کاشت کی گئی سبزیوں کو بھی تلف کیا بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی مذکورہ کاروائیوں پر شہریوں نے مسرت کا اظہار کیا جبکہ اس کی زد میں آنے والی لوگوں نے چیخنا چلانا شروع کردیا ۔
بلوچستان فوڈ اتھارٹی کا فعال ہونا اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں کاروائیاں قابل تعریف اقدام ہے اس سے عوام کو کھانے پینے کی معیاری اشیاءملنے میں مدد ملے گی کیونکہ اس سے پہلے ہوٹلوں ،بیکریز ،سویٹ ہاوئسز اور دیگر اشیاءخوردونوش بنانے والی فیکٹریوں میں حفظان صحت کے اصولوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جارہا تھا جس کی وجہ سے عوام کو مضر صحت اشیاءسرعام فروخت کی جارہی تھیں ان اشیاءمیں دودھ اور دہی بھی شامل ہے جو ہر شخص کی ایک بنیادی ضروریات ہے اور اس طرح گندے پانی سے کاشت کی جانے والی سبزیاں بھی مضر صحت تھیں حالانکہ اس سلسلے میں پہلے بھی بلوچستان ہائیکورٹ نے اس پر پابندی عائد کی تھی اس کے ساتھ ساتھ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو نے ذاتی طور پر اس کا نوٹس لیتے ہوئے گندے پانی سے کاشت کئے جانے والے کھیتوں کا از خود معائنہ کیا اور اس موقع پر انہوں نے بھی اس میں ملوث لوگوں کو یہ کام فوری طور پر بند کرنے کی ہدایات دی تھیں لیکن اتنا کچھ ہونے کے باوجود گندے پانی سے سبزیاں آگائی جارہی ہےں اور اب بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے اس سلسلے میں احسن اقدامات کرکے بلاشبہ ایک اچھا قدم اٹھایا ہے ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کو اپنی مذکورہ کاروائیاں بلا کسی جھجک کے جاری رکھنے چاہئیں اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہےے کیونکہ یہ عوام کی صحت کا مسئلہ ہے ان سبزیوں سے ہیپاٹائٹس سی اور دیگر خطرناک بیماریاں پیدا ہوتی ہےں جو جان لیوا امراض ہیں کیونکہ اس وقت بھی کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جس کا اسباب گندے پانی سے اگائی جانے والی سبزیاں اور پینے کے صاف پانی کا فقدان ہے جس کےلئے متعلقہ حکام کو اقدامات کرنے چاہئیں اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ صورتحال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے جوکہ بلاشبہ عوام کے مفاد میں نہیں ہے اس سلسلے میں عوام کو بھی بلوچستان فوڈ اتھارٹی سے تعاون کرتے ہوئے ان اقدامات میں ان کا ہاتھ بٹانا چاہےے کیونکہ ایسے کاموں کا خاتمہ عوام کے تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا اس لئے عوام کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا خیال رکھنا چاہےے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*