اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی تازہ رپورٹ بڑی کامیابی ہے ،صدر آزاد کشمیر

united nations

مظفرآباد (م ڈ )آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارت کی تمام تر سازشوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بھیانک صورتحال پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی فالو اپ رپورٹ کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقو ق کے دفتر ے پیر کے روز جاری ہونے والی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت نے اس رپورٹ کو التوا میں رکھوانے ، ختم کرنے اور رکوانے کے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کی ایک اور علامتی اہمیت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن نے اسے اُس دن جاری کیا جب لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیری بھارتی فوج کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کئے جاے والے برہان مظفر وانی کا تیسرا یوم شہادت منا رہے تھے اور عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقو ق کی بد ترین خلاف ورزیاں بند کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔اُنہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں خاص طور پر بھارتی فوج کی طرف سے طاقت کے اندھا دھند استعمال اور اس کے نتیجہ میں شہریوں کی شہادت بلا جواز گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی بلا روک ٹوک خلاف ورزیوں کو نا قابل تردید شواہد کے ساتھ واضح کیا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک سو ساٹھ سے زیادہ شہری مارے گئے جو گزشتہ دس سال میں سب سے زیادہ تعدادہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے قطع نظر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جان بحق ہونے والوں کی تعداد اس سے کئی زیادہ ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد گزشتہ تین سال میں 1253 افراد جن میں نوجوانوں کی تعداس سب سے زیادہ ہے کو بینائی اور بصارت سے محروم کیا گیا اور گیارہ ہزار لوگو ں کو 12 بور کے چھرے دار بندوق کی فائرنگ سے شدید زخمی کیا گیا ۔ اس عرصے میں مجموعی طور پر ایک ہزار افراد کو قتل اور اٹھائیس ہزار سے زیادہ کو زخمی کیا گیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ رپورٹ میں دیئے گئے اعداد و شمار ” مشت نمونہ خروار است“ کے مصداق محض سرسری جائزہ ہے کیونکہ رپورٹ لکھنے والوں کو بھارت نے مقبوضہ علاقے میں جانے سے روک دیا تھا ۔ مقبوضہ کشمیر کی حقیقی صورتحال رپورٹ میں بیان کردہ حقائق سے کئی زیادہ سنگین اور تشویشناک ہے ۔ رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کے لیے انسانی حقوق کے اعلیٰ اختیاراتی کمیشن آف انکوائری کے قیام کے مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اس کمیشن کا قیام اب نا گزیر ہو چکا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کی روشنی میں کشمیر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین فی الفور منسوخ کئے جائیں اور پیلٹ گن جیسے مہلک ہتھیار کا استعمال فوری طور پر ترک کیا جائے ۔ صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کے اس مطالبہ کا بھی بھرپور خیر مقدم کیا جس میں اُنہوں نے بھارت سے کہا کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا احترام کرے جسے بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے ۔ صدر سردار مسعود خان نے برہان مظفر وانی کے یوم شہادت پر مشترکہ مذاحمتی قیادت کی طرف سے مکمل ہڑتال کر کے بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام کہ وہ بھارت سے آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے دینے پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔ اُنہوں نے کہا کہ کشمیر کی تحریک آزادی کے علم کو وراثت میں حاصل کرنے والے پڑھے لکھے نوجوانوں کا یہ عزم ہے وہ آزادی اور حریت کے کاروں کو منزل تک پہنچا کر دم لیں گے ۔ صدر آزاد کشمیر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ میں ایک مصنوعی طریقے سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا مقبوضہ جموں و کشمیر سے موازنہ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اُنہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی اور تما م شہری حقوق حاصل ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول پر مکمل یقین ر کھنے اور اس سلسلہ میں وہ اقوام متحدہ سے مکمل تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*