عوام کب ساتھ دیتی ہے؟؟؟

تحریر:محمد اکرم چوہدری
ایران نے امریکہ کا ڈرون طیارہ مار گرایا ہے۔ امریکہ کی طرف سے ایران کو سخت رویے کا سامنا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی نے کہا ہے کہ بیرونی جارحیت کے خلاف کھڑے ہیں۔ یہ واضح پیغام ہے کہ ہماری سرحدیں سرخ لکیر کی مانند ہیں جو بھی دشمن پار کرنے کی کوشش کرے گا اسے تباہ کر دیں گے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی نے امریکہ کے ساتھ تنازع کے حل پر زور دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تصادم نہیں ہو گا۔ امریکی عہدیداروں کی طرف سے دیگر ملکوں پر الزامات کی روش عام ہو گئی ہے۔ وہ دوسرے ممالک پر دباو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے ہمارے خلاف معاشی دہشت گردی شروع کر رکھی ہے اور اب ہماری فضائی حدود کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ امریکہ جھوٹ بول رہا ہے کہ ڈرون بین الاقوامی حدود میں تھا ہم اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے کر جائیں گے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اپنی زمینی، فضائی اور سمندری حدود کا دفاع کریں گے۔
واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے کہ ایران نے امریکی ڈرون آبنائے ہرمز کے قریب گرایا۔ پاسداران انقلاب نے صوبہ ہرمزگان میں جنوبی ساحلی پٹی پر امریکی ڈرون کو ملک کی فضائی سرحد کی خلاف ورزی پر نشانہ بنا کر اپنے عزائم ظاہر کیے۔
قارئین کرام یہ معمولی بات نہیں ہے کہ کسی ملک کو مسلسل معاشی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہو۔ اس کے خلاف محاذ قائم کیا جا رہا ہو، اسے دھمکیاں مل رہی ہوں۔ ان حالات میں بھی امریکہ کو للکارنا، اس کے ڈرون کو گرانا ایرانی قوم کی قوت ارادی اور ہر قیمت پر وطن کی سرحدوں کے دفاع کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے اقدامات کوئی بھی حکومت اس وقت تک نہیں کر سکتی جب تک اسے اپنی عوام کی مکمل حمایت حاصل نہ ہو۔ عوام حکومت کے ساتھ نہ کھڑی ہو۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت کی کون سی ایسی پالیسیاں ہیں جس کی وجہ سے عوام ہمیشہ خارجی و داخلی مسائل میں حکومت کی پہلی طاقت کے طور پر کھڑی نظر آتی ہے۔ عوام کیوں ہر ایسے معاملے پر حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ اسکا جواب یہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی ایرانی حکومت اپنی عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ پابندیوں کے دور میں بھی ایران میں اشیاءخورونوش کی قیمتوں کو قابو میں رکھا گیا، حکومت نے مشکل حالات کا سامنا کیا لیکن عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے اقدامات کیے۔ اشیاءخورونوش کی بلا تعطل فراہمی اور مناسب قیمتوں پر دستیابی نے عوام کو اپنی حکومت کی پہلی فورس بنا دیا ہے۔ اب حالات کچھ بھی ہو جائیں عوام ہمیشہ حکومت کا ساتھ دیتی ہے۔
کتنا وقت گذر چکا ہے امریکہ اور ایران کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ ایران کو پابندیوں کا سامنا رہا، دنیا کے ساتھ ان کے تعلقات خراب رہے لیکن وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔ سختیاں برداشت کیں لیکن جھکے نہیں، دنیا کا مقابلہ کر رہے ہیں اور یہ مقابلہ عوامی قوت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ عوام تب حکومت کا ساتھ دیتی ہے جب حکمران عوام کے مسائل حل کرتے اور انکی زندگی کو آ سان بنانے کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں۔ کھانے پینے اشیاءآسان قیمتوں پر فراہم کر کے آپ ہر اندرونی اور بیرونی خطرے اور دشمنوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن جب عوام کی یہ ضرورت پوری نہ کی جائے تو بیرونی دشمنوں سے نمٹنا تو دور کی بات آپ کے اپنے حمایتی بھی مخالفین کی صفوں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان حالات میں حکومت کا چلنا ممکن نہیں رہتا۔ مقبول قیادت غیر مقبول ہو جاتی ہے، گلیوں بازاروں چوراہوں غرض ہر جگہ حکومت پر تنقید ہوتی ہے۔ حکومتی اراکین کے پاس اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں ہوتا کیونکہ خالی پیٹ، بھوک اور افلاس میں اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، عزم کمزور ہو جاتا ہے،ہمت جواب دے جاتی ہے اور ارادے ٹوٹ جاتے ہیں۔
کیا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس مقصد میں کامیاب رہی ہے۔ اس کا جواب نفی میں ہے۔ کیا اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے گئے ہیں اسکا جواب بھی نفی میں ہے، کیا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے، اسکا جواب بھی نفی میں ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اہم مسئلے کو نظر انداز کیوں کیا گیا ہے۔ اسکا جواب یہ ہے کہ فوڈ انڈسٹری سے منسلک طاقتور افراد مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اس کاروبار سے ان کے مالی مفادات وابستہ ہیں۔ زائد منافع کمانے کے چکر میں وہ عوام کی زندگی کو مشکل تر کیے جا رہے ہیں، چند سرمایہ کاروں کا گروہ پورے ملک کے لیے مسائل کا سبب بن رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اشیائ خوردونوش کی مناسب قیمتوں پر فراہمی کو ممکن بنانا ناممکن ہے۔ مسئلہ صرف نیک نیتی سے اقدامات اور ناجائز منافع ختم کرنا ہے۔ بدقسمتی سے حکومت اس سلسلہ میں مکمل طور پر ناکام اور مافیا کے ہاتھوں یرغمال بنی نظر آتی ہے۔
حکومت نے چالیس ہزار کا بانڈ ختم کر کے اچھا کیا ہے، کیا ہی بہتر ہو کہ پچیس ہزار کا بانڈ بھی ختم کر دیا جائے اور دس ہزار کے بانڈ پر بھی پابندی لگا دی جائے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ فکسڈ اکانومی کے ذریعے کسی اچھی سکیم کو متعارف کروا کر عوامی خدمت کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ کیا ہی بہتر ہو کہ پالیسیاں ستانوے فیصد عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنائی جائیں، کیا ہی بہتر ہو کہ تین فیصد عوام کو ناجائز منافع سے روکنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ اشیائ خورونوش کے معاملے میں کسی سیاست دان، کسی سرمایہ دار، کسی صنعت کار، کسی وڈیرے جاگیردار، کسی جج، کسی جرنیل کسی کی بات نہ سنی جائے صرف ملک کے ستانوے فیصد عوام کی ضرورت کو مدنظر رکھا جائے۔
قارئین کرام موجودہ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کرے ورنہ وہ وقت دور نہیں جب اپنے بھی دفاع کے قابل نہیں رہیں گے، اپنے ووٹرز بھی ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ جنگ بیروزگاری کے خلاف ہو، کرپشن کے خلاف ہو، مہنگائی کے خلاف ہو، چوروں کے خلاف ہو، اندرونی و بیرونی دشمنوں سے ہو کوئی بھی جنگ عوامی طاقت کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی اور یہ طاقت اس وقت حکومت کے ساتھ ہو گی جب حکومت تین فیصد ناجائز منافع خوروں کے بجائے ستانوے فیصد عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرے گی۔
رہی بات امریکہ ایران کے کشیدہ تعلقات کی تو مستقبل میں دونوں ممالک کی کشیدگی پاکستان پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔ ان حالات میں حکمرانوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگا۔ حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے کے بارے کوئی فیصلہ کرے اس سے پہلے کہ عوام حکومت کے مستقبل بارے کوئی فیصلہ کر لے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*