کامیابی کا راز!!!!!!

تحریر:محمد اکرم چودھری
ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے چند بڑے ان دنوں اپنے سیاسی بزرگوں کو بچانے اور انہیں دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے عوامی رابطہ مہم پر ہیں۔ اس مشق میں کوئی ضابطہ اخلاق نہیں ہو گا۔ ہر عوامی اجتماع میں جھوٹ تھوک کے حساب سے بولا جائے گا، ہر شہر میں سادہ لوح عوام کی معصومیت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے گی،ملک کے آئینی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی، محاذ آرائی کی کیفیت پیدا کی جائے گی تاکہ سیاسی بزرگوں کو بچایا جا سکے اور اپنی آنے والی نسل کے لیے حکمرانی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ یہ پاکستان کی سیاست کا بنیادی فلسفہ ہے۔ یہاں سیاسی خاندانوں کی حکمت عملی ابو جان سے شروع ہو کر بڑے بیٹے یا بیٹی پر ختم ہو جاتی ہے۔ سب سے پہلے خاندان کی سیاست اور حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے کام ہو گا باقی سب کام اس کے بعد ہیں۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ آج ملک میں جو سیاسی افراتفری ہے،
جو بے چینی ہے اور پریشانی ہے اس کی وجہ کچھ اور نہیں صرف اقتدار کا بدلتا ہوا مرکز ہے۔ طاقت کا تبدیل ہوتا توازن اب طاقت، اقتدار اور اختیار مخصوص خاندانوں سے نکل کر کسی اور طرف گھوم رہا ہے تو دہائیوں تک حکمرانی کرنے والوں کو یہ تبدیلی ہضم نہیں ہو رہی۔ وہ واپسی کے لیے کوشش کر رہے ہیں، چالیں چل رہے ہیں، وار کر رہے ہیں، جوابی حملے کر رہے ہیں، منفی سیاست کر رہے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کارروائیوں کی وجہ سے نقصان پاکستان کا ہو گا، پاکستان کی عوام کا ہو گا لیکن ان کے نزدیک نہ ملک اہمیت رکھتا ہے نہ عوام کی کوئی وقعت ہے انکی زندگی و فلسفے میں حساب و کتاب میں اہمیت صرف اقتدار کی ہے اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے سب کو استعمال کیا جا سکتا ہے سب کو داو? پر لگایا جا سکتا ہے۔آج کا پاکستان ان موقع پرست سیاست دانوں کے نرغے میں ہے جنہوں نے برسوں حکمرانی تو کی لیکن قوم کی تعمیر نہ کر سکے، برسوں حکمرانی کرنے والے ملک کو مضبوط نہ کر سکے، برسوں اقتدار کے ایوانوں میں رہنے والے غربت ختم کرنے کا کوئی فارمولا نہ دے سکے، برسوں اختیارات کا مزہ لوٹنے والے کمزور پاکستانیوں کو طاقتور نہ بنا سکے، برسوں اقتدار میں رہنے والے ملک کے غریبوں کو سکون کی نیند دینے میں کامیاب نہ ہو سکے، دو وقت کی روٹی فراہم نہ کر سکے، غریب کے بچوں کو اچھی تعلیم دینے میں ناکام رہے، عام پاکستانی کو اچھی صحت دینے میں ناکام رہے، علاج کی بہتر سہولیات دینے میں ناکام رہے، سفر کی بہتر سہولیات دینے میں ناکام رہے۔
جتنے بھی حکمران گذرے ہیں، جتنے بھی سیاست دان گذرے ہیں یا موجود ہیں ان سب سے پوچھا جائے کہ سیاسی کیرئیر میں اور دور حکومت میں انہوں نے کتنے ذاتی فائدے حاصل کیے ہیں اور ملک کو کیا دیا ہے تو حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔ ان کے ذاتی کاروبار بھی بڑھے، رقبے بڑھے، بینک بیلنس میں اضافہ ہوا اور اس دوران غریب غریب تر ہوتا رہا اور ملک پر قرضہ بڑھتا رہا۔ کیا وجہ رہی کہ وسائل کی موجودگی میں ملک نیچے گیا، قرضوں کا بوجھ بڑھا، عام آدمی کے لیے وسائل کم ہوئے، ایک ہی ملک، آب و ہوا، حالات میں رہتے ہوئے غریب غربت سے مرتا رہا اور امیر امیر تر ہوتا گیا۔ دونوں ایک ہی ملک کے رہائشی لیکن دونوں کے لیے حالات مختلف کیوں ہیں۔ دونوں کے لیے وسائل مختلف کیوں ہیں، دونوں کے لیے قوانین مختلف کیوں ہیں، دونوں کے لیے مواقع مختلف کیوں ہیں؟؟؟؟قارئین کرام آپ اپنے اردگرد دیکھیں، حالات کا جائزہ لیں، طرز سیاست کو دیکھیں، طرز حکومت پر نظر دوڑائیں، ماضی میں حکمرانوں کے فیصلوں کو دیکھیں، ان کے منصوبوں کو پرکھیں، اپنے وسائل اور مسائل کو دیکھیں، ان کے حالات زندگی کو جاننے کی کوشش کریں آپکو اندازہ ہو جائے گا کہ ہمیشہ حصول اقتدار کے لیے آپکے ووٹ کو استعمال کیا گیا، حکومت حاصل کرنے کے لیے آپکا کندھا استعمال کیا گیا لیکن آپکے لیے کچھ کیا نہیںکیا۔ ہمیشہ آپکے ساتھ ناانصافی کیوں ہوئی، ہمیشہ آپکے ارمانوں کا خون کیوں ہوا، ہمیشہ آپکے حقوق کیوں غصب ہوئے، ہمیشہ آپکے خواب کیوں بکھرے، ہمیشہ آپکی زندگی مشکل کیوں ہوئی۔ آپکو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی کہ حکمران آپکے سب سے بڑے مجرم ہیں، حکمرانوں نے عوام کا گلا گھونٹا ہے۔
ملک وقوم کی تعمیر کا ذمہ جن کا تھا انہوں نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ کاش حکمران پاکستانی عوام کو اپنی فیکٹری، مل یا زرعی رقبہ سمجھ کر چلاتے تو آج حالات بہت مختلف ہوتے، کاش کہ حکمران ملک کو اپنا کاروبار سمجھ کر چلاتے تو ملک خسارے میں نہ ہوتا، بدقسمتی سے ملک اور عوام کو استعمال کیا جاتا رہا اور آج عوام کھانے پینے کو ترس رہی ہے اور ملک ہزاروں ارب ڈالر قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور اس تباہی کے مرکزی کردار ایک مرتبہ پھر عوام کی معصومیت سے فائدہ اٹھانے اور اپنے سیاسی بزرگوں کو بچانے کے لیے سڑکوں پر ہیں۔ کل کے حریف آج حلیف بنے بیٹھے ہیں، عدالتوں سے سزا پانے والے عوامی اجتماعات میں بیگناہی کو رونا رو رہے ہیں۔
کاش عوام کو اتنی اہمیت اقتدار میں دی ہوتی، کاش آتی محنت ملک کے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے کی ہوتی تو آج حالات مختلف ہوتے۔میرے عزیز پاکستانیو چودھری پرویز الٰہی نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کو سرپلس چھوڑا تھا آج پنجاب مقروض کیوں ہے اسکا جواب مسلسل دس سال حکومت کرنے والے شہباز شریف سے لیا جانا چاہیے، میاں نواز شریف کی صاحب زادی سے پوچھا جانا چاہیے جن جائیدادوں کی ملکیت سے وہ انکار کرتی رہی ہیں وہ ان سے فائدہ کیسے حاصل کر رہی ہیں، پرویز مشرف کے ساتھ معاہدے کے تحت بیرون ملک جانے سے انکار کرنے والے اس معاہدے کو کیسے مان گئے، بات کیلبری فونٹ کی ہو، بات اپنے بیانات کی ہو، بات اپنے بڑوں کی کرپشن کی ہو۔ عوام کے سامنے کسی معاملے میں تو سچ بولیں۔ جھوٹ سے کب تک حقیقت کو چھپایا جا سکتا ہے۔ جھوٹ پر قائم عمارت زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی۔ جو کل حکمران تھے جو آج حکمران ہیں اور جو کل حکمران ہونگے سب کے لیے بنیادی چیز صاف گو ہونا اور سچ بولنا ہے جب تک جھوٹ بولا جاتا رہے گا اس وقت تک کامیابی نہیں مل سکتی۔
آج میاں نواز شریف کی مسلم لیگ، آصف علی زرداری کی پیپلز پارٹی، چودھری برادران کی مسلم لیگ، الف سے ی تک تمام مسلم لیگیں، عمران خان کی تحریک انصاف، ایم کیو ایم کے دھڑے، سراج الحق کی جماعت اسلامی، مولانا فضل الرحمان اور اے این پی سمیت سیاسی جماعتیں صرف ایک تہیہ کر لیں کہ جھوٹ نہیں بولا جائے تو یقین مانیں پاکستان میں حقیقی تبدیلی آ جائے گی۔ جو سیاست دان مختلف مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں ان کے لیے بھی یہی بہتر ہے کہ سچ بولیں اور ملک کے لیے آسانی پیدا کریں۔ جھوٹ سے نفرت اور سچ سے محبت میں ہی کامیابی ہے۔غلطی تسلیم کرنے سے ہی اصلاح کا سفر شروع ہوتا ہے۔ سچ بولنے سے ہی کامیابی ہے کیا ہی بہتر ہو کہ سچ کا سفر بھی میاں نواز شریف کی مسلم لیگ سے شروع ہو، وہ عوام کو سچ بتائیں کی ملک کے ساتھ اپنے دور حکومت میں انہوں نے کیا ظلم کیا ہے۔
٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*