اپوزیشن کا عید کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانےکا فیصلہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک افطار ڈنرر دیا گیا جس میں اپوزیشن جماعتوں علماءاسلام ،پاکستان مسلم لیگ ن، اے این پی ،پشتونخوامیپ ،بی این پی سمیت دیگر نے حصہ لیا ۔اجلاس میں عید کے بعد حکومت مخالف تحریک چلانے پر غور کیا گیا ۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی جس کی قیادت جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کرینگے اور اس طرح پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کیا جائیگا۔
پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کا ملک میں زبوں حالی کا شکار معاشی صورتحال ،ڈالر ،پٹرول ،گیس اور اشیاءخورودونوش کی قیمتوں میں اضافے ،حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے سمیت اہم معاملات کےخلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کرنے کا فیصلہ قابل غور بات ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ملک میں جمہوریت کےلئے خطرہ ہوسکتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ملک کو مذکورہ مسائل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے موجودہ حکومت بڑی مشکل میں ہے خصوصاً ملک کی خراب معاشی صورتحال اور اس کے ساتھ ساتھ بیرونی قرضوں کی بھر مار اور پھر ان پر سود کی مد میں ادائیگی جیسے بڑے گھمبیر مسائل ہیں جوکہ ملک کی بقاءکےلئے اچھا شگون نہیں ہے یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ ملک میں موجودہ حکومت نے برسراقتدار آتے ہی تاریخی مہنگائی کی ہے۔ ضروریات زندگی بجلی ،گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بہت زیادہ مہنگی ہو گئی ہےں جس کی وجہ سے غریب عوام کی بھی زندگی دو بھر ہو گئی ہے جس سے ان کا بجٹ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے اور وہ دو وقت کی روٹی کے حصول کےلئے پر یشان ہیں ۔
اس تمام صورتحال کے بعد اپوزیشن جماعتیں جن میں ایسی جماعتیں بھی شامل ہیں جو پچھلی حکومتوں میں شامل رہی ہیں اور ان کے دور میں بھی مہنگائی ہوتی رہی ہے ان میں شامل دو بڑی پارٹیوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت پر کرپشن اور دیگر ناجائز ذرائع سے آمدن حاصل کرنے کے الزامات بھی ہیں اس سلسلے میں عدالتوں میں کیس بھی چل رہے ہیں جس میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دیا جاچکا ہے ۔
اس طرح اب ان جماعتوں کا حکومت کےخلاف تحریک چلانے کا فیصلہ ملک اور جمہوریت کے مفاد میں نہیں ہے کیونکہ پاکستان کی یہ روایت رہی ہے کہ جب کوئی پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے تو سب کچھ کی صحیح ہے کی رٹ لگائی ہوتی ہے لیکن جب اقتدار سے باہر ہوتی ہے تو سوائے مخالفت کے کچھ نہیں کیا جاتا ۔
یہاں ہونا تو یہ چاہےے کہ اس وقت ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے ایسے میں تمام سیاسی جماعتوں کو بلاتفریق مل کر اس کا حل نکالنا چاہےے کیونکہ یہ ملک سب کا ہے اگر یہ ہوگا تو یہی جماعتیں دوبارہ اقتدار میں آسکتی ہےں ۔
اس طرح تحریکیں چلانے سے حالات سازگار نہیں ہوتے بلکہ خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے جس کے تلخ تجربے ماضی میں بھی ہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں جمہوریت کو نقصان پہنچنے کےساتھ ساتھ ملک کو بھی نقصان ہوا جو بلاشبہ اچھا شگون نہیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*