مالی سال 2019-20 کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش ، تنخواہوں میں 5 سے 10فیصدتک اضافہ

اسلام آباد(آئی این پی ) پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے مالی سال 2019-20کا 67کھرب روپے مالیت سے زائد کاحجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا جس میں ٹیکسوں کی بھرمارکی گئی ہے جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تین سلیبزکے تحت 5 سے 10فیصدتک اضافہ ، کم سے کم اجرت17500مقرر ، ،تنخواہ دار اورغیر تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں اضافہ، سیمنٹ ، سگریٹ ، چینی ،خوردنی تیل، گھی ،کولڈڈرنکس ،دودھ ،کریم ، خشک دودھ ، زیورات ، ایل این جی ،چکن،مٹن، بیف اورمچھلی ، سونا ، چاندی ، ہیرے ، گاڑیاں مہنگی کردی گئیں ،کاغذ،موبائل سستے ، ریسٹورنٹ اور بیکری کی اشیاءپر سیلز ٹیکس میں کمی ، صنعتی اور برآمدی شعبے کےلئے بجلی اور گیس سستی ، نان فائلر کے لئے 50لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد کی خریداری پر پابندی ختم کردی گئی جبکہ ترقیاتی کاموں کے لیے 1800 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ٹیکس وصولیوں کا ہدت 550 ارب رکھا گیا ہے، ہائی وے اتھارٹی کے لیے 156 ارب روپے ، پشاور کراچی موٹر وے کے سکھر سیکشن کے لیے 19 ارب روپے مختص، دفاعی بجٹ میں اضافہ نہیں کیاجائے گا، تعلیم کے لیے 43 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،کمزور طبقے کو بجلی پرسبسڈی دینے کے لئے 200 ارب روپے ، 10 لاکھ افراد کے لئے نئی راشن کارڈ اسکیم شروع کی جارہی ہے، احساس پروگرام کے تحت وظیفے 5000 روپے سے بڑھا کر 5500 روپے کیے جائیں گے،عمر رسیدہ افراد کے لئے احساس گھر بنانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، بچیوں کے وظیفے کی رقم 750 سے بڑھا کر 1000 روپے کی جا رہی ہے،کمزور طبقے کی سماجی تحفظ کے لئے بجٹ مختص کیا گیا ہے، ایک ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر ٹیکس میں 2.5 ف، 2 ہزار سی سی میں5 فی صد، جب کہ 2 ہزار سے زائد سی سی کی گاڑیوں میں ٹیکس میں 7.5 فی صد اضافہ کیا گیا ہے،گریڈ 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فی صد اضافہ، 17 سے 20 گریڈ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 فی صد اضافہ، 21 سے 22 گریڈ تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ،تمام پنشنرز کی پنشن میں 10 فی صد اضافہ، معذور افراد کے وظیفے میں 1000 روپے کا اضافہ،وزرا نے رضا کارانہ طور پر تنخواہوں میں 10 فی صد کمی کا تاریخی فیصلہ کیا، بجٹ میں کم سے کم تنخواہ 17500 روپے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ منگل کو پاکستان تحریک انصاف کے وزیرِ مملکت برائے محصولات حماد اظہر آج اپنی حکومت کا پہلا سالانہ بجٹ پیش کر دیا ، بجٹ کا حجم 67 کھرب روپے رکھا گیا ہے۔ ترقیاتی کاموں کے لیے 1800 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ٹیکس وصولیوں کا ہدت 550 ارب رکھا گیا ہے۔بجٹ میں وفاقی وزراوں کی تنخواہوں میں 10 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ گریڈ 21 اور 22 کے سرکاری افسران کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ اس دور ان اپنے خطاب میں وزیر مملکت ریونیو نے کہا کہ میں جمہوریت حکومت کا پہلا سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے اللہ رحمن و رحیم کا شکر گزار ہوں۔ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ایک نئے سفر کا آغاز ہوا ہے۔ تحریک انصاف نئی سوچ ‘ نئی کمٹمنٹ اور ایک نیا پاکستان لائی ہے۔ 22 سال کی جدوجہد اور پاکستان کے لوگوں کی مرضی آج ہمیں یہاں لائی ہے۔ اب وقت ہے لوگوں کی زندگی بدلنے کا۔ عوامی عہدوں سے کرپشن ختم کرنے کا ‘ اداروں میں میرٹ لانے کا ‘ معیشت کو مضبوط کرنے کا اور جو لوگ بھلا دئیے گئے ان پیچھے رہ جانے والوں کو آگے لانے کا وقت ہے۔ انہوں نے کہاکہ 1947ءمیں ہماے بڑوں نے اقبال کے خواب کو حقیقت دی اور پاکستان بنایا۔ 1973ءمیں ہم پھر ایک ساتھ مل گئے اور اس ملک کا آئین بنا۔ اب ہم سب اس ملک اور اس کے آئین کے محافظ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آئیے اس حکومت کے منتخب ہونے کے وقت پائی جانے والی معاشی صورتحال کو یاد کریں تاکہ پتہ چلے کہ اگر اس مشکل وقت میں کھڑے ہیں تو آخر یہ کیوں ہوا؟۔ یہ ایک مالی بحران کے دہانے پر کھڑی ہوئی معیشت تھی۔ مجھے کچھ حقائق بتانے کی اجازت دیجئیے۔ پاکستان کا مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں تقریباً 31,000 ارب روپے تھی۔ ان مین سے قریباً 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات اور ادائیگیاں تھیں بہت سے کمرشل قرضے زیادہ سود پر لئے گئے تھے۔ گزشتہ دو سال کے دوران اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے ریزرو 18 ارب ڈالر سے گرتے گرتے 10 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔ عالمی سطح پر پاکستان کے جاری کھاتوں کا خسارہ (Current Account Deficit) تاریخ کی بلند ترین سطح پر 20 ارب ڈالر جبکہ تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال میں ایکسپورٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا یعنی اضافے کی شر ح صفر تھی۔ حکومت کے محصولات اور اخراجات کا فرق یعنی مالیاتی خسارہ 2,260 ارب روپے کی خطرناک حد تک پہنچ چکا تھا۔ اتنا بڑا خسارہ الیکشن کے سال میں مالیاتی بد نظمی کی وجہ سے ہوا۔ بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ 1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔ اور 38 ارب روپے ماہانہ کی شرح سے بڑھ رہا تھا۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی 1300 ارب روپے کے مجموعی خسارے سے ظاہر تھی۔ پاکستانی روپے کی قدر بلند رکھنے کیلئے ار بوں ڈالر جھونک دئیے گئے۔ اس مہنگی حکمت عملی سے ایکسپورٹس کو نقصان پہنچا۔ امپورٹس کو سبسڈی ملی اور معیشت کا نقصان ہوا ۔ ایسے زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا تھا اور یوں دسمبر 2017ءمیں روپیہ گرنے لگا۔ ترقی کا زور ٹوٹ رہا تھا۔ چیزوں کی قیمتوں پر دباﺅ بڑھ رہا تھا اور افراط زر یعنی Inflation ۔ 6 فیصد کو چھو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وقت کی ذمہ داری تھی کہ وہ مناسب اقدامات سے صورتحال کو قابو میں لاتی۔ ہم نے فوری خطرات سے نمٹنے اور معاشی استحکام کیلئے اقدامات کئے جن میں سے چند یہاں پیش ہیں۔ امپورٹ ڈیوٹی میں اضافے سے جولائی تا اپریل کے دوران امپورٹ 49 ارب ڈالر سے کم ہو کر 45 ارب ہو گئیں اور تجارتی خسارہ 4 ارب ڈالر کم ہوا۔ وزیر اعظم کے سمندر پار پاکستانیو ں کو اعتماد دلانے سے Remittances میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ۔ 38 ارب روپے ماہانہ کے حساب سے بڑھنے والے بجلی کے گردشی قرضے میں 12 ارب روپے ماہانہ کی کمی کر کے اسے 26 ارب روپے ماہانہ پر لایا گیا۔ چین ‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے 9.2 ارب ڈالر کی امداد ملی ۔ میں اس امداد پر دوست ممالک کا شکر گزار ہوں۔ ایکسپورٹ میں اضافہ لانے کے لئے حکومت نے یہ اقدامات کئے۔ صنعتی اور برآمدی شعبے کو رعایتی نرخوں پر بجلی اور گیس کی فراہمی۔ کم سود پر قرضوں کی فراہمی ‘ خاص مال پر عائد امپورٹ ڈیوٹی میں کمی کے ذریعے مجموعی طور پر 10 ارب ڈالر کی رعایت ۔ ایکسپورٹ سیکٹر کے لئے وزیر اعظم کے پروگرام میں تین سال تک توسیع۔ چین سے 313 اشیاءکی ڈیوٹی فری ایکسپورٹ کا معاہدہ۔ ان اقدامات کی بدولت موجودہ سال میں برآمدات کے حجم میں اضافہ ہوا ہے۔ نٹ وئر کی برآمد کے حجم میں 16 فیصد ‘ بیڈ ڈویئر میں 10 فیصد ‘ ری ڈی میڈ گارمنٹس میں 19 فیصد ‘ پھلوں اور سبزیوں میں بالترتیب 11 فیصد اور 18 فیصد جبکہ باسمتی چاول کی مقدار میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کے پروگرام کا معاہدہ ہو گیا ہے ۔ آئی ایم ایف کے بورڈ کی منظوری کے بعد اس معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو جائے گی جس کے یہ فوائد ہوں گے۔ اس پروگرام میں ہونے کی وجہ سے ہمیں انتہائی کم سود پر 2 سے 3 ارب ڈالر کی اضافی امداد بھی میسر آئے گی۔ مالیاتی نظم و ضبط اور بنیادی اصلاحات کیلئے حکومت کی سنجیدگی نظر آئے گی جس سے عالمی سرمائے کا اعتماد حاصل ہو گا۔ معیشت کو استحکام حاصل ہو گا اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار ہو گی۔ سعودی عرب سے فوری ادائیگی کے بغیر 3.2 ارب ڈالر سالانہ کا تیل امپورٹ کرنے کی سہولت حاصل کی گئی تاکہ عالمی کرنسی کے ذخائر پر دباﺅ کم ہو۔ اس کے علاوہ حکومت نے اسلامی ترقیاتی بنک سے 1,1 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کے بغیر تیل امپورٹ کرنے کی سہولت چالو کر دی ہے۔ ان اقدامات کی بدولت اس سال کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں 7 ارب ڈالر کی کمی آئے گی جبکہ آئندہ سال مزید 6.5 ارب ڈالر کمی آئے گی۔ بیرونی استحکام کے علاوہ حکومت نے بعض دیگر اقدامات بھی کئے ہیں جن میں سے چند اقدامات پر روشنی ڈالوں گا۔ Asset Declaration schemepr پر عمل جاری ہے جس سے ٹیکس کا دائرہ کار وسیع ہو گا اور بے نامی اور غیر رجسٹر شدہ اثاثے معیشت میں شامل ہوں گے۔ 95 ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کیلئے فنڈز جاری کئے گئے۔ احتساب کے نظام ‘ اداروں کے استحکام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے جن کا ذکر چاہوں گا۔ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کو مزید خود مختاری دی گئی ہے۔ افراط زر کو مانیٹری پالیسی کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا ہے ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا ہے تاکہ دونوں کام بہتر طو رپر ہو سکیں۔ ایک Treasury single Account بنایا گیا ہے اور اب حکومت کی رقم کمرشل بنک اکاﺅنٹ میں رکھنا منع ہے۔ پاکستان بناﺅ سرٹیفکیٹ کا اجراءکیا گیا تاکہ سمندر پار پاکستانی 6.75 فیصد کے منافع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے وطن میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ ایف بی آر نے سرمائے کی کمی دور کرنے کے لئے پچھلے سال کے 54 ارب روپے کے مقابلے میں 145 ار ب روپے کے ریفنڈ جاری کئے ۔ پیچھے رہ جانے والوں کی امداد اور سہولت دینے کے لئے اقدامات Billion Tree Tsunami اور Clean and Green Pakistan ۔ سابقہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے پر خصوصی توجہ۔ انہوں نے کہا کہ اب میں سال 2019-20 کے بجٹ کا تذکرہ کروں گا یقیناً بجٹ بناتے وقت حکومت کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح اور خوشحالی ہے۔ اس بجٹ کی تیاری کے دوران ہم نے جن رہنما اصولوں کو مد نظر رکھا ہے وہ یہ ہیں۔ بیرونی خسارے میں کمی۔ امپورٹس میں کمی جاری رکھتے ہئے اور ایکسپورٹ میں اضافے کے ذریعے بیرونی خسارے کو کم کیا جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ کرنٹ اکاﺅنٹ کا خسارہ رواں مالی سال کے 13 ارب ڈالر سے کم کر کے سال 2019-20ء میں 6.5 ارب ڈالر تک محدود کیا جائے۔ ایکسپورٹ میں اضافے کےلئے حکومت خام مال اور Intermediate Goods کے ڈیوٹی سٹریکچر کے حوالے سے سپورٹ کرے گی۔ ٹیکس ری فنڈ کا ظام بہتر بنائے گی۔ مقابلے کی سستی بجلی اور گیس فراہم کرے گی۔ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو دوبارہ دیکھا جائے گا اور پاکستان کو عالمی ویلیو چین کا حصہ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کے ریونیو کیلئے 5,500 ارب روپے کا چیلنجنگ ہدف رکھا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ اخراجات میں کمی پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ بنیادی خسارہ 0.6 فیصد تک رہ جائے۔ سول اور عسکری حکام نے اپنے اخراجا ت میں مثالی کمی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ 2019-20 ءمیں ہماری بنیادی اصلاح ٹیکس میں اضافہ ہو گ۔ پاکستان میں جی ڈی پی ٹو ٹیکس کی شرح 11 فیصد سے بھی کم ہے جو علاقے میں سب سے کم ہے۔ صرف 20 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں جن میں سے 6 لاکھ ملازمین ہیں۔ صر ف 380 کمپنیاں کل ٹیکس کا 80 فیصد سے بھی زیادہ ادا کرتی ہیں ۔ کل 3 لاکھ 39 ہزار بجلی اور گیس کے کنکشن ہیں جبکہ صرف چالیس ہزار سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ ہیں۔ اس طرح کل 31 لاکھ کمرشل صارفین میں سے صرف 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں۔ بنکوں کے مجموعی طور پر تقریباً 5کروڑ اکاﺅنٹ ہیں جن میں سے صرف 10 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ایک لاکھ کمپنیوں میں سے صرف 50 فیصد ٹیکس دیتی ہیں بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس میں حصہ نہیں ڈالتے۔ نئے پاکستان میں اس سوچ کو بدلنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ہم اپنا ٹیکس کا نظام بہتر نہیں کریں گے پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ تاریخی طور پر ہم نے صحت ‘ تعلیم ‘ پینے کے پانی ‘ شہری سہولیات اور لوگوں سے متعلق کسی بھی چیز پر مطلوبہ اخراجات نہیں کئے۔ اب ہم اس مقام پر آ چکے ہیں جہاں ہمیں قرضوں اور تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔ اس صورتحال کو بدلنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ سول اور عسکری بجٹ میں کفایت شعاری کے ذریعے بچت کی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں سول حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم ہو کر 437 ارب روپے کئے جا رہے ہیں جوکہ 5 فیصد کی کمی ہے۔ عسکری بجٹ موجودہ سال کی سطح یعنی 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا۔ بچت کے ان مشکل فیصلوں کیلئے میں وزیر اعظم عمران خان کے تدبر اور عسکری قیادت خصوصاً آرمی چیف کی سپورٹ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں یہاں واضح کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کا دفا ع اور قومی خود مختاری ہر شے پر مقدم ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اپنے وطن اور لوگوں کے دفاع کیلئے پاک فوج کی صلاحیت میں کمی نہ ائے۔ وزیر مملکت ریونیو نے کہا کہ اس حوالے سے میں چار پالیسی تجاویز کا ذکر کروں گا۔ کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے سبسڈی دی جائے گی۔ بجلی کے صارفین میں تقریباً 75 فیصد ایسے ہیں جو ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ حکومت ایسے صارفین کو لاگت سے بھی کم نرخوں پر بجلی فراہم کرے گی اس کیلئے 200 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے غربت کے خاتمے کے لئے ایک نئی وزارت قائم کی ہے جو ملک میں سماجی تحفظ کے پروگرام بنائے گی اور ان پر عملدرآمد کرے گی۔ احساس سے مدد حاصل کرنے والوں میں انتہائی غریب ‘ یتیم ‘ بیوائیں ‘ بے گھر ‘ معذور اور بے روزگار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دس لاکھ مستحق افراد کو صت مند خوراک فراہم کرنے کے لئے ایک نئی راشن کارڈ اسکیم شروع کی جا رہی ہے۔ ماﺅں اور نوزائیدہ بچوں کو خصوصی صحت مند خوراک مہیا کی جائے گی۔ اسی ہزار مستحق لوگوں کو ہر مہینے بلا سود قرضے دئیے جائیں گے۔ ساٹھ لاکھ خواتین کو ان کے اپنے سیونگ اکاﺅنٹ میں وظائف کی فراہم اور موبائل فون تک رسائی دی جائے گی۔ پانچ سو کفالت مراکز کے ذریعے خواتین اور بچوں کو فری آن لائن کورسز کی سہولت میسر کی جائے گی ۔معذور افراد کو وہیل چیئر اور سننے کے آلات فراہم کئے جائینگے۔ انہو ں نے کہا کہ تعلیم میں پیچھے رہ جانے والے اضلاع میں والدین کو بچے سکول بھیجنے کے لئے خصوصی ترغیبات دی جائیں گی۔ عمر رسیدہ افراد کیلئے احساس گھر بنانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ احساس پروگرام کے تحت بی آئی ایس پی کے زریعے 57 لاکھ انتہائی غریب گھرانوں کو 5 ہزار روپے فی سہ ماہی نقد امداد دی جاتی ہے جس کے لئے 110 ارب روپے کا بجٹ مقرر ہے۔ افراط زر کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے سہ ماہی وظیفے کو 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 5,500 روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غریبوں کی نشاندہی کرنے کے لئے سماجی اور معاشی ڈیٹا کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ کام مئی 2020 ءتک مکمل کر لیا جائے گا اور اس دوران 3 کروڑ 20 لاکھ گھرانوں اور 20 کروڑ آبادی کا سروے کیا جائے گا۔ 50 اضلاع میں بی آئی ایس پی سے مدد حاصل کرنے والے خاندانوں کے 32 لاکھ بچھے 750 روپے فی سہ ماہی وظیفہ حاصل کرتے ہیں جس کا مقصد سکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد کم کرنا ہے۔ اس پروگرام کو مزید 100 اضلاع تک توسیع دی جا رہی ہے اور بچیوں کے وظیفے کی رقم 750 روپے سے بڑھا کر ایک ہزار روپے کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت غریبوں کو صحت کی انشورنس مہیا کی جا تی ہے۔ مستحق افراد کو صحت کارڈ فراہم کئے جاتے ہیں جن سے وہ پورے پاکستان سے منتخب کردہ 270 ہسپتالوں مین ساے کسی میں بھی 720,000 روپے سالانہ تک علاج کروا سکتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں پاکستان کے 42 اضلاع میں 32 لاکھ غریب خاندانوں کو یہ سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں۔ اگلے مرحلے میں اس پروگرام کو ڈیڑھ کروڑ انتہائی غریب اور پسماندہ خاندانوں تک پھیلایا جائے گا۔ اس پروگرام کا اطلاق پاکستان کے تمام اضلاع بشمول ضلع تھرپارکر اور خیبر پختونخوا کے نئے اضلاع اور معذوروں اور ان کے خاندانوں پر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں حکومت صحت ، غدائیت ، تعلیم ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور حفظان صحت وغیرہ کے لئے 93 ارب روپے مختص کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کم آمدن افراد کو سستے گھر بنا کر دینے کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ موسمی تبدیلی کے تلافی کرنے کے لئے بلین ٹری ٹی سونامی اور کلین اینڈ گرین پاکستان پروگرام شروع کیے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے کہ قیمتوں میں کم سے کم اضافہ ہو ۔ لیکن اگر عالمی منڈیوں میں قیمتیں اوپر جانے کی وجہ سے ہمیں قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے تو ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صارفین کو ہر ممکن تحفظ دیا جائے ۔ اس وجہ سے ہم نے کمزور طبقات کو سماجی تحفظ کی فراہمی کے لئے بجٹ مقرر کیا ہے ۔ قیمتوں میں استحکام ہمارے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ ہم مالیاتی پالیسی اور مانیٹری پالیسی کے ذریعے اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے انتظامی اقدامات کی بدولت قیمتوں میں اضافے کا مقابلہ کریں گے ۔ اس حوالے سے حکومت 2019-20 میں مندرجہ ذیل اقدامات کرے گی ۔ بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے قرض حاصل کرنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے ۔ حکومت اب یہ سہولت استعمال نہیں کرے گی۔ افراط زر کے لئے ہمارا وسط مدتی ہدف 5 سے سات فیصد ہے ۔ اس کے علاوہ ہم اچھی حکمرانی پر توجہ دیں گے اور بدعنوانی کے مقابلے کے لئے پرعزم ہیں ۔ ہم اپنے اداروں کو خود مختاری دیں گے ان کی صلاحیت میںاضافہ کریں گے اور ان کی قیادت کا انتخاب قابلیت کی بنیاد پر کریں گے ۔ 2019-20 معیشت کے استحکام کا سال ہوگا ۔ تبدیلی کا یہ مشکل مرحلہ ہم کم سے کم وقت میں پورا کرنا چاہتے ہیں ۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عوام پرمشکل فیصلوں کے اثرات کم سے کم ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ اب میں ترقیاتی بجٹ پیش کرتا ہوں جس کے ذریعے معاشی ترقی میں مدددینے والے انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں کی تعمیر ، معاشی ترقی ، علاقائی ربط اور ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سال قومی ترقیاتی پروگرام کے لئے 1,863 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں سے 951 ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لئے رکھے گئے ہیں جب کہ موجودہ سال یہ بجٹ 500 ارب روپے تھا ۔ ترقیاتی بجٹ کی ترجیحات میں پانی کا نظام نالج اکانومی کا قیام ، بجلی کی ترسیل و تقسیم بہتربنانا ، کم لاگت پن بجلی کی پیداوار ، سی پیک ، انسانی اور سماجی ترقی میں سرمایہ کاری اور متعلقہ شعبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ شامل ہیں ۔ ان میں درج ذیل اہم ہیں ۔ آبی وساءکے بہتر استعمال کے لئے وفاقی ترقیاتی پروگرام کی بنیادی توجہ بڑے ڈیموں اور نکاسی آب کے منصوبوں پر مرکوز ہے ۔ اس غرض سے بجٹ میں 70 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں ۔ دیامر بھاشا ڈیم کے لئے زمین حاصل کرنے کے لئے 20 ارب روپے اور مہمند ڈیم ہائیڈل پاور کے لئے 15 ارب روپے تجویز کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ من میں سے کچھ منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ ہیں ۔ اس غرض سے تقریبا 200 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جن میں سے 156 ارب روپے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے ۔ ترقیاتی بجٹ میں جو اہم منصوبے شامل ہیں وہ ہیں ہیں حویلیاں ، تھاکوٹ سڑک کے لئے 24 ارب روپے ،۔ برہان ہکلا موٹروے کے لئے 13 ارب روپے ، پشاور کراچی موٹروے کے سکھر ، ملتان سیکشن کے لئے 19 ارب روپے اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سوات ایکسپریس وے کو چکدرہ سے باغ ڈھیری تک توسیع دی جائے گی ۔ سمڑیال ، کھاریاں موٹروے تعمیر کی جائے گی اور میانوالی تا مظفر گڑھ روڈ کو دو رویہ کیا جائے گا ۔وزیر مملکت ریونیو نے کہا کہ اس حوالے سے 80 ارب روپے تجویز کئے جا رہے ہیں ۔ داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کیلئے 55 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ انہون نے کہاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں انسانی ترقی کیلئے 58 ارب روپے تجویز کئے جا رہیں۔ صحت ‘ تعلیم ‘ ترقیاتی اہداف کا حصول اور موسمی تبدیلی کے حوالے سے انتظامات ان اہم ترین ترجیحات میں شامل ہیں جن کیلئے سال 2019-20ءمیں فنڈز خرچ کئے جائیں گے۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے 43 ارب روپے کے ریکارڈ فنڈز رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت صوبائی محکمہ ہے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں اس مقصد کیلئے 12 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بلوچستان کی ترقی کیلئے حکومت نے 10.4 ارب روپے سے ”کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج“ کے دوسرے مرحلہ کا آغاز کیا ہے۔ یہ رقم 30 ارب روپے کے پانی اور سڑکوں کے وفاقی منصوبوں کے علاوہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 45.5 ارب روپے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ روزگار پیدا کرنا ہماری اولین ترجیح ہے یہ نوجوانوں ما ملک ہے۔ روزگار تلاش کرنے والے نوجوان مرد و خواتین کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ ہمیں ان کی توقعات پر پورا اترنا ہو گاا۔ اس سلسلے میں اٹھائے گئے چند اقدامات یہ ہیں۔ وزیر اعظم کے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے پروگرام سے 28 صنعتوں کو فائدہ ہو گا اور بے روزگاروں کیلئے کام نکلے گا۔ اس مقصد کے لئے لاہور‘ کوئہ ‘ پشاور ‘ اسلام آباد اور فیصل آباد میں زمین حاصل کر لی گئی ہے اور سرمایہ کاری کے انتظامات مکمل کئے جا رہے ہیں۔ اب یہ سلسلے ملک بھر میں پھیلے گا۔ اس سے کم آمدن والے لوگوں کو چھت میسر آئے گی۔ معیشت کا پہیہ چلے گا۔ Related Infurastructure بنے گا اور بیرونی سرمایہ کاری آئے گی۔ پہلے مرحلہ میں وزیر اعظم نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں 25 ہزار اور بلوچستا ن میں ایک لاکھ دس ہزار ہاﺅسنگ یونٹس کا افتتاح کیا ہے جس میں ماہی گیروں کیلئے کم قیمت ہاﺅسنگ سہولیات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت نیا کاروبار کرنے اور موجودہ کاروبار کو مزید پھیلانے کیلئے سستے قرضے دئیے جاتے ہیں اس اسکیم کے تحت 100 ارب روپے کے قرضے دئیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانے کےلئے حکومت صنعتی شعبے کو بہت سی مراعات اور سبسڈی دے رہی ہے۔ ان میں مندرجہ ذیل اقدامات شامل ہیں گیس اور بجلی کے لئے 40 ارب روپے کی سبسڈی۔ برآمدات شعبے کیلئے 40 ارب کا پیکج۔ حکومت Long Term Trade Financing کی سہولت فرار رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال زرعی شعبے میں 4.4 فیصد کمی ہوئی ہے۔ ذرعی شعبے کو اوپر اٹھانے کےلئے صوبائی حکومتو ںسے مل کر 280 ارب روپے کا پانچ سالہ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے چند نکات یہ ہیں۔ پانی سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کا انفراسٹرکچر بنایا جائے گا۔ جس میں پانی کی کفالت کے منصوبے بھی شامل ہوں گے۔ اس کے تحت 218 ارب کے منصوبوں پر کام ہو گا۔ گندم ‘ چاول ‘ گنے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لئے 44.8 ار ب روپے فرہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ مچھلی کے پوٹینشل سے استفادہ کرنے کے لئے کیکڑے اور ٹھنڈے پانی کی ٹراﺅٹ کی فارمنگ کے منصوبوں کے لئے 9.3 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کیلئے گھریلو مرغ بانی اور بھینس کے بچے کو پالنے کی حوصلہ افزائی کیلئے 5.6 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ زرعی ٹیوب ویلوں پر6.85روپے فی یونٹ کے حساب سے رعایتی نرخ دیے جائیں گے ، بلوچستان کے کسانوں کےلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے 40.60کے تناسب سے مشترکہ سکیم شروع کی ہے جس کے تحت کسان سے صرف10ہزار روپے مہینہ بل وصول کیا جاتا ہے اور 7500روپے تک کا اضافی بل دونوں حکومتیں اٹھا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسان کےلئے فصل خراب ہونے کی صورت میں نقصان کی تلافی کےلئے انشورنش سکیم مہیا کی جا رہی ہے ، اس مقصد کےلئے بجٹ 2019-20میں 2.5ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال ہمارے حکومتی اداروں میں زبردست گھاٹا پڑتا ہے اور یہ نقصان معیشت کی پیداواری صلاحیت ، جدت طرازی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں رکاوٹ ہے ، آنے والے برسوں میں یہ شعبہ حکومت کے اصلاحی پروگرام کا اہم جزو ہوگا اس سلسلے میں corporatizationپرائیویٹائزیشن اور ری سٹرکٹنگ پر مبنی ایک تفصیلی پروگرام پیش کیا جا ئے گا ، انہوں نے کہاکہ اس سال ایل این جی سے چلنے والے دو بجلی گھروں اور چند چھوٹے اداروں کی نجکاری کی جائے گی جس سے 2 ارب ڈالر حاصل ہوں گے ، پاکستان سٹیل ملز کو چلانے کےلئے بیرونی سرمایہ کاروں سے رابطے کئے گئے ہیں اور موبائل فون کے لائسنس سے 1ارب ڈالر متوقع ہیں ، وزیر مملکت نے کہا کہ اس وقت بجلی کا گردشی قرضہ 1.6کھرب روپے ہے ، اسی طرح گیس کا گردشی قرضہ 150ارب روپے ، گردشی بولں کی وصولی نہ ہونے اور ترسیل وتقسیم کے دوران ضائع ہونے والی توانائی کی بنا پر جمع ہوتا ہے ، گردشی قرضے کی وجہ سے حکومت مہنگا قرض لے کر ان incefficient۱۔بجلی اور گیس کے ٹیرف پر نظرثانی کی گئی تا کہ صارف اس کا اثر کم سے کم ہو۔ ۲۔بجلی کے بل ادا نہ کرنے اور بجلی چوری کرنےو الوں کے خلاف ایک منظم مہم شروع کی گئی جس کی بدولت چھ ماہ میں 80ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں ۔۳۔تقریباً تین ہزار میگاواٹ بجلی کی ترسیل میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے ذریعے 80فیصد فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ ختم کردی گئی ۔۴۔مالی مشکلات دور کرنے کےلئے حکومت سبسڈی کے بقایا جات کی ادائیگی کر رہی ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ گردشی قرضے میں اضافہ 38ارب ماہانہ سے کم ہو کر 24ارب تک آگیا ہے ، اگلے چوبیس ماہ میں ایسے مزید اقدامات سے گردشی قرضے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی جس کی بدولت توانائی کا نظام یکسر بدل جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں نئے شامل ہونے والے قبائلی اضلاع کے جاری اور ترقیاتی اخراجات کےلئے 152ارب روپے فراہم کرے گی اس میں دس سالہ ترقیاتی منصوبہ بھی شامل ہے جس کےلئے وفاقی حکومت 48ارب روپے دے گی ، یہ دس سالہ پیکج ایک کھرب روپے کا حصہ ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتیں مہیا کریں گی۔انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ہماری مستقل ترجیح ہے ، سی پیک کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس میں نئے شعبے شامل کئے گئے ہیں جن میں اقتصادی ترقی، زراعت اور خصوصی اکنامک زونز بنانے کے صنعتی ترقی کا حصول شامل ہیں ، ریلوے کے شعبے کو ترقی دینے کےلئے ایم ایل ون منصوبے کےلئے رقوم مختص کی گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ ایک لعنت ہے اس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور معاشی نقصان بھی ہوتا ہے ، ٹریڈ بیس منی لانڈرنگ کے خاتمے کےلئے ایک بالکل نیا نظام تجویز کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو افراد زر کو قابو میں رکھنے کےلئے مانیٹری پالیسی بنانے میں وسیع تر خودمختاری دی جا رہی ہے ۔وزیر مملکت حماد اظہر نے کہا کہ treasury single accountبنایا گیا ہے اور حکومت رقوم کمرشل بینک اکاﺅنٹ میں رکھنے کی ممانعت کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ملازمین اور پنشنرز کےلئے سول حکومت کے گریڈ1سے16تک کے ملازمین اور افواج پاکستان کے تمام ملازمین کو 2017کے مطابق running base payپر دس فیصد ایڈہاک ریلیف الاﺅنس دیا جائے گا ، گریڈ17سے20تک کے ملازمین کو پانچ فیصد ایڈہاک ریلیف الاﺅنس دیا جائے گا ، گریڈ21اور22کے سول ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا کوینکہ انہوں نے ملکی معاشی صورتحال میں بہتری کی خاطر یہ قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے ، وفاقی حکومت کے تمام سول اور فوجی پنشرز کی نیٹ پے میں دس فیصد اضافہ کیا جائے گا ، معذور ملازمین کا 1000 special conveyance allowanceروپے ماہانہ سے بڑھا کر 2000روپے ماہانہ کیا جا رہا ہے ، وزراء، وزرائے مملکت ، پارلیمانی سیکرٹری ، ایڈیشنل سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری کے ساتھ کام کرنے والے سپیشل پرائیویٹ سیکرٹری ، پرائیویٹ سیکرٹری اور اسسنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کی سپیشل تنخواہ میں 25فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ کم از کم اجرت بڑھا کر 17,500روپے ماہانہ کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2019-20کےلئے بجٹ تخمینہ 7,022ارب روپے ہے جو کہ جاری مالی سال کے نظرثانی شدہ بجٹ 5385ارب روپے کے مقابلے میں 30فیصد زیادہ ہے ، مالی سال 2019-20کےلئے وفاقی آمدنی کا تخمینہ 6717ارب روپے ہے جو کہ 2018-19کے 5661ارب روپے کے مقابلے میں 19فیصد زیادہ ہے ، ایف بی آر کے ذریعے 5555ارب آمدن متوقع ہے جس کے مطابق ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریٹیو12.6فیصد ہے ۔ وفاقی ریونیو کولیکشن میں سے 3.255ارب روپے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو جائیں گے جو کہ موجودہ سال کے 2465ارب روپے کے مقابلے میں 32فیصد زیادہ ہیں ، مالی سال 2019-20کےلئے نیٹ فیڈرل ریونیو کی مد میں 3462ارب روپے کا تخمینہ ہے جو کہ جاری مالی سال کے 3070ارب روپے کے مقابلے میں 13فیصد زیادہ ہیں ۔ اس طرح وفاقی بجٹ خسارہ 3560ارب روپے ہوگا ، مالی سال 2019-20کےلئے صوبائی سرپلس کا تخمینہ 423ارب روپے ہے ، مالی سال 2019-20کےلئے مجموعی مالی خسارہ 3.137ارب یا جی ڈی پی کے 7.1فیصد ہوگا جو کہ 2018-19کے مالی سال میں جی ڈی پی کے 7.2فیصد پر تھا۔انہوں نے کہا کہ اس سال پاکستان نے سابقہ حکومتوں کی طرف سے متعارف کرائی گئی ناقص ٹیکس پالیسیوں کے بدترین اثرات کا سامنا کیا ، ان پالیسیوں کو پاکستانی عوام کی تائید حاصل نہ تھی ، پچھلی حکومت نے اضافہ ٹیکس ریلیف فراہم کیا جس سے ٹیکس بیس میں 9فیصد کمی واقع ہوئی ، پچھلءپانچ سال کے دوران حکومت نے ٹیکس محصولات میں اضافے کےلئے صرف ٹیکس ریٹ میں اچانک تبدیلیوں کی اپروش کا سہارا لیا اور زیادہ مستعد ، مساوہانہ اور مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں ٹیکس بیس میں اضافے کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا گیا اور اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے ،اس وقت22کروڑ کی آبادی میں صرف19لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں اور ان میں بھی ٹیکس جمع کروانے والوں کی تعداد13لاکھ ہے ، اسی طرح یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ سیلز ٹیکس فائلرز کی تعداد صرف ایک لاکھ41ہزار ہے ، ان میں سے صرف43ہزار اپنے گوشواروں کے ساتھ ٹیکس ادا کرتے ہیں ، پاکستان میں جی ڈی پی کے لحاظ سے ٹیکس کی شرح12فیصد ہے جو نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں کم ترین شرحوں میں سے ایک ہے جبکہ موجودہ اخراجات کے لحاظ سے ضرورہے کہ ٹیکس کی شرح جی ڈی پی کا 20فیصد ہو، اسی تناظر میں موجودہ حکومت نے ٹیکس اصلاحات کا ایسا ایجنڈا ترتیب دیا جس کے ذریعے سخت فیصلے کئے جائیں گے جو نہ صرف macroeconomic stabilityبلکہ آنے والی نسلوں کی خاطر قومی یکجہتی کو یقینی بنانے کےلئے ضروری ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مالی سال 2019-20کے مجوزہ ٹیکس اقدامات کے بنیادی اصولوں کے بارے میں مختصر طور پر بریف کرنا چاہوں گا ، یہ اقدامات حکومت کے (درمیانی مدت) medium policyفریم ورک کا حصہ ہیں ، اس فریم ورک کی بنیادی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ (درمیانی مدت) میڈیم ٹیم کے دوران جمع ہونے والے محصولات اور حقیقی پوٹینشل میں فرق کو کم کیا جائے ، مالی سال 2018-1میں حکومت نے Tax expenditureکی حد972.4بلین(972ارب 40کروڑ) روپے کی ٹیکس سہولیات دیں ، یہ اخراجات ان بے شمار ٹیکس استثنیات(expmptions)اور رعایتوں کا نتیجہ ہے جو معیشت کے مختلف شعبوں کو مہیا کی جا رہی ہیں ، جہاں اس استثنیات اور رعایتوں کے نتیجے میں ایک طرف تو ترغیب ملتی ہے تو دوسری طرف ان کے نتیجے میں ڈسٹریبیوشن بڑھ جاتی ہے اور ٹیکس محصولات کا ایک بڑا حجم ضائع ہوجاتا ہے ، ٹیکس کے خلاءکو کم کرنے کی کوشش دو حصوں پر مشمل ہے (۱) استثنیات اور رعایتوں میں مرحلہ وار کمی (۲) ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شرغح میں کو مرلہ وار مساویانہ بنانا اور سپیشل پروسیجر پر نظرثانی کرنا ، ہماری توکہ موثر اور خوف سے پاک ٹیکس complianceکو یقینی بنانا ہے ، ٹیکس گزار اور ٹیکس کلکٹر کے مابین انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے رابطہ کاری کو متعارف کروایا جائے گا تا کہ دونوں میں بالمشافہ رابطے کی جگہوں کو virtualذرائع اختیار کر کے کم سے کم کیا جائے ، اس سے ٹیکس گزار اور ٹیکس کے محکمے کے مابین اعتماد کا فقدان کم ہوگا اور ٹیکس compliacneکی لاگت بھی کم ہوگی ، ٹیکس کے نظا میں جمود توڑنے کےلئے فرضی ٹیکسیشن کی بجائے حقیقی آمدن پر ٹیکسیشن اور غیر ضرور ودہولڈنگ ٹیکسز کے خاتمے جیسے اقدامات تجویز کئے جا رہے ہیں ، اس کا فطری نتیجہ کاروبار کرنے میں آسانی کے انڈیکس میں پاکستان کی ریٹنگ بہتر ہونے کی صورت میں انشاءاللہ نکلے گا ، آنےو الے سالوں میں ٹیکس بیس میں اضافے معیشت کو دستاویزی شکل دینا سب سے اہم ہوگا جس کےلئے حکومتی اداروں کے پاس موجود ڈیٹا اور جمع کروائے گئے گوشواروں میں موجود ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا ، حکومت نے ایسیٹ ڈکلیریشن آرڈیننس 2019کے نفاذ کے ذریعے اصلاحات کا پیکج متعارف کروادیا ہے تا کہ غیر ضروری دستاویزی معیشت کو ٹیکس نظام میں شامل کیا جائے اور ٹیکس تعمیل کی حوصلہ افزائی سے معاشی بحالی ونمو کے مقاصد پورے ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں اس ایوان کے سامنے ریلیف اور ٹیکس کے اقدمات کرنا چاہتا ہوں جو اس بجٹ میں تجویز کئے گئے ہیں ، ان کا آغاز کسٹم ڈیوٹی سے کروں گا ۔ حماد اظہر نے کہا کہ ماضی میں ملکی ٹیکسوں سے ملنے والے ریونیو کی وجہ سے کسٹم ٹیرف کو امپورٹس سے ریونیو حاصل کرنے کےلئے بے دردی کے ساتھ استعمال کیا گیا تھا، فی الوقت پاکستان میں اوسطاً کسٹمز ٹیرف اور امپورٹس کے مرحلے سے ریونیو بہت زیادہ ہیں جبکہ امپورٹس سے حاصل ہرنے والے ریونیو میں تیزی سے اضافہ ہوا، امپورٹس شدہ خام مالی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں ملکی برآمدی دونوں صنعتوں کی مسابقت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ، حکومت کو یہ مکمل یقین ہے کہ ایکسپورٹ اور ملکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لئے کسٹمز ٹیرف کی rationallzationایک بنیادی ضرورت ہوتی ہے ، اس مقصد کےلئے 1600سے زائد ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی ، خام مالی کے ضمن میں ، اس بجٹ میں اس بجٹ میں مستثنیٰ کی جا رہی ہے ، اس اقدام سے تقریبا 20بلین روپے کے ریونیو کا نقصان ہوگا لیکن صنعتی ترقی کے بدلے میں بہت زیادہ فوائد کی توقع ہے ، حکومت کسٹمز ٹیرف کے اصلاحاتی منصوبے کو حتمی شکل دے رہی ہے جسے مرحلہ وار لاگو کیا جائے گا ، ٹیکسٹائل کا شعبہ اہم ہے اور حکومت کی پالیسی ہے کہ اس شعبے کو ٹیکسٹائل مشینری کے پارٹس اور آلات کی پرڈیوٹی سے exemptionدے کر معاونت فراہم کی جائے ، اسی طرح لچکدار دھاگے اورغیر بنے کپرے پر ڈیوٹی بھی کم کی جائے گی ، ملک کے تعلیمی شعبے میں کاغذ کا استعمال انہتائی اہم کیونکہ اس کی قیمت سے تعلیم کی مجموعی لاگت پر اثر پڑتا ہے ، کاغذ کی پیداوار کےلئے استعمال ہونے والے بنیادی خام مال جیسے برادرہ اور کاغذ کے سکرین کو کسٹم ڈیوتی سے exemptionدینے کی تجویز ہے اور مختلف اقسام کے کاغذ پر ڈیوٹی 20فیصد سے 16فیصد تک کم کی جائے گی ، اسے ملک میں کاغذ اور کتابون کی قیمتوں میں کمی اائے گی اور پرنٹنگ کی صنعت کی حوصلہ افزائی ہوگئی ، قرآن کی اشاعت کےلئے خصوصی اقدامات کئے جا رہے ہیں ، غیر روایتی ایکسپورٹ میں اضافے کےلئے لکڑی کے فرنیچر اور ریزر کی پیدوار میں استعمال ہونے والے کچھ اشئا پر ڈیوٹی کم کی جا سکتی ہے ، مقامی جنگلات کو بچانے اور فرنیچر کے پیداکنندگان کی حوصلہ افزائی کےلئے لکڑی پر ڈیوٹی 3فیصد کم سے کم کر کے زیرو فیصد اور لکڑی کے مصنوعی پینلز پر ڈیوٹی 11فیصد سے کم کر کے 3فیصد کرنے کی تجویز ہے ، ریزر کے ایکسپورٹس کےلئے سٹیل کی پٹیوں پر ڈیوٹی 11فیصد سے کم کر کے 5فیصد کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے ، گھریلو اشیاءکی صنعت، پرنٹنگ پلیٹ کی صنعت ، سولر پینلز کے اسمبلرز اور کیمیکل انڈسٹری کے مداخل کی لاگت کو کم کرنے کےلئے ان کے مداخل پر ڈیوٹیز جیسا کہ گھریلو اشیاءکے پارٹس ، اجزاء، ایلومینیم کی پلیٹوں ، دھاتی سطح والی اشیاءاور ایسیٹک ایسڈ پر ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز ہے ، بڑے پیمانے کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی غرض سے exemptionدینے کی تجویز ہے ، زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے کےلئے prohibitive regulatory dutiesکے استعمال سے امپورٹس تو کم ہوئیں لیکن ان میں کچھ اشیاءٹرانزٹ ٹریڈ میں چلی گئیں اور پھر انہیں سمگل کیا گیا، تجویز ہے کہ ٹائر، وارنش اور خوراک کی صنعت میں خوراک کی تیاری کے حوالے سے ڈیوٹی کے ڈھانچے کو منطقی بنایا جائے تا کہ ان اشیاءکو سمگلنگ ہونے سے بچایا جائے اور ضائع ہونے والے محصولات کو حاصل کیا جائے ، بڑھتی ہوئی cost of livingکے باعث عام آدمی کا گزارہ مشکل ہوگیا ہے ، عام آدمی کےلئے دوائیوں کی قیمتوں میں کمی کی غرض سے ، دوائیوں کی پیدوار میں استعمال ہونے والے خام مال کی 19بنیادی اشیاءکو 3فیصد امپورٹس ڈیوٹی سے exemptionدینے کی تجویز ہے ۔ ایکسپورٹس کی حوصلہ افزئی کےلئے برآمدی سہولیات کی مختلف سکیموں کو سادہ اور خودکار بنایا جا رہا ہے تا کہ انسانی عمل دخل کم سے کم ہو اور تیز رفتار عمل شفاف طریقے سے انجام پائے ، رواں مالی سال کے پہلے 11ماہ کے دوران raw materialsکی امپورٹ پر ایکسپورٹس کو سہولیات فراہم کرنے کی مختلف سکیموں کے تحت برآمدکنندگان کو ڈیوٹی کی مد میں 24ارب روپے کی رعایتیں دی گئیں ، ایکسپورٹس کے وقت کی بچت کے لئے تجویز ہے کہ ان کی طرف سے فراہم کی جانے والی اشیاءاور پیدوار کی شرحوں کو حتمی تصدیق کی شرط کے ساتھ عارضی طور پر قبول کیا جائے اور ان کے امپورٹ آرڈر کی تکمیل میں تاخیر نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ ایک لعنت اور بری شہرت کا باعث ہے نیز اس سے معاشی نقصان ہوتا ہے ، تجارتی بنیاد پر منی لانڈرنگ کے خامتے کےلئے ایک مکمل نیا نظام تجویز کیا جا رہے ، منی لانڈرنگ اور کرنسی کی اسمگلنگ کے خلاف قانونی اقدام کرنے کےلئے ایک نیا علیحدہ ڈائریکٹ آف کراس بارڈر کرنسی قائم کر کے ایف اے ٹی ایم کے منصوبہ پر عمل کو پورا کرنے کےلئے پاکستان کے عزم کی عکاسی کی گئی ہے ، سرحدی علاقوںمیں اسمگلنگ کے خلاف اقدام کو مزید مضبوط بنانے کےلئے کراچی ، پشاور اور کوئٹہ میں اس کی روک تھام کےلئے علیحدہ سے کلکٹریٹس قام کئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنے اخراجات پورا کرنے کےلئے بعض سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں ، اس حقیقت کا احساس کرتے ہوئے کہ امپورٹس کے مرحلے پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں کئے جانے والے کسی بھی اضافے کا صارفین پر بوجھ پڑتا ہے اس لئے ہم نے امپورٹس مرحلے کے حوالے سے محصولات کے ضمن میں کم از کم اقدامات برقرار رکھمے کی کوشش کی ہے ، یہ تجویز کیا جا رہاے کہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی شرح موجودہ شرح سے بالترتیب2فیصد سے 4فیصد اور6 فیصد اور20فیصد کے ٹیرف سلیبز پر 7فیصد اضافہ کیا جائے جو بنیادی پرلکثری آئٹمز سمیت پرتعیش اشیاءپر مشتمل ہیں ، فی الوقت ایل این جی کو کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے چونکہ ایل این جی نے فرنس آئل کی جگہ لے لی ہے جس پر 7فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہے ، اس لئے اب ایل این جی کی امپورٹس پر 5فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے ۔انہوں نے کہا کہ غریب طبقے کی بڑی اکثریت کے فائدے کےلئے محصولات اکٹھا کرنے کی غرض سے جنرل سیلز ٹیکس کے ریٹ کو17فیصد تک بڑھانے کا آپشن اختیار نہیں کیا ۔اس وقت اینٹوں کے بھٹوں سے17فیصد کے ریٹ سے ٹیکس وصول کیا جارہا ہے، تجویز ہے کہ سیلز ٹیکس کے ریٹ کو17فیصد کم کرکے کپیسٹی اور جگہ کے حساب سے فکس کیا جائے۔یہ دیہی علاقوں کی صنعت ہے جہاں دستاویزی تقاضے کو پورا کرنا مشکل ہے، اس لیے اس اقدام سے کم لاگت پر شکایات کو یقینی بنایا جاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ کھانے اور دیگر اشیاءخورد نوش کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیاءجیسے گوشت ،سبزیاں،آٹا وغیرہ کو دستاویزی شکل میں لانا مشکل ہے اور اس کاروبار کے لوگوں میں ٹیکس چوری کا رجحان بڑھتا ہے اس لیے ٹیکس اتھارٹیز کی طرف سے کم سے کم اخراجات کے ساتھ شکایات کی حوصلہ افزائی کے لیے تجویز ہے کہ ریستوران اور بیکری میں فراہم کی جانے والی چیزوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 17فیصد کم کرکے7.5فیصد پر لایا جائے،جس میں سے ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔اس وقت خشک دوددھ کی متعدد اقسام کیلئے سیلز ٹیکس کے ریٹ یکساں نہیں ہیں۔ ایک جیسی مصنوعات پر ٹیکس کی مختلف شرحیں عائد ہیں اس لیے اس فرق کو ختم کرنے کیلئے تجویز ہے کہ دودھ اور کریم ،خشک اور بغیر فلیور والے دودھ پر یکساں10فیصد ٹیکس عائد کیا جائے ۔ پی ایم سی اور پی وی سی کی افغانستان ایکسپورٹ پر پابندی کے خاتمے کے لیے تجویز ہے کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو زیرو ریٹ پر یہ اشیاءایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔اس اقدام سے متذکرہ بالا اشیاءکی ملک میں مقامی طور پر پیداوار کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ایکسپورٹ میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس وقت متعدد اشیاءپر معیاری سیلز ٹیکس کے علاوہ دو فیصد اضافی ٹیکس بھی عائد ہے، جیسا کہ بجلی اور گیس کے آلات ،فوم،اسلحہ اور ایمونیشن، بیٹریاں، آٹو پارٹس، ٹائرز وغیرہ، ٹیکس کی مکمل پوٹیشنل کے ساتھ وصولی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تجویز ہے کہ ان اشیائ(ماسوائے آٹوپارٹس) کو سیلز ٹیکس ایکٹ1990 کے تیسرے شیڈول(ریٹیل پرائس ٹیکسیشن) میں منتقل کردیا جائے ،آٹو پورٹس جو کیہ درمیانی نوعیت کی حامل ہیں اور صنعتوں میں استعمال ہوتی ہیں تجویز ہے کہ ان پر عائد اضافی ٹیکس کو واپس لے لیا جائے تاکہ مقامی صنعت کی لاگت پیداوار میں کمی آئے۔فاٹا اور پاٹا کے انضمام کے بعد سپلائز کے حوالے سے ایکسپشن میں پانچ سال کی توسیع دی گئی ہے،تاکہ معاشی سرگرمیاں بڑھیں،تجویز ہے کہ صنعتی خام مال اور پلانٹ ومشنری کی امپورٹ پر بھی ٹیکس ایکسپشن کو ان علاقوں تک وسعت دی جائے،مزید برآن ان علاقوں میں تمام گھریلو اور کاروباری صارفین اور31مئی 2018سے پہلے قائم ہونے والی صنعتوں کو بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس کے لیے ایکسپشن دینے کی تجویز ہے اس ایکسپشن کا اطلاق ان علاقوں میں واقع سٹیل ملوں اور گھی ملوں پر نہیں ہوگا۔اس وقت کاروباری امپورٹ پر تین فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس عائد ہے جس کی وجہ سے ٹیکس کی بوجھ میں غیر ضروری طور پر اضافہ ہوگیا ہے اس لیے تجویز ہے کہ موبائل فونز کی امپورٹ پر تین فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس ختم کردیا جائے،اس سے موبائل فونز کی امپورٹ پر عائد ٹیکس میں کمی آئے گی۔تین فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس میں اصلاحات پٹرولیم مصنوعات اس وقت ویلیو ایڈیشن ٹیکس سے استثنیٰ او ایم سی ایس کی طر ف سے امپورٹ کی جانے والی صرف ان اشیاءپر موجود ہے جن کی قیمتیں ریگولیٹ کی جاتی ہیں تجویز ہے کہ او ایم سی ایس کی طرف سے امپورٹ کی جانےوالی تمام پٹرولیم مصنوعات جیسے فرنس آئل پر بھی ایکسپشن دی جائے۔انہوں نے کہاکہ کئی سالوں سے سیلز ٹیکس قانون میں کئی سطحوں پر مشتمل ٹیکسیشن اور اس کے تحت قانون سازی کی شمولیت سے یہ ایک پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے ۔ اس کے بغور مطالعے کے بعد سپیشل پروسیجر رولز کو ختم کرکے سیلز ٹیکس ایکٹ کا حصہ بنایا جا رہا ہے ۔ اسی طرح سے چند بے حد ضروری ایس آر اوز کو چھوڑ کر تمام ایس آر اوز اور ایس ٹی جی اوز کا خاتمہ کیا جا رہا ہے ۔ ایس آر او1125(1)/2011 کے ذریعے پانچ برآمدی شعبوں یعنی ٹیکسٹائل ، چمڑے ، کارپٹس ، کھیلوں کے سامان اور سرجیکل سامان کی پیداوار اور ان کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیاءپر سیلز ٹیکس کو زیروریٹڈ کیا گیا تھا ۔ اس کا مقصد ریفنڈ کی ادائیگی میں تاخیر کا خاتمہ کرنا تھا ۔ تاہم زیرو ریٹنگ کی وجہ سے ملکی پیداوار اور صنعت کا ایک بڑا حصہ ہونے کے باوجود ان اشیاءکی ملکی فروخت میں ٹیکس کی مقدار صرف 6 ارب روپے ہے جو کہ 1200 ارب روپے کی پیداوار کا ایک فیصد بھی نہیں ۔ تیار شدہ اشیاءپر کم کردہ شرحوں سے بھی محصولات کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ ان نقائض کو دور کرنے اور محصولات کی مد میں ہونے والے نقصان کو روکنے کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ۔ ایس آر او 1125 کو منسوخ کر دیا جائے اس طرح 17 فیصد کی معیاری شرح کو بحال کر دیا جائے ، ٹیکسٹائل اور چمڑے کی تیار شدہ اشیاءاور تیار شدہ کپڑے کی مقامی سپلائرز پر سیلز ٹیکس کو 17 فیصد تک بڑھایا دیا جائے تاہم ایسے پرچون فروش جو رئیل ٹائم میں اکاﺅنٹنگ کا انتخاب کریں گے انہیں ریٹ میں رعایت دی جا سکتی ہے جو 15 فیصد تک ہو سکتی ہے ۔ یوٹیلیٹیز کی مید میں زیرو ریٹنگ کاخاتمہ دوسری طرف ان شعبوں میں سیلز ٹیکس کے ریفنڈ کو خود کار بنایا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان پٹس پر ادا کیا گیا سیلز ٹیکس فوری طور پر ریفنڈ ہو ۔ ریفنڈ پیمنٹ آرڈرز کو فوری طور پر ادائیگی کے لئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھیجا جائے گا ۔ جہاں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ برآمدات کی رقم کی وصولی کے ساتھ ہی اس ریفنڈ کو ادا کردیا جائے گا ۔ روئی کو اس وقت سیلز ٹیکس سے ایگزمپشن حاصل ہے تجویز ہے کہ اس پر دس فیصد ٹیکس عائد کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سٹیل کے شعبے سے سیلز ٹیکس بجلی کے بلوں پر 13 روپے فی کلو واٹ پاور کے حسب سے اکٹھا کیا جا رہا ہے ۔ بیلٹ بنانے کے لئے استعمال ہونے والے سیکریپ پر ایم ٹی5600 کے حساب سے سیلز ٹیکس وصول کیا جاتاہے جو ایڈجسٹیبل ہے ۔ شپ بریکرز کے لئے ایمپورٹ کیے جانے والے جہاز سیلز ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں۔ تاہم جہاز توڑ کر حاصل کی جانے والی شپ پلیٹس پر ایم ٹی 9300 کے حساب سے ٹیکس نافذ ہے ۔ مزید برآں قبائلی علاقوں میں قائم سٹیل انڈسٹری سیلز ٹیکس سے ایگزیمپ ہے اور دیگر علاقوں کے سٹیل یونٹس ان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے ۔ ان پیچیدہ قوانین سے چھٹکارا پانے اور اس شعبے سے پوٹینشل ریونیو حاصل کرنے کے لئے تجویز ہے کہ سپیشل سپروسیجر کا خاتمہ کیا جائے اور ان اشیاءکو نارمل ٹیکس قانون کے تحت لایا جائے ۔ بیلٹ ، انگوٹس، راڈز ، شپ پلیٹس اور دیگر ایسی اشیاءپر سیلز ٹیکس کی صورت میں 17 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے ۔ ان اشیاءپر فیڈ لگانے کی وجہ سے فروخت پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے ۔ بجلی کے استعمال کی بنیاد پر پیداوار کے حوالے سے کم سے کم سٹینڈرز کا بھی تعین کا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا کی جانب سے سی این جی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کے بعد سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اس تناسب سے ٹیکس کی سرحوں کو ریشنلائز نہیں کیا گیا ۔ اس لئے تجویز ہے کہ سی این جی ڈیلرز کے لئے ویلیو ریجن کے لئے 64.80 روپے فی کلو گرام سے بڑھا کر 74.04 روپے فی کلو گرام اور ریجن II کے لئے 57.69 روپے فی کلو گرام سے بڑھا کر69.57 روپے فی کلوگرام کر دیا جائے ۔ واضح رہے کہ اس اقدام سے سی این جی کی قیمت میں بہت معمولی اضافہ ہوگا کیونکہ سی این جی کی مارکیٹ قیمت اس رقم سے زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیلز ٹیکس کی ادائیگی کے لئے ریٹیلرز کو مختلف سطحوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ سطح ´´´I کے ریٹیلرز 17 فیصد یا ٹرن اوور کا دو فیصد ۔ سطح II بجلی کے ذریعے ٹیکس کا نفاذ تجویز ہے کہ ٹرن اوور ٹیکس کا خاتمہ کر دیا جائے ۔ سطح I کے ریٹیلرز کو ایف بی آر کے آن لائن سسٹم سے منسلک کر دیا جائے گا ۔ نظام سے منسلک دکانوں سے ایاءکی خریداری اور انوائسز طلب کرنے پر 5 فیصد تک سیلز ٹیکس کی واپسی کی صورت میں فائدہ دیاجائے گا ۔ ایسی دکان جس کا سائز1000 مربع فٹ یا اس سے زائد ہوگا اسے بھی سطح I کے ریٹیلرز میں شامل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت چینی پر 8 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے ۔ اس شعبے میں وسیع معاشی مواقع موجود ہیں لیکن یہاں سے جمع ہونے والا ٹیکس صرف 18 ارب روپے ہے جو کہ اس کے حقیقی پوٹینشل سے بہت کم ہے ۔ ٹیکس میں خلاءکو کم کرنے اور اس کے ریٹ کو دیگر اشیاء سے ہم آہنگ کرنے کے لئے تجویز ہے کہ چینی پر سیلز ٹیکس کو بڑھا کر 17 فیصد کر دیا جائے ۔ تاہم ریٹ میں اس اضافے کے اثر سے صارفین کو جزوی طور پر بچانے کے لئے یہ تجویز ہے کہ چینی کو ان اشیاءسے میں سے نکا دیا جائے جن کو غیر رجسٹرڈ افراد کو فروخت سے اضافی تین فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے ۔ اس اقدام کے نتیجے میں امید ہے چینی کی قیمت میں 3.65 روپے فی کلوگرام اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ چکن ، مٹن ، بیف اور مچلی کے گوشپ سے سیمی پروسیسڈ اور کوکڈ اشیاءکی کھپت میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ یہ اشیاءعمومی طور پر خوشحال افراد کے استعمال میں آتی ہیں تجویز ہے کہ ان اشیاءپر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کاٹیج انڈسٹری کی ایگزمپشن کا بڑے پیمانے پرغلط استعمال ہو رہا ہے ۔ تجویز ہے کہ مندرجہ ذیل کو شامل کرنے کے لئے اس کی دوبارہ تشریح کیجائے ۔ یکم جولائی 2019 سے کاٹیج انڈسٹری سے مراد وہ صنعت ہو گی جو رہائشی علاقوں میں قائم ہو ، جہاں زیادہ سے زیادہ مزدور کام کررہے ہوں اور سالانہ ٹرن اوور 20 لاکھ روپے سے زائد نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ بہترین عالمی پریکٹس کو بنیاذد بتاتے ہوئے اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لئے تجویز ہے کہ سونے ، چاندی ، ہیرے اور زیورات کی لوکل سیل پر قیمتی دھات اور زیورات کی بنوائی پر کم شرح سے سیلز ٹیکس نافذ کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ جیولرز سیلز ٹیکس میں شامل ہو سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ سنگ مرمر کی صنعت پر ٹیکس کی موجودہ شرح 1025 روپے فی یون ٹ ہے تجویز ہے کہ اس شعبے میں بھی فروخت پر 17 فیصد کی شرح نافذ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ تجویز ہے کہ ایسی خدمات جو صوبائی قوانین میں قابل ادائیگی ٹیکس ہیں اور وہ آئی سی ٹی قانون میں موجودہ نہیں ۔ انہیں ان کے مطابق آئی سی ٹی قانون میں شامل کیا جائے ۔ ایسی خدمات جن پر پہلے ہی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ ہے انہیں آئی سی ٹی میں شامل نہیں کیا جائے گا تکہ دوہرے ٹیکس سے بچا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کرنے میں آسانی کے لئے اقدامات پر سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 58 ڈائریکٹرز وغیرہ کو ادا شدہ واجبات کی وصولی کا اختیار اس اقدام سے ڈائریکٹر یا شیئر ہولڈر کو اختیار دیا جارہا ہے کہ وہ کمپنی کے لئے ادا شدہ ٹیکس کمپنی سے وصول کر سکے ۔ سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کو سادہ بنانا ، کاروبار کی آسانی سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے لئے پروسیچر کو سادہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ٹیکس کلکٹرز اور ٹیکس گزاروں کے مابین رابطہ کم سے کم ہو اور نادرا کے ای سہولت مرکز کے ذریعے سے سیلز ٹیکس رجسٹریشن ممکن بنائی جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ ڈویژن کی ہدایات پر اہم اختیارات وفاقی حکومت کے پاس رہیں گے ۔ ایسی تجاویز تیار کی گئی ہیں کہ پروسیجر کے معاملات کے حوالے سے الفاظ ، وفاقی حکومت کو بورڈ یا انچارج وزیر کی منظور ی سے بورڈ سے بدل دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لئے ڈی رجسٹریشن کے حوالے سے قواعد میں ترمیم کی جا رہی ہے۔ اب ڈی رجسٹریشن کے پروسیس کے دوران گوشوارے فائل کرنا لازمی نہیں ہوگا۔ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے تجویز ہے کہ ڈی رجسٹریشن کے آرڈر پر اپیل کی اجازت دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے حوالے سے مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کئے گئے ہیں ۔ فیضی ڈرنکس پر ایف ای ڈی میں اضافہ مختلف اشیاءپر ٹیکس کے ریٹس میں ہم آہنگی کے لئے اور چینی والے مشروبات کی کنزیمپشن کم کرنے کے لئے کولڈ ڈرنکس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 11.25 فیصد سے بڑھا کر 14 فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل پر صرف فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہے ۔ پروڈیوسر کو ویلیو ایڈیشن پر ایک روپیہ فی کلوگرام کے حسلاب سے درآمد شدہ خوردنی آئل سیڈز کی ویلیو ایڈیشن پر 40 روپے فی کلوگرام کے حساب سے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے ۔ ٹیکسز کی کولیکشن حقیقی پوٹینشل کے مقابلے میں انتہائی کم ہے ۔ اس امر کے باوجود کو خوردنی تیل کی 27 فیصد پیداوار مقامی ہے ۔ مقامی پیداوار پر صرف آدھا ارب ٹیکس وصول ہوا ہے جیسا کہ ایمپورٹ پر اس ٹیکس کی مقدار 42 ارب روپے ہے ۔ تجویز ہے کہ خوردنی تیل ، گھی ، کوکنگ آئل پر ایف ای ڈی بڑھا کر 17 فیصد کردی جائے اور ویلیو ایڈیشن ٹیکس کے بدلے میں ایک روپیہ فی کلوگرام ٹیکس کوختم کردیا جائے نیز خوردنی بیجوں پر رعایتی ریٹس کو بھی ختم کردیا جائے ۔ ایسا گھی ، کوکنگ آئل جو ریٹیل پیکنگ میں کسی برانڈ نام سے فروخت ہوتا ہے تجویز ہے کہ اس ریٹیل پرائس کے 17 فیصد کے برابر سیلز ٹیکس عائد کیا جائے ۔ یہ بھی تجویز ہے کہ سیلز ٹیکس موڈ میں نارمل ایف ای ڈی کو بحال کیا جائے ۔ جس کے تحت انڈسٹری حقیقی ویلیو ایڈیشن پر ایف ای ڈی ادا کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صحت کو پہنچنے والے نقصانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریٹیل پرائس کے 5 فیصد کے برابر ایف ای ڈی متعارف کروانے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 1.25 روپے فی کلوگرام کے حساب سے نافذ العمل ہے تجویز ہے کہ سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھا کر دو روپے فی کلوگرام کر دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی کی ایمپورٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 17.18 روپے فی 100 مکعب فٹ کو بڑھا کر مقامی گیس کے برابر 10 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کرنے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فنانس ضمنی دوسرے ترمیمی ایکٹ 2019 کے ذریعے 1700 سی سی اور اس سے زائد انجن کیپیسٹی کی حامل گاڑیوں پر 10 فیصد کی شرح سے ایف ای ڈی متعارف کروائی گئی تھی اب تجویز ہے کہ ایف ای ڈی کے سکوپ کو وسیع کیا جائے اور اس تناظر میں مندرجہ ذیل سلیب متعارف کروائی جا رہی ہے ۔ 0 سے 1000 سی سی 2.5 فیصد کی شرح سے 1001 سی سی سے 2000 سی سی پانچ فیصد کی شرح سے اور 2001 سی سی اور اس سے زائد پر 7.5 فیصد ایف ای ڈی وصول کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سگریٹس پر ایف ای ڈی متعین ریٹ سے لاگو ہوتی ہے ان شرحوں کو قیمتوں کے لحاظ سے ہر سال بڑھانا پڑتا ہے ۔ ایف ای ڈی کو مندرجہ ذیل طریقے سے بڑھانے کی تجویز ہے ۔ روایتی طور پر سگریٹس کو دو سلیبز میں تقسیم کرکے ٹیکس عائد کیا جاتا ہے لیکن 2017 میں ایک تیسری سلیب بھی متعارف کروائی گئی تھی تاکہ کم قیمت والی غیر قانونی مارکیٹ کو راغب کیا جا سکے ۔لیکن اس کے مطلوبہ نتائج ایکسپورٹ نہیں ہوئے۔ بالائی سلیب 4500 روپے فی 1000 سٹکس سے بڑھا کر 5200 روپے فی 1000 سٹکس تک ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے ۔ زیریں سلیب کے لئے موجود دو سیلبز کو ضم کرکے 1650 روپے فی 1000 سٹکس کے لحاظ سے ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے ۔ تجویز ہے کہ 2018-19 کے تخمینے 114 ارب روپے کے مقابلے میں 147 ارب روپے کا ہدف حاصل کیا جائے ۔ اس حوالے سے قوت برداشت لچک وغیرہ کا پوری طرح خیال رکھا جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ International best Pratices سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیکسز معاشی لین دین کی ڈاکو میٹیشن کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اس بجٹ کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ معیشت کی ڈاکیو مینٹیشن کو فروغ دیا جائے اور ان لوگوں سے ٹیکس وصول کیا جائے جو اسے افورڈ کر سکتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ٹیکس ودہولڈنگ اور مفروضوں پر مبنی قوانین سے جمع کئے جائیں۔ جیسا کہ آپ کی فنانس بل میں تجویز کردہ متعدد تراہم کی صورت میں دیکھیں گے کہ عائد ٹیکس سے بچنے کے نیم قانونی کلچر کو فروغ دینے کی بجائے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ وہ تمام لوگ جن پر قانونی طور پر آمدن کے گوشوارے جع کروانا لازم ہے اور وہ گوشوارے جمع کروائیں گے اور قانون کے مطابق قابل ٹیکس آمدہ پر ٹیکس ادا کریں۔ یہ اس ملک کے ٹیکسیشن کے نظرئیے میں ایک بڑی اور اہم تبدیلی ہے ۔ ہماراا س بات پر پختہ یقین ہے کہ وہ تمام لوگ جن پر ٹیکسز لاگو ہوتے ہیں انہیں گوشوارے جمع کروانے چاہئیں۔ اور واجب الادا ٹیکس ادا کرنے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ٹیکس فائلرز پر اضافی بوجھ بھی نہیں ڈالنا چاہتے۔ ہم آمدہ کے گوشوارے جمع کروانے کےلئے غیر شخصی بنیادوں پر بہت سادہ اور خود کار طریقہ کار متعارف کروا رہے ہیں۔ ان دو ضروری اقدامات سے ہمارے ٹیکس قانون میں بنیادی نقائص دور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بدترین بجٹ پریشر کے باوجود کمپنیوں کیلئے کارپوریٹ ریٹ میں اضافہ نہیں کیا جا رہا تاکہ کارپوریٹائزیشن کو فروغ دیا جا سکے ۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر کے اندر کاروبار چلانے والے بزنس مین کی آمد ن پر عائد ٹیکس کے ریٹ کو غیر کارپوریٹ سیکٹر میں کاروبار چلانے والے افراد پر عائد ٹیکس ریٹ سے کم رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رکے ہوئے انکم ٹیکس ریفنڈ کے باعث کاروباری افراد کیلئے پیدا ہونے والے کیش کے مسائل کو دور کرنے کےلئے ایف بی آر کی فیفنڈ سیٹلمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ذریعے ٹیکس ریفنڈ جاری کرنے کی تجویز ہے۔ ایف بی آر ریفنڈ سیٹلمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو کوپرومیسری نوٹ جاری کرے گا جس میں ریفنڈ کلیم کروانے والے کی تفصیلات اور اسے واجب الادا ریفنڈ کی رقم کی تفصیلات موجود ہوں گی۔ رواں مالیاتی سال کے دوران اس طرح کے ماڈل پر سیلز ٹیکس ریفنڈ کے حوالے سے عمل کیا گیا ہے ۔ اس طریقے سے کاروباری برادری کے خدشات کو کامیابی سے دور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے قانون میں ایک دفعہ متعارف کروائی ہے جس کے تحت کوئی بھی فرد جس نے مقررہ تاریخ تک ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروائے ہوں اس کا نام ٹیکس گزاروں کی فعال فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح اگر کوئی بھی فرد جس نے مقررہ تاریخ کے بعد گوشوارے جمع کروائے ہوں ‘ وہ نان فائلر ہی شمار ہو گا اور اس پر زیادہ ٹیکس ریٹس لاگو ہوں گے۔ یہ ایک ناانصافی تھی او ر اس فرد کیلئے بہت پریشانی کا باعث تھی جو گوشوارے جمع کروانے کے باوجود نان فائلر ہی شمار ہو۔ مقررہ تاریخ کے بعد ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کے تسلسل کو برقرار رکھنے کےلئے اے ٹی ایل میں نام شامل نہ ہونے کی شرط کو ختم کیا جا رہا ہے۔ وزیر مملکت ریونیو نے کہا کہ سابقہ حکومت نے یہ پابندی عائد کی تھی کہ کسی نان فائلر کے نام پر پچاس لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد کو رجسٹرڈ یا ٹرانسفر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جائیداد کی خریداری پر اس پابندی کے مطلوبہ نتائج ایکسپورٹ نہیں ہوئے اس کے ساتھ ساتھ اسے عدالت میں قانونی طو رپر چیلنج بھی کر دیا گیا ہے اس لئے غیر نقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد یہ پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی اس پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے نئے گریجویٹ کو ملازمت کے مواقع فراہم کئے جائیں ۔ ایسے گریجویٹس کو ملازمت فراہم کرنے والے افراد کو ایک نیا ٹیکس کریڈٹ دینے کی تجویز ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق شدہ یونیورسٹیوں اور ادار وں سے حال ہی میں گریجویٹ مکمل کرنے والے نوجوانوں کو ملازمت فراہم کرنے والے افراد کو ادا کردہ سالانہ تنخواہ کے حساب سے ٹیکس Rebate دیا جائے گا۔ یہ ٹیکس Rebate کاروباری اداروں کی طرف سے اپنے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں کلیم شدہ اخراجات کے علاوہ ہو گا۔ ایسے افراد جنہوں نے یکم جولائی 2017ءکے بعد گریجویشن مکمل کی ہو گی انہیں ٹیکس Rebate کے مقصد کے لئے نیا گریجویٹ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فنانس ایکٹ 2018ءمیں تنخواہ اور غیر تنخواہ دار دونوں طرح کے افراد کے لئے ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کی گئی تھی۔ اس سے پیشتر قابل ٹیکس آمد ن کی کم سے کم حد 4 لاکھ روپے تھی۔ فنانس ایکٹ 2018ء کے ذریعے اس کم سے کم حد کو تین گنا بڑھا کر 12 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں محصولات کی مد میں 80 ارب روپے کا بڑا نقصان ہوا عام طور پر قابل ٹیکس آمدن کی کم سے کم حد اس ملک کی فی کس آمدن کے تناسب سے ہوتی ہے۔ اور اس طرح کے غیر معمولی اضافے کی مثال نہیں ملتی۔ اس لئے تجویز یہ ہے کہ قابل ٹیکس آمدن کی کم سے کم حد پر نظر ثانی کر کے اسے تنخواہ دار طبقے کے لئے 6 لاکھ روپے اور غیر تنخواہ دار طبقے کے لئے 4 لاکھ روپے کر دیا جائے۔ تجویز ہے کہ 6 لاکھ روپے سے زائد آمدن والے تنخواہ دار افراد کیلئے 11 قابل ٹیکس Slabs کو 5 فیصد سے 35فیصد تک کے پروگریسوٹیکس ریٹس کے ساتھ متعارف کروائے جائیں۔ 4 لاکھ روپے سے زائد آمدن والے غیر تنخوا دار افراد کیلئے آمد کی 8 سلیبز 5 سے 35 فیصد ٹیکس ریٹ کے ساتھ متعارف کروائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فنانس ایکٹ 2014ء سے قبل کمپنیوں کیلئے ٹیکس کی شرح35 فیصد تھی۔ ٹیکس کی شرحوں میں ٹیکس سال 2014ءسے ٹیکس سال 2018ءتک ہر سال ایک فیصد کمی کر کے اسے 30 فیصد تک لاا گیا۔ کمپنیوں کیلئے ٹیکس ٹیکس ریٹ کو 2018ء میں 30 فیصد سے ٹیکس سال 2023ءتک 25 فیصد تک کم کرنے کی تجویز ہے۔ اس وقت ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے چونکہ ٹیکس ریٹ میں پہلے ہی 35 فیصد سے 29 فیصد تک نمایاں کمی کی جا چکی ہے اور ملک کی معاشی حالات کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے تجویز ہے کہ کمپنیوں کے لئے ٹیکس ریٹ کو اگلے دو سال کیلئے 29 فیصد پر فکسڈ کر دیا جائے۔ وزیر مملکت ریونیو نے کہا کہ غیر ظاہر کردہ ذرائع آمدن سے اکٹھی ہونے والی دولت کو جواز فراہم کرنے کے لئے استعمال ہونے والے طریقوں میں سے ایک عام طریقہ یہ ہے کہ سرمایہ کاری کو کسی گفٹ کی وصولی ظاہر کیا جائے۔ اس حوالے سے ڈیٹا کے تجزئیے سے پتہ چلتا ہے کہ انکم ٹیکس گوشواروں کے مطابق تحائف کی مالیت 256 ارب روپے سے بھی یادہ ہے۔ اس Loophole کے خاتمے کے لئے تجویز ہے کہ وصول ہونے والے گفٹ کو دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کے زمرے میں شامل کیا جائے تاہم قریبی رشتہ داروں سے وصول ہونے والے تحائف پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ Depredciation Brought forward losses کو سپر ٹیکس کے لئے آمدن کے حساب کے وقت شمار کیا جائے گا۔ سپر ٹیکس فنانس ایکٹ 2015ءکے ذریعے متعارف کروایا گیا تھا۔ یہ تمام بنکنگ کمپنیوں اور ایسے دیگر افراد پر لاگو ہوتا ہے جن کی آمد 50 کروڑ روپے سے زائد ہو۔ سپر ٹیکس کے لئے واجب الادا ررقم کے حساب کے بوقت Depreciation اور سابقہ کاروبار نقصانات کو شامل نہیں کیا جاتا۔ تاہم بینکنگ کمپنیویں کی صورت میں انہیں شامل کیا جاتا ہے ۔ ٹیکس کے حوالے سے ایک جیسے برتاﺅ کو یقینی بنانے کیلئے تجویز ہے کہ بینکوں کے لئے بھی قانون کو دوسرے اداروں کے مطابق کیا جائے ۔اس قت ایسے تمام صنعتی ادارے جو توسیع ، وسعت ، بیلنسنگ ، ماڈرنائزنگ اور تبدیلی کے لئے مشینری خریدنے پر سرمایہ کاری کرتے انہیں مشینری کی قیمت خرید کے 10فیصد کے برابر ٹیکس کریڈٹ کی اجازت ہوتی ہے ٹیکس کریڈٹ کی اس شہولت کو فنانس ایکٹ2010 ءکے ذریعے متعارف کروایا گیا تھا اور یہ30جون2015تک دستیاب تھی۔ اگرچہ یہ سہولت پہلے ہی اپنی افادیت کھو چکی تھی پھر بھی سابقہ حکومت نے اس میں 2021 تک توسیع کر دی تھی۔ ڈیٹا کے تجزیئے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس ٹیکس کریڈٹ کا دعوی کئی ایسی کمپنیوں کی طرف سے بھی آیا ہے جو ان مراعات کے بغیر بھی مشینری پر یہ سرمایہ کاری کرتیں۔ تجویز ہے کہ ٹیکس سال 2019 کے لئے ٹیکس کریڈٹ کو مشینری کی قیمت خرید کے10فیصد سے کم کر کے5فیصد کر دیا جائے اور اس کے بعد اسکریڈٹ کو ختم کر دیا جائے ، تاہماس کریڈٹ کیbrought forward ایڈجسٹمنٹ جاری رہے گی اور صنعتوں کو initial depreciationکی سہولت بھی میسر رہے گی۔کسی بھی non resident شخص کو رائلٹی کی رقم کی ادائیگی پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی کی جاتی ہے ۔ تاہم کسی residentشخص کو رائلٹی کی رقم ادا کرنے کی صورت میں ایسا ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں کاٹا جاتا۔اب مقامی اداروں کی نمو و ترقی میں اضافہ ہو گیا ہے جو رائلٹی سے آمدن حاصل کر رہے ہیں۔لیکن ایسے افراد کی حقیقی آمدن کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ اس کے لئے یہ تجویز ہے کہ رائلٹی کی مجموعی رقم پر15فیصد کی شرح سے resdidentافراد سے ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی کی جائے۔فی الحال غیر منقولہ جائیدا پر کیپیٹل گین کو جائیداد رکھنے کی مدت کی بنیاد پر علیحدہ طور پر ٹیکس لگایا جاتا ہے ۔ یہ تجویز دی جاتی ہے کہ کیپیٹل گین سے ہونے والی آمدن پر عمومی ٹیکس کی شرح کے مطابق عام ٹیکس کے نظام کے تحت ٹیکس لگایا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی تجویز کیا جا رہا ہے کہ کیپیٹل گین کے لئے خالی پلاٹ کی صورت میں دس سال کے اندر فروخت اور تعمیر شدہ مکان کی صورت میں پانچ سال کے اندر فروخ کی مدت مقرر کی جائے ۔2۔ پہلے سال میں فروخت کی صورت میں عام آمدن کے مطابق ٹیکس لاگو ہو گا۔3۔ سال کے بعد فروخت کی صورت میں تین چوتھائی آمدن پر ٹیکس لیا جائے گا۔اس وقت اگر غیر منقولہ جائیداد کا ایک خریدار جائیداد کی ڈی سی مالیت اور ایف بی آر کے مابین فرق پر 3فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے تو اس کے لئے ضروری نہیںکہ وہ رقم کے مذکورہ فرق پر سرمایہ کاری کے ذریعے کی وضاحت کرے۔ یض غیر ظاہر کردہ رقم کو وائٹ کرنے کا ایک مستقل طریقہ ہے جو بین الاقوامی ٹیکس کے اصولوں کے خلاف ہے۔اسلئے یہ تجویز پیش ہے کہ ایسی رقم 3فیصد کی شرح پر ٹیکس واپس لے لیاجائے ۔ ایف بی آر نے بڑے شہروں میں غیر منقولہ جائیداد کے valuation table متعارف کرائے ہیں۔ بورڈ کی طرف سے مشتہر کردہ شرح اب بھی اصل مارکیٹ قیمت سے کافی کم ہے۔ اس لئے یہ سمجھا جاتا ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کے لئے ایف بی آر کی شرح اصل مارکیٹقیمت کے قریب ہو یا تقریباً 80 فیصد لے جائے۔جیسا کہ غیر منقولہ جائیداد کی ایف یبی آر مالیت میں ہونے والے اضافہ سے حقیقی خریدار اور فروخت کنندہ پرٹیکس لگانے کی شرح میں اضافہ ہو گا ۔یہ تجویز ہے کہ غیر منقولہ جائیداد کی خریداری ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح2فیصد تک کم کر دی جائے ۔اس وقت جائیداد کی خریدار پر ود ہولڈنگ ٹیکس صرف اس صورت میںلگا جاتا ہے جب جائیداد کی مالیت چار ملین روپے سے زائد ہو۔ اس ٹیکس سے بچنے کے لئے رقم کو توڑ کر چار ملین روپے سے بھی کم کیا جاتا ہے جبکہ جائیداد کی اصل قیمت 4ملین روپے سے زائدہوتی ہے ۔ الس حد کے غلط استعمال کیروک تھامکے لئے جائیداد کی قیمت کالحاظ کئے بغیر خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس لینے کی تجویڑ دی جا رہی ہے ۔نان فائلرز کے لئے کاروبار کرنے کی زیادہ لاگت کا تصور سب سے پہلے فنانس ایکٹ 2014ء میں متعارف کردیا گیا تھا اور نان فائلرز کے لئے الگ زیادہ شرحوں کو مقرر کیا گیا تھا۔تاہم اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی کہ اب نان فائلرز اپنی آمدن کے ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے کا انتخاب کر سکتا ہے اور اس طرح زیادہ ٹیکس جمع کرانے سے دستبردار ہو سکتا ہے ۔اگرچہ اس اقدام کا مقصدفائلرز کی تعداد کو بڑھانا تھا لیکن وقت کے ساتھ اس اقدام سے اضافی ریونیو بڑھانے پر توجہ منتقل ہوگئی ۔ اس کے علاوہ ایسے افراد جنہیں اپنے گوشوارے جمع کرانے کی ضرورت نہیں تھی یا جنہوں نے ابھی اپنا کاروبار شروع کیا تھاانہیں بھی زیادہ ٹیکس جمع کرانے سے بچنے کے لئے گوشوارے جمع کرانے کی ضرورت تھی ۔اس غلط فہمی کو ختم کرنے کے لئے نان فائلرز زیادہ ٹیکس ادا کرنے اورمخصوص بے قاعدگیوں کودور کرنے کے ذریعے کسی بھی مصیبت سے بچ سکتے ہیں۔اس طرح انہیں ”نان فائلر“ قرار دیا جاتا ہے ۔ اس کے بجائے ایک نئی اسکیم جو ایسے افرادپر توجہ مرکوز کرتی ہے جن کے نام فعال ٹیکس گزارویں کی فہرت (ATL) میں شامل نہیں،متعارف کرانے کی تجویڑ دی جاتی ہے یہ اسکیم اس وقت زیادہ ٹیکسدینے والے نان فائلر کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی کی داعی ہے جس میں فعال فعال ٹیکس گزاروں کی فہرست(ATL) میں شامل نہ ہونے پرنہ صرف سزا دی جاتی ہے بلکہ ایسے افراد سے گوشوارے جمع کرانے کیلئے ایک موثر طریقہ کار بھی متعارف کرایا جاتا ہے ۔ اس ضمن میں ” دسویں شیڈول“ کے عنوان سے ایک نیا شیڈول قانون میں متعارف کرانے کی تجویز ہے جس میں ان لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کا وضع کردہ طریقہ اختیار کر نے کی پیشکش کی جائے گی تاکہ ایسے افراد گوشوارے جمع کرائیں جو آمدن تو کماتے ہیں لیکن اپنی آمدن کے گوشوارے جمع نہیں کراتے ۔موجودہ نظام کے تحت transactions میں شامل لوگوں کو اپنے اصل منافع پر ٹیکس ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بجائے ترسیلات زر پر جمع کردہ یا منہا کردہ ٹیکس کو ان کی ٹیکس کی حتمی ذمہ داری سمجھا جائے گا۔چونکہ منہا کردہ ٹیکس ہی حتمی ٹیکس ہوتا ہے اس لئے ایسے افراد آڈٹ کی جانچ پڑتال سے محفوظ رہتے ہیں ۔فی الوقت حتمی ٹیکسف کا نظام کمرشل در آمدکنند گان ، برآمد کند گان ، اشیاءکے کمرشل سپلائرز،ٹھیکیدار ، انعامات سے آمدن کمانے والے افراد،پٹرولیم مصنوعات کے فروخت کنندگان ، بروکریج یا کمیشن سے آمدن حاصل کرنے والے لوگ اور ای این جی اسٹیشنز سے کمائی کرنے والے افراد کے لئے دستیاب ہے ۔ ایسے افراد کو ٹیکس کے باقاعدہ نظام میں لانے کے لئے ان transactionsسے جمع کردہ یا منہا کردہ ٹیکس کوexporters،انعامات جیتے والوں اور پٹرولیم مصنوعات کے فروخت کنندگان کے علاوہ کم از کم ٹیکس سمجھاجائے گا۔ یہ اقدام حتمی ٹیکس نظام کو مرحلہ وار نافذ کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہو ں نے کہاکہ dividend سے آمدن پر ٹیکس کو الگ سے شمار کیا جاتا مکہے اور یہ عمومی ٹیکس نظام کے تحت آمدن کا حصہ نہیں ہوتا ہے ۔ منافع سے آمدن کے لئے عمومی شرح 15 فیصد ہے جسے بہت کم خیال کیا جاتا ہے کیونکہ منافع پر آمدن حاصل کرنے کیلئے اخراجات نہیں کئے جاتے ہیں ۔ فی الوقت منافع پر آمدن پر بہت کم شرح ٹیکس لگایا جاتا ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ کمپنیاں پہلے ہی مکمل شرح سے ٹیکس ادا کرتی ہیں۔ تاہم ایسی کمپنیاں جو مستثنی ہیں یا دستیاں ٹیکسف کریڈٹ اور الاﺅنس کی وجہ سے کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتیں ۔ ان کے لئے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ ایسی کمپنیوں سے حاصل کردہ منافع سے آمدن پر عمومی ٹیکس کے برعکس 25 فیصد ٹیکس لگایا جا سکتا ہے ۔وزیر مملکت نے کہاکہ عمارات کی عمومی زندگی کا دورانیہ تیس سال سے زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم ہر سال 10 فیصد کی شرح سے عمارات کی فرسودگی کی اجازت دی جاتی ہے اور پہلے سالinitial depreciationکی15فیصد کی اجازت بھی دی گئی ہے۔اس طرح عمارت کی کل لاگت کا25فیصد فرسودگی کے طور پر پہلے سال کلیم /دعوی کیاجاتا ہے جو عمارات کی اصل اور عمومی زندگی کے مکمل طور پر برعکس ہوتا ہے ۔ اس لئے یہ تجویز دی جاتی ہے کہ عمارات پر initial depreciation کے الاﺅنس کو ختم کر دیا جائے ۔فی الحال قرض پر منافع کی آمدن پر علیحدہ سے پانچ ملین ، پانچ سے پچیس ملین اور پچیس ملین سے زائد قرض پر منافع پر تالترتیب10فیصد،12.5 فیصد کی شرح پر ٹیکس لگایا جاتا ہے ۔ متعلقہ منافع پر15فیصد ،17.5فیصد اور20فیصد کی شرح سے نظر ثانی کرنے کی تجویز ہے۔قرض پر منافع کی کٹوتی کی شرح پر بھی نظر ثانی کر کے10فیصد سے15فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے ۔ مزید برآن مذکورہ بالا الگ شرحوں کا36 ملین روپے تک قرض پر منافع پر اطلاق ہو گا اور36ملین روپے سے زائد قرض پر منافع کی رقوم کو کل آمدن کا حصہ ہوں گی اور عمومی شرح پر ٹیکس لگے گا۔ انہوں یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ مینو فیکچرز اپنے ساتھیوں کو کمیشن ایجنٹس /ڈیلرز مقرر کرتے ہیں جنہیں وہ اپنے اصل ٹیکس ادا کرنے کی ذمہ داری سے اجتناب کرنے کے لئے زائد کمیشن کی شکل میں اپنے منافع کی رقم منتقل کرتے ہیں۔ اس لئے تجویز ہے کہ سپلائیز کی کل رقم کے0.2 فیصد سے زائد ادا کردہ کمیشن کی رقم کی اجازت نہیں ہوگی جب تک یہ ڈیلر سیلز ٹیکس ایکٹ1990 کے تحت رجسٹرڈ نہ ہو۔فنانس ایکٹ2018ءکے ذریعے 10ملین روپے کی حد عائد کی گئی تھی تاکہ foewign tenaxriona کی صورت میں10ملین کےsourcesپوچھنے کی اجازت نہیں تھی۔ چونکہ عام مزدوروں کی remittances کا حجم بہت کم ہوتا ہے اس لئے یہ تجویز ہے کہ foreign remittancesکے ذریعے سرمایہ کاری کے ذریعہ کی وضاحت کرنے کیلئے حد10کروڑ سے5کروڑ روپے کی جا ئے۔بیکنگ اورانشورنس کے نظام میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے حکومت کو ان سیکٹرز کی حقیقی آمدن پر ٹیکس لگانے میں مدد ملے گی۔حما دنے کہاکہ جائیداد کی خریداری یا فروخت کے لین دین کی اصل قیمت کے لئے یہ تجویز دی جاتی ہے کہ غیر منقولہ جائیدا کی صورت میں 5ملین روپے سے زائد اور منقولہ جائیداد کی صورت میں ایک ملین یا اس سے رائد کی جائیداد کے لئے ضروری ہو گا کہ اسے بینک چیک کے ذریعے خریدا جائے اور اس شرط کے خلاف ورزی کی صورت میں ایسے اثاثوں پر depreciation بھی دستیاب نہیں ہو گی اور capital gain کے لئے اس کی قیمت خرید کو صفر تصور کیا جائے گا۔قانونی کارروائی کے عمل کو آسان بنانے کی تجویز ہے۔ یہ بھی تجویز دی جاتی ہے کہ قانونی کارروائی کے لئے سپیشل جج کی عدالت میں مقدمہ کیا جائے اور مذکورہ شخص کی گرفتاری بھی ممکن ہو سکے ۔انہوں نے کہاکہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنے کےلئے معیشت کے مخصوص شعبہ جات کی جانب سے گوشوارے جمع کرانے اور قابل ادا ٹیکس کے تعین کے حوالے سے قواعد و ضوابط کو آسان اور سادہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے ایک نئے شعبہ کے قیام کی تجویز ہے جو ٹیکس کے دائرہ کار اور ادائیگی ریکارڈ کیپنگ کیلئے مخصوص قوا عد و ضوابط کی صراحت کرنے ‘ چھوٹے کاروبار ‘ تعمیراتی کاروبار ‘ میڈیکل پریکٹیشنرز ‘ ہسپتال ‘ تعلیمی ادارے اور وفاقی حکومت کی جانب سے بتائے گئے کسی بھی شعبے کے حوالے سے گوشوارے جمع کرانے اور تشخیص کیلئے طریقہ کار وضع کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہاکہ مخصوص شرائل کی تکمیل کے بعد غیر منافع بخش تنظیموں ‘ ٹرسٹ اور ویلفیئر اداروں کو سو فیصد کریڈٹ دینے کی اجازت ہے۔ قانون کے تحت کمشنر کے ذریعے منظور شدہ غیر منافع بخش تنظیموں (این پی اوز) کو 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ دینے کی اجازت ہے۔ جب (این پی اوز) کی منظوری کی شرط موجود ہو تو ٹرسٹ اور ویلفیئر اداروں کیلئے ایسی شرط کا اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ تجویز دی جاتی ہے کہ ٹرسٹ اور ویلفیئر اداروں کو دچاہیے کہ وہ 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ کی سہولت حاصل کرنے کے لئے این پی اوز سٹیٹس کی منظوری حاصل کریں۔ انہوں نے کہاکہ Transfer Pricing کا ایک عموملی طریقہ ہے جس میں Sister کمپنیوں کے ذریعے سے منافع کم ظاہر کیا جاتا ہے ایسی صورتحال میں لین دین میں اصل مارکیٹ کی قیمت کو یقینی بنانے کے لئے ڈیٹا کا جامع موازنہ کرنے کی ضرورت ہے چونکہ اس قسم کا ڈیٹا آسانی سے دستیاب نہیں ہوتا اس لئے تجویز ہے کہ کمشنر کو ایک خود مختار چارٹر اکاﺅنٹٹ فرہم سے ایسا ڈیٹا حاصل کرنے کے لئے اختیار دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت افراد کی ایسوسی ایشن کے ایک رکن کی جانب سے قابل ادا ٹیکس اور ٹیکس ایسوسی ایشن سے وصول کیا جا سکتا ہے اس کے برعکس افراد کی ایسوسی ایشن کی طرف سے قابل ادا ٹیکس کے اس رکن سے وصول نہیں کیا جا سکتا ۔ ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنانے کے لئے یہ تجویز ہے کہ جہاں افراد کی ایسوسی ایشن کی جانب سے قابل ادا ٹیکس کسی بھی فرد سے وصول کیا جا سکتا ہے جو ایسوسی ایشن کا رکن ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجویز پیش کی جاتی ہے کہ آڈٹ کی تکمیل اور آڈٹ رپورٹ کے اجراءکے عمل کو آڈٹ کی بنیادی آمدن کے تشخیص سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ قانون کے تحت آڈٹ اور تشخیص کی شرائط کو الگ کرنے کے ذریعے یہ تجویز دی جاتی ہے کہ آڈٹ اور تشخیص کے فرائض کا الگ اور خود مختار افسران کے ذریعے انجام دئیے جائیں گے تاکہ ٹیکس گزاروں سے غیر جانبدار رویہ کو یقینی بنایا جائے۔ فی الوقت صرف ٹیکس گزاروں کو چاہیے کہ وہ ٹیکس کے مقاصد کے تحت بورڈ سے رجسٹرڈ ہوں۔ کاروبار سے آمدن حاصل کرنے والے جو ٹیکس کے زمرے میں نہیں آتے انہیں رجسٹرڈ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ایک قابل اعتماد ڈیٹا بیس تشکیل دینے کےلئے یہ تجویز دی جاتی ہے کہ کاروبار سے آمدن کمانے والے ہر ایک شخص حتیٰ کہ ٹیکس کے ذمرے سے کم ہو اسے چاہیے کہ وہ سہولت مراکز کے ذریعے بورڈ سے کاروباری لائنس حاصل کریں۔ واضح رہے کہ اس اقدام کا مقصد کم آمدن والے کاروبار سے گوشوارہ اور ٹیکس لینا نہیں بلکہ قومی معیشت کی Documentation کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ملک کو مالیاتی مشکلات سے نکالنے کی پوری کوشش کر رہی ہے جبکہ یہ مشکل کسی اور کی لائی ہوئی ہے ایک آسان راستہ تو یہ تھا کہ ہر مقامی اور بین الاقوامی ذریعے سے بہت سا قرضہ پکڑ لیا جاتا مگر حکومت جلد بازی کے حل نہیں چاہتی بلکہ ہم نے ملک کی خاطر مشکل راہ کا انتخاب کیا ہے جیسا کہ پہلے کیا گیا کہ ہم نے مالی انتظام کے ہر شعبے جیسے Macro Polocy Reform سے لے کر بزنس فلو تک اور قرض کی وسط مدتی پالیسی تک ہر معاملے کا احاطہ کیا ہے۔ پہلا ایک آدھ سال سخت ہو گا مگر پھر پائیدار بنیادوں پر ہماری محنت کا پھل ملنا شروع ہو جائے گا جس کا فائدہ سب لوگوں کو ہو گا جیسا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے فرما یا ہے۔ ”یقین ‘ نظم اور کام کی لگن کے ساتھ ایسا کچھ نہیں جو آپ حاصل نہ کر سکیں۔“

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*