اپوزیشن کی چیئر مین سینیٹ کو ہٹانے اور اجلاس بلانے کی مشترکہ قرار داد جمع

اسلام آباد (آئی این پی)چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کے معاملے پر اپوزیشن کی سینیٹ اور اراکین کے اجلاس میں پارٹی رہنماﺅں کے اختلافات سامنے آ گئے۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو اپوزیشن سینیٹ اراکین کا اجلاس ہوا جس میں پیپلز پارٹی کے رحمان ملک اور شیری رحمان کے درمیان جبکہ مسلم لیگ (ن) کے پیر صابر شاہ اور مصدق ملک کے درمیات سخت تلخ کلامی ہوئی۔ منگل کے روز نجی ٹی وی کے مطا بق اجلاس میں مسلم لیگ (ن)کے پیر صابر شاہ نے کہا کہ ہمیں بتایا نہیں گیا اور ہمیں کہا جا رہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک پر دستخط کیا جائے، اس پر مصدق ملک نے کہا کہ یہ پارٹی کا فیصلہ ہے جس کی وجہ سے ہم سب یہاں پر ہیں، اس پر پیر صابر شاہ نے کہا کہ میں پارٹی کا بڑا ہوں اور میری بڑی قربانیاں ہیں، آپ تو ابھی آئے ہیں، مصدق ملک نے پیر صابر شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ زیادہ اونچی آواز میں بات نہ کریں، اس دوران راجہ ظفر الحق نے معاملات کو ٹھنڈا کیا اور پیر صابر شاہ راجہ ظفر الحق کے کان میں کچھ کہہ کر اجلاس سے رخصت ہو گئے جبکہ دوسری جانب رحمان ملک نے پوچھا کہ کس وجہ سے چیئرمین سینیٹ کو ہٹایا جا رہا ہے ،مجھ سے مشورہ بھی نہیں کیا گیا، رحمان ملک کے اس رویے پر شیری رحمان نے جواب دیا کہ آپ خاموش رہیںدریں اثناءپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے کے لیئے عدم اعتماد کی قرارداد اور سینیٹ کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن سیکرٹری سینیٹ کے پاس جمع کرا دی،قرارداد پر 38 ارکان سینیٹ کے دستخط ہیں،اپوزیشن رہنماﺅں سینیٹر شیری رحمان اور مشاہداللہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں،،اے پی سی میں چیئرمین سینیٹ سے متعلق جو فیصلہ ہوا تھا اس پر عمل درآمد کر رہے ہیں،ایوان میں مشترکہ طور پر اپوزیشن کی واضح اکثریت ہے ،نئے چیئرمین کے نام کا فیصلہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کرے گی۔منگل کو چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق معاملے پرقائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ظفرالحق کی صدارت میں اپوزیشن سینیٹرز کا اجلاس ہوا،اجلاس میں سینیٹر مشاہد اللہ خاں،شیری رحمان،مولاناعطاالرحمان،عثمان کاکڑ،آصف کرمانی،میر کبیر محمد شاہی،سینیٹر ستارہ ایاز، پرویز رشید،مصدق ملک،عبدالقیوم،رحمان ملک ،مصطفی نواز کھوکھر،محمد اکرم،سسی پلیجو،اشوک کمار ،صابر شاہ،بہرہ مند تنگی،روبینہ خالد،جاوید عباسی،اسد جونیجو،رانا مقبول،سلیم ضیا،عبدالغفور حیدری،کلثوم پروین، غوث محمد نیازی،گیان چند، آغا شاہ زیب درانی،سکندر میندھرو، یوسف بادینی،سردار شفیق ترین ،انور لال دین دلاور خان ،عابدہ عظیم اور مولوی فیض محمد، نزہت صادق ،خانزاذہ خان،رانا محمود الحسن،طاہر بزنجو ،اسد اشرف نے شرکت کی،اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق قرار داد پر ارکان نے دستخط کیئے ،اجلاس کے بعد راجہ ظفر الحق کی قیادت میں اپوزیشن سینیٹرز نے قرارداد سیکرٹری سینیٹ کے پاس جمع کرا دی ،قرار داد پر 38 سینیٹرز کے دستخط ہیں،سیکرٹری سینٹ محمد انور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے اندر جو طریقہ کار ہے اسی کے مطابق معاملے کو آگے چلائیں گے،کسی بھی چیئرمین سینٹ کے خلاف پہلی مرتبہ تحریک عدم اعتماد آئی ہے،اپوزیشن کی ریکوزیشن پر اجلاس بلانے کا اختیار چیئرمین سینٹ کے پاس ہے ،اجلاس 14 دن کے اندر بلانے کے پابند ہیں ،جس دن یہ قرارداد پیش ہوگی چیئرمین سینٹ صرف اس دن اجلاس کی صدارت نہیں کرسکتے ،سینٹ سیکرٹریٹ اس معاملے کا بغور جائزہ لے گا،سینیٹر مشاہداللہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے،چیئرمین سینیٹ اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں،ہم نے قرار داد کے ساتھ ریکوزیشن بھی جمع کرا دی ہے،اے پی سی میں چیئرمین سینیٹ سے متعلق جو فیصلہ ہوا تھا اس پر عمل درآمد کر رہے ہیں ،سینیٹ سیکرٹریٹ اب قانون کے مطابق 14 دن میں اجلاس بلائے گا،سینیٹر شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد پر پیپلز پارٹی کے سارے ارکان کے دستخط ہیں جبکہ باقی جماعتوں کی بھی حمایت حاصل ہے،اب 14 دن میں اجلاس بلایا جائے گا،ایوان میں مشترکہ طور پر اپوزیشن کی واضح اکثریت ہے ،نئے چیئرمین کے نام کا فیصلہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کرے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*