مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روئی کے بھاو میں مجموعی طور پر استحکام رہا

کراچی (این این آئی)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران روئی کے بھاو¿ میں مجموعی طور پر استحکام رہا۔ اچھی کوالٹی کی روئی کی خریداری میں ملیں دلچسپی لے رہی ہیں کئی ملز عید الفطر کی طویل تعطیلات کی وجہ سے اچھی کوالٹی کی روئی کی عید شاپنگ کررہی ہیں۔ صوبہ سندھ وپنجاب میں روئی کا بھاو¿ فی من 7500 تا 9000 روپے رہا۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 100 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 8800 روپے کے بھاو¿ پر بند کیا۔ جنرز کے پاس تقریبا تین لاکھ گانٹھوں کا اسٹاک موجود ہے جب کہ جون میں صوبہ سندھ میں دو تین جننگ فیکٹریاں نئی فصل سے چل جائے گی فی الحال صوبہ سندھ کے کپاس پیدا کرنے والے زریں علاقوں میں جزوی طور پر پھٹی کی آمد شروع ہو چکی ہے جس کا بھاو¿ فی 40 کلو 3800 تا 4100 روپے چل رہا ہے اندرونِ سندھ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فی الحال کپاس کی فصل تسلی بخش ہے گو کہ صوبہ پنجاب کے کپاس پیدا کرنے والے کچھ علاقوں میں طوفانی بارشوں اور ژالہ باری کے باعث کپاس کی دوبارہ بوائی کرنی پڑی ہے تاہم فی الحال فصل غیر تسلی بخش کہی جاسکتی ہے بوائی جون تک ہوتی رہے گی۔تاہم صوبہ پنجاب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں کئی علاقوں میں کپاس کی فصل کے متعلق مختلف آرا سامنے آرہی ہے کپاس پیدا کرنے والے کئی علاقوں کے کاشتکار کپاس کے بجائے مکئی اور دھان کی فصل کو ترجیع دے رہے ہیں۔دریں اثنا کراچی کاٹن بروکرزفورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ حکومت کی نئی اقتصادی پالیسیوں سے برآمدکنندگان پریشان نظر آتے ہیں پانچ زیرو ریٹیڈ صنعتوں سے رعایت واپس لینے کی خبریں گردش کر رہی ہیں ٹیکسٹائل سیکٹر سے توانائی انرجی پیکیج ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے علاوہ ازیں صنعتوں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگایا جارہا ہے۔ جس کے باعث صنعت کار پریشان ہیں وہ اخباروں میں اشتہارات کے ذریعے حکومت سے استدعا کر رہے ہیں کہ پہلے ہی توانائی کی قیمت میں اضافہ بینک انٹرسٹ میں اضافہ اور ڈالر کے بہاو¿ میں اضافے کی وجہ سے پیداواری قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث برآمد بری طرح متاثر ہو رہی ہے پیٹرول مصنوعات توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کی خبروں کی وجہ سے کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے نئے ٹیکس سے برآمدات کم ہوجائے گی صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ ان حالات میں صنعتیں چلانا ناممکن ہوتا جارہا ہے بیشتر صنعتکار ہڑتال کا مشورہ دے رہے ہیں ٹیکسٹائل سیکٹر کے سربراہ گوہر اعجاز نے کہا کہ حکومت زیرو ریٹیڈ کی رعایت ختم کرے گی تو برآمد کا حجم 3 ارب ڈالر کم ہوکر 24 ارب ڈالر سے کم ہوکر 21 ارب ڈالر پر آ جائے گا دوسری جانب صنعت کاروں کا کہنا کہ ملک کی معیشت کی ذمہ داری آئی ایم ایف کے درآمدشدہ لوگوں کے ہاتھ میں آگیا ہے انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ کے سیکرٹری یونس ڈھاگہ کو اور وفاقی ٹیکسٹائل و انڈسٹری کے مشیر عبدالرزاق داو¿د کو سائیڈ لائن کر دیا ہے کیونکہ وفاقی سیکرٹری خزانہ آئی ایم ایف کی کڑی تجاویز سے اتفاق نہیں کررہے تھے جبکہ عبد الرزاق داود برآمدکنندگان 5 سیکٹر سے زیرو ریٹڈ مراعات واپس لینے کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود مشیر خزانہ ناصرف زیرو ریٹڈ مراعات ختم کرنے بلکہ صنعتوں پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر رہے ہیں اس طرح حکومت کے اہلکاروں اور آئی ایم ایف کے مشیروں کے درمیان ایک قسم کی نااتفاقی چل رہی ہے۔جس کے ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ ان معاملات سے ٹیکسٹائل سیکٹر کا زیادہ واسطہ ہے اس کے اثرات کپاس کے کاروبار پر بھی پڑھ رہے ہیں ٹیکسٹائل سیکٹر میں بے یقینی کی صورتحال بڑھتی جارہی ہے یہ سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والا سیکٹر فی لحال بحرانی کیفیت میں ہے جس کا اثر کپاس کے کاروبار پر بھی نظر آ رہا ہے۔گو کہ حکومت کے سخت اقدام کی وجہ سے روپے کے نسبت ڈالر کی دوڑ میں کمی واقع ہو رہی ہے لیکن لوگوں کا خیال ہے کہ ڈالر کا بھاو¿ دوبارہ بڑھ جائے گا دریں اثنا بین الاقوامی کاٹن مارکیٹ میں روئی کے بھاو¿میں اضافہ کا رجحان کہاں جاسکتا ہے نیو یارک کاٹن کے بھا میں ملا جلا رجحان رہا جبکہ بھارت میں روئی کے بھاو¿ میں اضافہ کا رجحان رہا ہے چین میں ملا جلا رجحان کہا جاسکتا ہے۔ عید الفطر کی طویل تعطیلات کے باعث آئندہ پورا ہفتہ تعطیلات میں گزر جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*