نریندر مودی اب کیا کرے گا؟

جاوید صدیق
بھارتی تاریخ میں کانگریس کے بعد بی جے پی دوسری جماعت ہے جو مسلسل دوسری مرتبہ بھارت میں عام انتخابات جیت کر حکومت بنا رہی ہے۔ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے لوک سبھا کی 350 نشستیں جیت لی ہیں۔ کل 25 مئی کو شام پانچ بجے بی جے پی کے نو منتخب ارکان نریندر مودی کو اپنا پارلیمانی لیڈر منتخب کریں گے۔ کل ہی مودی وزارت عظمیٰ کے منصب سے اپنا استعفیٰ بھارتی صدر کو پیش کر دیں گے۔ مئی 2014 کی طرح مئی 2019ء میں نریندر مودی کا جادو چل گیا ہے۔بھارت عام خیال یہ تھا کہ نریندر مودی نے معاشی محاذ پر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کی اس لیے عام انتخابات میں اسے بڑی کامیابی نہیں مل سکے گی۔ بھارتی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کی رائے تھی کہ اگر بی جے پی جیت بھی گئی تو وہ کم اکثریت سے جیتے گی اسے بھاری اکثریت نہیں ملے گی لیکن یہ رائے غلط ثابت ہوئی۔ نریندر مودی کو امریکی میگزین ٹائم نے اپنی سرورق کی سٹوری میں ”منقسم اعلیٰ“ قرار دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ نریندر مودی نے بھارت کو اکٹھا کرنے کی بجائے اسے تقسیم کر دیا ہے۔ مودی نے بھارت کو ایک سیکولر جمہوریت ہونے کا امیج تباہ کر دیا ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود نریندر مودی نے کامیابی حاصل کرلی۔اب بھارت کے اندر اور باہر یہ سوچا جارہا ہے کہ نریندر مودی اب کیا کرے گا؟ اس کی دوسری وزارت عظمیٰ کیسی ہوگی؟ کیا وہ ”ہندوتوا“ کے فلسفے کو لے کر آگے بڑھے گا اور بھارتی اقلیتوں کی زندگی عذاب کر دے گا یا وہ اس کی پالیسی اور سوچ میں تبدیلی آئے گی۔ معروف بھارتی صحافی تیولین سگھ کی رائے ہے کہ اپنی دوسری حکومت میں نریندر مودی ”ہندوتوا“ خفیہ وقوم پرستی کے فلسفے کو شاید ترک کردے گا۔ لیکن بہت سے بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے مودی کو ”ہندوتوا“ کی بنیاد پر ہی ووٹ ملا ہے۔ اسی وجہ سے مینڈیٹ دیا گیا ہے وہ اس مزے کو کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ وہ اپنی دوسری حکومت میں بھارتی مسلمانوں کے لیے مزید سخت پالیسیاں اپنائے گا۔ اس بات کا خدشہ ظاہرکیا جارہا ہے وہ اب بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 کو نکال دے گا۔ آرٹیکل 370 وہ آرٹیکل جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کو بھارتی آئین خصوصی حیثیت دیتا ہے اس آرٹیکل کے تحت کشمیر میں غیر کشمیری پراپرٹی بھی خرید سکتے اور نہ وہ وہاں آباد ہوسکتے ہیں۔ نریندر مودی نے پچھلے پانچ سال میں کشمیریوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کئے رکھا۔ اس نے سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کونہ صرف شہید کر دیا۔ بلکہ ان کے چہرے پلیٹ گنوں کے ذریعے مسخ کرائے۔ کشمیری خواتین کی عزتوں کو بھارتی فوج کے ذریعہ پامال کیا۔ اس نے بھارتی فوج کو کھلی چھٹی دی کہ وہ کشمیری مسلمانوں خاص طور پر کشمیری نوجوانوں کی نسل کشی کرے۔
مودی نے پچھلے پانچ سال میں پاکستان سے دشمنی کی پالیسی اختیار کی۔ لائن آف کنٹرول پر روزانہ بلااشتعال فائرنگ جاری رکھی۔ آزاد کشمیر میںدرجنوں کشمیریوں کو جن میں بوڑھے‘ بچے اور خواتین شامل تھیں کو ٹارگٹ کیا اور انہیں شہید کیا۔ ان کے گھر بھی تباہ کرائے۔ مودی کی اس پالیسی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی شروع ہوتے ہوتے رہ گئی۔وزیراعظم عمران خان نے نریندر مودی کو انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد دی ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ نئی مودی سرکار پاکستان کے ساتھ اپنے مسائل بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کرے گی اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں توقع ظاہر کی تھی کہ دوبارہ الیکشن جیت کر نریندر مودی پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی بدل سکتا ہے اور پاکستان کے ساتھ کشمیر سمیت دوسرے مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔ وقت بھی بتائے گا کہ نئی مودی سرکار پاکستان کے بارے میں کیا پالیسی اپناتیہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ نریندر مودی اپنی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان وزیراعظم کو مدعو کرتا ہے یا نہیں کیا وہ سارک ملکوں کے دوسرے سربراہوں کو حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دے گا یا نہیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کو تو نریندر مودی نے 2014ء کے انتخابات جیتنے کے بعد حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی اور پاکستان سے دوستی کی باتیں کی تھیں لیکن بوجوہ یہ بیل منڈے نہ چڑھی۔اگلے ماہ شنگھائی تعاون تنظیم ایس پی او کے سربراہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی شرکت کریں گے اس موقع پر مودی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرتے ہیں یا انہیں بات چیت کی دعوت دیتے ہیں یہ دیکھنا باقی ہے۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ مودی کی سوچ میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔ کئی حلقوں کا خیال ہے کہ نئی مودی حکومت پاکستان کے بارے میں پہلے سے زیادہ سخت پالیسی اپنائے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے مشکلات بڑھیں گی اور خطے کو استحکام نصیب نہیں ہو پائے گا۔ اپنی دوسری حکومت مودی کیا کرے گا اس بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے موصوف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ UN PREDICTABLEشخص ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*