پاکستان ہندوستان کےساتھ بات چیت کےلئے تیار

پاکستان نے ایک بار پھر اپنے ا س موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ہندوستان کےساتھ کشمیر ،دہشتگردی اور تجارت سمیت تمام معاملات پر بات چیت کےلئے ہر وقت تیار ہے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کو لکھے گئے اپنے خط میں تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا ہے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے مزید کہا کہ ہندوستان اگر تعلقات میں بہتری کےلئے ایک قدم اٹھائے گا تو پاکستان اس کے جواب میں دو قدم بڑھائے گا وزیراعظم پاکستان عمران خان ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کےساتھ کہیں بھی اور کسی بھی فورم پر ملاقات اور بات چیت کےلئے تیار ہےں اب ہندوستان ہی بتاسکتا ہے کہ وہ بات چیت کرنا چاہتا ہے یا نہیں ۔
پاکستان کا مذکورہ موقف قابل تعریف ہے کیونکہ پاکستان اس سے قبل بھی اس طرح کی کئی پیشکشیں کرچکا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندوستان نے ہرمرتبہ اپنی روائتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات سے راہ فرار اختیار کی اس سلسلے میں ہندوستان نے ایسے جواز تلاش کئے جن سے اس کو مذاکرات کا الزام بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر لگاتا رہا اور دنیا کو بے وقوف بناتا رہا لیکن بعد میں اس کے الزامات جھوٹے ثابت ہوتے رہے لیکن اس کے باوجود ہندوستان اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا اس نے پاکستان میں ہونےوالے دہشتگردی کے متعدد واقعات میں اپنا کردار ادا کیا اور اس طرح خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا کردار ادا کرتا رہا اس کا ثبوت اس کے گرفتار ہونےوالے جاسوس کلبھوشن یادیو ہے اس کے علاوہ متعدد گرفتار ہونے والے دہشتگردوں کے اقرار ی بیانات سے یہ ثابت ہوا کہ ہندوستان پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہے ۔
اس کے علاوہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں اپنی لاکھوں کی تعدادمیں فوج تعینات کرکے نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے وہ کشمیر یوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کےلئے سر توڑ کوششوں میں مصروف ہے حالانکہ کشمیری عوام اس کو بالکل تسلیم نہیں کررہی ۔
ان تمام حالات واقعات کے باوجود پاکستان کا بار بار تمام مسائل کے حل کےلئے ہندوستان کی مذاکرات کی پیشکش قابل تعریف اقدام ہے اس کے اس اقدام کو کمزوری نہ سمجھا جائے وہ خطے میں امن کا خواہاں ہے اس لئے اس سلسلے میں دیگر عالمی اداروں اور قوتوں کو ہندوستان کو اپنے اس ناروا عمل سے روکنے کےلئے اس پر دباﺅ ڈالنا چاہےے اور اسے ان حرکتوں سے باز رکھنے کا کہنا چاہےے جس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے جوکہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہر گز احسن اقدام نہیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*