وزیر اعلیٰ، وزیر تعلیم اور وزیر قانون کہاں ہیں؟؟؟؟

تحریر:محمد اکرم چودھری
پیارے پاکستانیو کیا خیال ہے آج محکمہ تعلیم پر بات کریں، محکمہ قانون کی کارکردگی کا جائزہ لیں، وزیر اعلیٰ کے باخبر ہونے کا احوال جانیں۔ آپ بھی کہتے ہوں گے کہ کیا ہر روز، ہر کالم میں ہم مافیا، مافیا اور مافیا کی گردان کرتے ہیں۔ ممکن ہے بعض پڑھنے والے سمجھتے ہوں کہ کم ضرورت سے زیادہ اس لفظ پر زور دیتے ہیں، ہو سکتا ہے کچھ لوگ سمجھتے ہوں کہ ہم منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ ہر کسی کے سوچنے کا انداز مختلف ہے۔ ہم کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے لیکن وطن کا قرض ہے کہ اس ملک کو لوٹنے والوں اسکی جڑیں کھوکھلی کرنیوالوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے اور اپنے معصوم پاکستانیوں کو بتاتے رہیں گے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ کیسے منظم انداز میں مافیا اس ملک کو لوٹ رہا ہے، اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے، اس ملک کی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔ یہ مافیا ہر شعبے میں ہے، صحت، تعلیم، سپورٹس، معیشت، تجارت غرض کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جہاں اس مافیا کا وجود نہ ہو۔ اس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں، اسکی جڑیں بہت مضبوط ہیں اور ریاست کے ملازم اس مافیا کے ملازم ہیں۔ محمکہ تعلیم بھی اس مافیا سے آزاد نہیں ہے بلکہ اس شعبے میں مفاد پرستوں کے تعلق بہت گہرے اور مضبوط ہیں۔ آج ہم آپکو بتائیں گے کہ کیسے اس ملک میں سرکاری سکولوں کا بیڑہ غرق کیا گیا ہے، کیسے ریاست کے وسائل کو مافیا کے سپرد کر کے نظام تعلیم کو کاروبار بنانیوالوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ آج ایک واقعہ آپ کے سامنے رکھیں گے تاکہ آپ کو سمجھنے میں آسانی ہو کہ اس ملک میں نظام تعلیم کو کس منظم انداز میں تباہ و برباد کیا جارہا ہے۔چند دن قبل کسی نیوز چینل پر ٹکرز چل رہے تھے کہ فیروز والہ کے علاقے میں کسی گرلز سکول پر کچھ تعلیم دشمن عناصر حملہ آور ہوئے ہیں، توڑ پھوڑ کی ہے، بچیوں کو سکول داخلے سے روک دیا ہے، ٹیچرز اور طالبات کو یرغمال بنایا، سکول کے فرنیچر کو نقصان پہنچایا اور پودے اکھاڑ دیے، سکول کے عملے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ بعد میں ہم نے کچھ تفتیش کی، خاموشی سے کیس کی پیشرفت لیتے رہے۔ معلوم ہوا کہ وطن کی ایک بہادر بیٹی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نازیہ کرامت گورایہ نے ان تعلیم دشمنوں کے خلاف متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر کے لیے درخواست جمع کروائی ہے۔قارئین کرام آپ یہ سمجھ رہے ہونگے کہ متعلقہ پولیس افسران نے فورا ایف آی آٓر درج کی ہو گی اور ملزموں کی گرفتاری کے لیے کام شروع کر دیا ہو گا۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ یہ وقوعہ سولہ مئی کو ہوا اور اسکی ایف آئی آر انیس مئی کو درج کی گئی۔ ون فائیو پر کال کی وجہ سے پولیس خود وقوعہ دیکھ چکی تھی۔ ایف آئی آر درج کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی، کیا پولیس نے سولہ تاریخ کو موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ نہیں لیا تھا، کیا اسے وہاں توڑ پھوڑ نظر نہیں آئی، جن لوگوں نے یہ کارروائی کی تھی کیا پولیس ان سے واقف نہ تھی، کیا ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا، کیا ایف آئی آر کے لیے درخواست حقائق پر مبنی نہیں تھی، اگر ایف آئی آر انیس مئی کو درج ہوئی ہے تو سولہ کو بھی ہو سکتی تھی، ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جائز ایف آئی آر کے لیے بھی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے بہت بھاگ دوڑ کی ہے، سفارشیں ڈھونڈی ہیں، افسران سے ذاتی حیثیت میں بات چیت کر کے انہیں قائل کیا ہے کہ وہ اس نیک کام میں ساتھ دیں، قانونی کارروائی کریں تاکہ بچیاں سرکاری سکول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ تب جا کر ایف آئی درج ہوئی ہے۔اب کیا ہو گا، نیچے والا سارا عملہ اس خاتون ایجوکیشن افسر کو ڈرائے دھمکائے گا، تنگ کرے گا، اس کے محکمے سے دباﺅ ڈلوایا جائے گا، بجائے اس کے کہ اس بہادر افسر کی مدد کی جائے اسکو نشان عبرت بنانے کا سامان کیا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی اس مافیا کے سامنے کھڑا ہونے کی جرات نہ کر سکے۔ یہ ہمارا عمومی رویہ ہے افسر شاہی مافیا کے ساتھ مل جاتی ہے سرکار سوئی رہتی ہے اور ریاست لٹتی رہتی ہے اور لٹیروں کے خلاف کھڑا ہونے والوں کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔اب اس واقعہ کا دوسرا حصہ پڑھیں جن افراد نے اس سکول پر دھاوا بولا وہ خود بھی وہاں پی سی ایف کے تحت بچوں کا سکول چلاتے ہیں اور بچیوں کے سکول پر بھی قبضے کے خواہشمند ہیں۔ یہ سارا مسئلہ پنجاب ایجوکیشن فاو?نڈیشن کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے۔ چونکہ پی ای ایف کے تحت چلنے والوں سکولوں میں بچوں کی تعداد کے حساب سے پیسے ملتے ہیں۔ یوں مقصد تعلیم نہیں مال و دولت ہے۔ سرکار نے ان سکولوں کو انفراسٹرکچر دیا، کروڑوں کی عمارت بنا کر دی اور پھر پیسہ بنانے والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ پنجاب بھر میں ہزاروں کی تعداد میں سکول پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے تحت چل رہے ہیں اور ہزاروں سکولوں سے ہزاروں شکایات ہیں۔ تعلیم کا معیار پست ہے۔ ریاست کی مشینری انہیں سپورٹ کرتی ہے لیکن کسی بھی قسم کی بے قاعدگی پر محکمہ تعلیم انہیں پوچھنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا، یہ لوگ آزاد اور خود مختار ہیں، طاقتور ہیں ان کے سامنے کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا، دور دراز علاقوں میں ان سکولوں کے چلانے والے بااثر لوگ ہیں وہ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ماسوائے چند ایک علاقوں کے پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے تحت چلنے ہزاروں سکول ملک کے مستقبل کو برباد کر رہے ہیں۔ جہاں یہ سکول کام کرتے ہیں وہاں سے منظم منصوبہ بندی کے تحت سرکاری سکولوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ پی سی ایف کے تحت کام کرنے والے سکولوں میں بچوں کے ساتھ مار پیٹ کی اطلاعات عام ہیں۔ بیس مئی کو شیخوپورہ کے نواحی گاﺅں ملی والا کے ایک سکول میں بھی طلبا کو الٹا لٹکا کر تشدد کی ویڈیو وائرل ہوئی محکمہ ایجوکیشن کے سی ای او کا موقف ایک ٹی وی چینل پر نظر ا?یا کہ “سکول پنجاب ایجوکیشن فاو?نڈیشن کے زیر انتظام ہے، ہم کارروائی نہیں کر سکتے”۔اسے کہا جاتا ہے مافیا اسے کہتے ہیں ریاست کے اندر ریاست، اسے کہتے ہیں طبقاتی نظام تعلیم، یہ ہماری حکومتیں کیا کر رہی ہیں۔ کیوں ہمارے بچوں کو ظالموں کے سپرد کر دیا گیا ہے، کیوں ہمارے معصوم بچوں کو بیوپاریوں کے حوالے کر دیا گیا، کیوں ہمارے معصوم بچے بے رحم افراد کے سپر کر دیے گئے ہیں۔پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن اس لیے قائم کی گئی کہ سرکاری سکولوں میں خرچہ زیادہ آتا ہے۔ کیا ریاست کا پیسہ ملک کے مستقبل پر خرچ نہیں ہو سکتا، کیا ریاست کا پیسہ میرے معصوم بچوں سے زیادہ اہم ہے، کیا ریاست کے افسروں کے خرچوں میں کوئی کمی آئی ہے، کیا حکمرانوں کی فضول خرچی میں کوئی کمی آئی ہے، اگر حکمران طبقے کے لیے ریاست کے وسائل کے بے دریغ استعمال ہو رہے ہیں تو میرے ملک کے بچوں کی تعلیم پر سمجھوتا کیوں کیا گیا ہے۔ معیاری تعلیم تو دور کی بات ہے مختلف علاقوں میں جو سرکاری سکول چل رہے تھے ان کا بیڑہ غرق کرنے کا سلسلہ کسی اور نے نہیں ہمارے حکمرانوں نے شروع کیا تھا۔ یہ سازش غیر ملکی ایجنسیوں نے نہیں ہمارے اپنے حکمرانوں نے تیار کی تھی اور آج اسکا خمیازہ میرے ملک کے ننھے منے بچے بھگت رہے ہیں۔ جو اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے سرکار کے ساتھ مل کر اسکو بھی نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔کیا عوام یہ جاننے میں حق بجانب نہیں ہیں کہ پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے سکول کس نظام کے تحت چل رہے ہیں، ان سکولوں میں تعلیم کا معیار کیا ہے، ان سکولوں میں اساتذہ کی بھرتی کا طریقہ کار کیا ہے، یہ سکول کس ضابطہ اخلاق کے تحت کام کر رہے ہیں، ان سکولوں کی نگرانی کون کر رہا ہے، ظلم و ستم پر ان کے خلاف کارروائی کرنے والا ادارہ کون سا ہے، کون ہے جو ان کو پوچھے گا، کون ہے جو ان بیوپاریوں کو لگام ڈالے گا؟؟؟مال بنانے کے چکر میں میری قوم کے بچوں کا سودا کر دیا گیا۔ کہاں ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیا وہ نہیں جانتے کہ ان کے دفتر سے آدھ گھنٹے کے فاصلے پر سکولوں کو تالا لگایا جا رہا ہے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، کیا وہ نہیں جانتے کہ پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن مافیا سرکاری سکولوں کو کھا رہا ہے، وزیر اعلیٰ نے اس ضمن میں کیا کارروائی کی ہے، کیا اس اہم مسئلہ کو انکے کانوں تک پہنچانے کے لیے کسی چندہ دینے والے کی خدمات حاصل کی جائیں، کہاں ہیں وزیر قانون کیا وہ نہیں جانتے کہ سکول کی تالا بندی ہوئی اور پولیس نے بروقت ایف آئی آر درج نہیں کی اور اب تک ملزمان کو گرفتار بھی نہیں کیا۔ کہاں ہیں وزیر تعلیم جو یہ نہیں جانتے کہ انکے محکمے کا حال کیا ہے، کیسے ملک کے مستقبل کو برباد کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ سب لوگ صرف سرکاری دفاتر کا مزہ لینے اور عہدوں سے ذاتی فائدے حاصل کرنے کے لیے حکومت میں آئے ہیں۔پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کا سلسلہ چودھری پرویز الٰہی سے ہوتے ہوئے شہباز شریف تک پہنچا اور عثمان بزدار تک تباہی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان کا احتساب کوئی نہیں کر سکتا، یہ خودمختار ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔میرے پاکستانیو یہ ہے وہ مافیا جس بارے ہم آپکو بتاتے رہتے ہیں ہمارا عزم ہے کہ اس مافیا کے اختتام تک ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ مافیا کے خلاف بہادر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسر نازیہ کرامت گورایہ کا اقدام قابل تعریف ہے۔ہم سب کو مل کر ان کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ ریاست کے اداروں کو ان لٹیروں سے آزاد کروایا جا سکے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*