گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کی تیاری

ایک خبر کے مطابق حکومت نے ایک بار پھر عوام پر گیس بم گرانے کی تیاری کرلی ۔اوگرا نے گیس کے نرخوں میں 235فیصد اضافے کی سفارش کردی۔ اس سے گیس صارفین پر اضافی 175ارب روپے کا بوجھ پڑے گا ۔گھریلو صارفین کےلئے ماہانہ 50کیوبک میٹر استعمال پر 100.248کیوبک میٹر تک استعمال پر 242جبکہ 200کیوبک میٹر گیس استعمال پر 289روپے فی ایم ایم بی ٹویو اضافہ ہوگا۔ ماہانہ 300تا400کیوبک میٹر استعمال کرنے والے صارفین کےلئے 326فی ایم ایم بی ٹی یو اضافی دیناہونگے۔ اسی طرح دیگر شیڈول بھی جاری کردیا گیا ۔
اوگرا کی گیس کی قیمتوں میں مجوزہ اضافے کی سفار ش بلاشبہ ایک قابل مذمت اقدام ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ موجودہ حکومت نے برسراقتدار آتے ہی گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اس سے قبل بھی متعدد بار قیمتوں میں اضافہ کرچکی ہے لیکن لگتا ہے کہ ایسا کرنے کے باوجود اب بھی اس کی پیاس نہیں بجھی اور وہ عوام کو دو وقت کی روٹی کا محتاج کرکے چھوڑے گی۔ ایک ایسی حکومت جو برسراقتدار آنے سے قبل عوام کو بھر پور ریلیف دینے کی باتیں اور بڑے بلند و بالا دعوے کرتے تھکتی نہیں تھی اور ملک میں تبدیلی لانے کی باتیں کرتی تھی اس نے ملک میں کوئی اور تبدیلی تو نہیں لائی البتہ عوام پر مسلسل مہنگائی کے بم گرائے جارہے ہیں۔ لگتا ہے کہ یہی اس کی تبدیلی اور نیا پاکستان ہے کیونکہ اس سے قبل ملک میں کبھی اتنی مہنگائی نہیںہوئی۔ اس طرح موجودہ مہنگائی کی لہر تاریخی لہر ہے موجود ہ حکومت کی مذکورہ پالیسیوں کو دیکھ کر عوام سخت مایوس ہوگئی ہے کیونکہ انہوں نے تبدیلی لانے اور نیا پاکستان بنانے کےلئے پاکستان تحریک انصاف کو اس لئے ووٹ نہیں دیا تھا کہ وہ برسراقتدار آکر اسی عوام کا گلا دباتے ہوئے اسے زندگی گزار نے سے محروم کردے اور اس پر اتنی زیادہ مہنگائی کردے کہ وہ دووقت کی روٹی بھی حاصل کرنے سے یکسر محروم ہوجائیں۔ جس تیزی سے ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے اس صورت میں غریبوں کے گھروں میںفاقوں کا اندیشہ ہے کیونکہ ان کی آمدنی پہلے سے محدود ہے لیکن اس کے مقابلے میں مہنگائی کئی گناہ بڑھ گئی ہے تو اس صورتحال میں یقینا اس کے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہوجائیگا۔
ہم پہلے بھی انہی سطور میں حکومت کو صرف مہنگائی کرنے پر زور دینے کی بجائے ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کےلئے متعدد تجاویز دے چکے ہیں جن میں ملک سے لوٹی ہوئی بیرون ملک منتقل کی جانے والی دولت کی واپسی اور پاکستان میں کرپٹ عناصر کی جائیدادوں کو نیلام اور بنک اکاﺅنٹس منجمد کرکے یہ رقم قومی خزانے میں خزانے میں جمع کرائے ۔اس کے ساتھ ساتھ ایک بہترین تجویز یہ ہے کہ حکومت ملک کی معیشت کو سنبھالا دینے کی پوری سزا عوام کو دینے کے بجائے اسمبلیوں اور سینیٹ میں بیٹھے عوامی نمائندوں کے فنڈز ،تنخواہیں اور مراعات کو کم کرے کیونکہ ان کو بہت ہی زیادہ مراعات دی جاتی ہےں جوکہ بلاشبہ قومی خزانے پر ایک بڑھ بوجھ ہے۔ یہ ارکان بہت زیادہ مالدار ہوتے ہیں کوئی غریب نہیں اگر وہ ملک کی خاطر یہ قربانی دیں تو ملک ایک بار پھر خوشحال ہوسکتا ہے اور اس طرح مہنگائی بھی کم ہوسکتی ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*