مگر مچھوں کو جیل کی طرف ہانکنا اچھا لگتا ہے

تحریر : روشن خٹک
جی ہاں ! سنا تو یہ تھا کہ قانون مکڑی کا جالہ ہے جس میں کمزور پھنس جاتا ہے اور طاقتور نکل جاتا ہے ،وطنِ عزیز میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں ،جہاں امیر اور سرمایہ دار قبیح جرم کا ارتکاب کرتے ہیں، قتل ،کرپشن ، منشیات کی اسمگلنگ، اغواء اور زنا بالجبر جیسے جرائم میں ملوث ہوتے ہیں مگر دولت کے بل بوتے پر بڑے بڑے وکیل کر کے صاف بچ نکلتے ہیں۔ پاکستان کے جیلوں میں صد فی صد غریب لوگ ہی مقید ہو تے ہیں، آمیر اور با اثر لوگ مجرم ہونے کے باوجود محرم سمجھے جاتے ہیں۔ مقننہ (پارلیمنٹ) نے بعض قانون بھی ایسے بنائے ہیں ،جس کی وجہ سے با اثر لوگ قانون کے زد میں نہیں آتے۔پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت آئی، عمران خان وزیر اعظم بنے ،عوام امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ اب تبدیلی آئیگی مگر عوام نے تبدیلی تو دیکھ لی مگر یہ تبدیلی وہ تبدیلی نہیں تھی جس کی وہ آس لگائے بیٹھے تھے بلکہ یو ٹرن والی تھی اور عوام مہنگائی کے دلدل میں پھنس گئے۔مگر ایک کام انہوں نے ایسا بھی کیا اور کر بھی رہے ہیں جس پر عوام بہت خوش ہیں اور عمران خان کو خراج تحسین کا مستحق سمجھتے ہیں وہ کام ،وہ اقدام ہے ،بڑے بڑے با اثرلوگوں کو جیل میں ڈالنے کا، قانون کے شکنجہ میں کسنے کا ، کیونکہ انہی لو گوں نے غریب لوگوں کا استحصال کیا ہے، انہی لوگوں نے ملکی وسائل کو لوٹا ہے ۔
انہی لوگوں نے غریب کے ہاتھ سے دو وقت کی روٹی چھینی ہے۔یہ لوگ غریب عوام کے مجرم تو ہیں مگر غریبوں کی یہ توقع ہر گز نہیں تھی کہ یہ حرام خور سلاخوں کے پیچھے بھی جائیں گے، البتہ عمران خان کو ایسے مجرم صرف مسلم لیگ(ن) ہی میں نہیں، دوسرے پارٹیوں اور اداروں میں بھی تلاش کرنے چا ہیئں۔کیونکہ وطنِ عزیز میں جو بھی شخص اقتدار کی سیڑھی پر اوپر گیا ہے ، اس کا جتنا بس چلا ہے، ہاتھ مارا ہے ،اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ،یہ ظالم طبقہ ملک لوٹنے کے لئے ایک ہو جاتے تھے ، متحد ہو جاتے تھے ، اور(علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ،) بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے۔۔آئے رشوت کی جو زد میں سبھی ایک ہوئے۔۔ ماضی میں تھوڑی بہت رشوت ہوا کرتی تھی مگر پردہ داری ضرور تھی اور گذشتہ چند عشروں سے تو یہ حالت ہے کہ”بقولِ شاعر
یوں تو پہلے بھی تھی ،کامن کبھی ایسی تو نہ
تھی۔۔۔ملک پورے میں کرپشن ایسی تو نہ تھدیا اہلِ سیاست نے کباڑہ اس کا۔۔۔جیسی اب ہے میری نیشن،کبھی ایسی تو نہ تھی۔
گویا پاکستان کو بچانے کے لئے کرپشن میں ملوث ان مگر مچھوں کو جیل کی طرف ہانکنا ضروری تھا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام عمران خان سے اگر مہنگائی کی وجہ سے پریشاں حال ہے تو دوسری طرف ان مگرمچھوں کو پکڑنے اور جیل میں لے جانے پر خوش بھی ہے مگر ساتھ ہی ساتھ وہ اس بات کی بھی آرزو رکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو وطن دشمن سر گرمیوں میں ملوث رہے ہیں ۔
انہیں بھی گرفتار کرکے سخت ترین سزا دی جائے میمو گیٹ، ڈان سکینڈل اور ایسی دوسری کئی مثالیں موجود ہیں جس سے ملک دشمنی کی بو آرہی ہے ، ایسے معاملات کی انکوائری کرکے ملک دشمن عناصر کی بیخ کنی کی جائے۔تاکہ کسی اور کو ملک کے خلاف زہر اگلنے کی جرات نہ ہو۔عوام مہنگائی برداشت کر لے گی، مگر وہ ملک دشمن عناصر کو برداشت نہیں کر سکتی اور نہ ملک لو ٹنے والوں کو ملکی وسائل پر عیش کرنا برداشت کر سکتی ہے۔
عوام کی یہ بھی خواہش ہے کہ ملکی دولت پر ہاتھ صاف کرنے والوں کے ساتھ جیلوں میں نرم رویہ بھی نہ رکھا جائے۔ ان کے پیٹ سے کھایا پیا سیدھی انگلیوں سے کبھی نہیں نکل سکے گا، اس کے لئے انگلیاں ٹیڑھی کرنی ہو نگی۔ان کو عام قیدیوں کے ساتھ رکھوگے ،تب ان کو کھایا ہوا ہضم نہیں ہو گا اور ان کو الٹیاں آئینگی ورنہ یہ صرف ڈکار لیتے رہینگے مگر کھایا ہوا واپس نہیں کریں گے۔ عوام کی یہ بھی خواہش ہے کہ مزید مگر مچھوں کو بھی جیل کی طرف ہانکا جائے کیونکہ انہیں مگر مچھوں کو جیل کی طرف ہانکنا اچھا لگتا ہے۔
٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*