ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو لند ن میں گرفتار کرلیا گیا

Muttahida Qaumi Movement (MQM) chief Altaf Hussain

لندن (اے این این ) متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیوایم)کے بانی الطاف حسین کو لندن میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو لندن میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے صبح سویرے الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔بانی ایم کیوایم کو 2016 میں نفرت انگیز تقاریر کے مقدمات میں حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے حوالے سے پاکستانی حکومت نے تفصیلات برطانیہ کو فراہم کی تھیں، لندن پولیس اپنے قانون کے مطابق الطاف حسین سے تحقیقات کرے گی۔گرفتاری کے بعد ایم کیو ایم کے بانی کو مقامی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا جب کہ اس وقت الطاف حسین کے گھر کی تلاشی لی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق شمالی لندن میں چھاپے میں 15 پولیس افسران نے حصہ لیا۔یاد رہے کہ الطاف حسین نے 22 اگست 2016 کو لندن سے بذریعہ ٹیلیفونک خطاب کے دوران پاکستان مخالف تقریر کی تھی جس کی تحقیقات کے لیے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم بھی پاکستان آئی تھی۔خیال رہے کہ رواں برس اپریل میں برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس کی 12 رکنی ٹیم نے ایم کیو ایم لندن کے قائد الطاف حسین کی 2016 کی متنازع تقریر سے متعلق کیس میں اپنی تفتیش مکمل کی تھی۔اس سلسلے میں برطانوی پولیس کیس میں ثبوتوں کے حصول اور گواہوں کے بیانات کے لیے پاکستان آئی تھی، اس تفتیش کے دوران سندھ پولیس حکام کی ٹیم کے 6 اراکین برطانوی پولیس کی انسداد دہشت گردی کمانڈ(ایس او15)کے سامنے بطور گواہ پیش ہوئے تھے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔کیس کی تفتیش کے دوران برطانوی پولیس کے ماہرین نے سندھ پولیس کے ان حکام کا انٹرویو کیا جو اس وقت صدر کراچی میں تعینات تھے جب 22 اگست 2016 میں الطاف حسین نے پاکستان مخالف تقریر کی تھی۔واضح رہے کہ کو ایم کیو ایم کے قائد کی اس تقریر کے بعد ان کی جماعت کے حامیوں نے کراچی پریس کلب کے قریب میڈیا ہاسز پر مبینہ طور پر حملہ کیا تھا، پرتشدد کارروائیاں کی تھی اور گاڑیوں کو نذرآتش کیا تھا۔تفتیش سے متعلق سرکاری ذرائع کا کہنا تھا کہ برطانوی سی ٹی سی ٹیم کا مقصد 22 اگست 2016 کے واقعے کے اہم گواہوں سے تحریر بیان کو ثبوت کی شکل میں حاصل کرنا تھا۔برطانوی پولیس کی جانب سے حاصل کیے گئے ثبوتوں کو اس بات کا تعین کرنے کے لیے کران پروسیکیوشن سروس کے سامنے پیش کرنا تھا کہ آیا برطانوی عدالتوں میں الطاف حسین کے خلاف کارروائی کے آغاز کے لیے یہ کافی مواد ہے۔واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف نہ صرف نفرت انگیز تقریر بلکہ دیگر مقدمات بھی ہیں، جس میں تفتیش جاری ہے۔اس سے قبل سال 2013 میں لندن پولیس نے الطاف حسین کے گھر اور دفتر پر ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں چھاپے مارے تھے، جس میں الطاف حسین کے گھر سے مبینہ طور پر بڑی تعداد میں نقدی برآمد ہوئی تھی جسے ‘پروسیڈ آف کرائم ایکٹ’ کے تحت قبضے میں لے لیا گیا تھا۔اس کے بعد لندن پولیس نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے علاوہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات بھی شروع کردی تھی۔ایم کیو ایم کے بانی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جون 2014 میں الطاف حسین کو برطانیہ میں پولیس نے تحقیقات کے لیے حراست میں لیا تھا، تاہم انہیں چند روز بعد رہا کردیا گیا تھا۔ بعد ازاں کیس کی تحقیقات کے دوران ان کی ضمانت میں کئی بار توسیع کی گئی۔13 اکتوبر 2016 اسکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف حسین کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس ختم کردیا تھا، تاہم بعد ازاں 2017 میں حکومت پاکستان نے برطانیہ سے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات ختم کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی تھی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*