معیشت کی بہتری کےلئے اقدامات

گزشتہ روز مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے معیشت کی بہتری کےلئے اقدامات کررہے ہیں ورلڈ بینک اور ایشین بینک ہمیں 2سے 3ارب ڈالر قرض دیں گے 300یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں پر اضافے کا اثر نہیں پڑے گا ٹیکس ایمنسٹی بے نامی آمدن یااثاثے رکھنے والوں کےلئے سہولت ہے ۔
مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا مذکورہ بیان عوام کو دلاسے دینے کی ایک کوشش ہے کہ ایک جانب وہ آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالر کے معاہدے کی بات کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب معیشت کی بہتری کےلئے اقدامات کررہے ہیں اور ورلڈ بینک اور ایشین بینک سے 2سے 3ارب ڈالر قرض لینے کا بھی ذکر کررہے ہیں ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی ایسی کوشش نہیں ہے کہ جس سے معیشت کی بہتری ہو کیونکہ اس سے جہاں ایک طرف ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے وہاں معیشت کی حالت روز بروز مزید بگڑرہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی کا طوفان سراٹھائے ہوئے ہے جس میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے موجودہ حکومت نے برسراقتدار آتے ہی مہنگائی میں 9ماہ کے عرصے کے دوران بہت زیادہ اضافہ کیا ہے جس سے غریب عوام کی چیخیں نکل گئی ہے۔ مہنگائی کا طوفان اب تک رکا نہیں اب گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کی سفارش کی گئی ہے ۔جوکہ قابل مذمت اقدام ہے اس کے ساتھ ساتھ سی این جی بھی مہنگی کردی گئی ہے حکومت کے مذکورہ اقدامات عوام دشمن ہیں جس سے عوام شدید معیشت کے بحران کا شکار ہوگئی ہے حالانکہ موجودہ حکومت نے برسراقتدار آنے سے قبل ملک میں گزشتہ حکومتوں کی جانب سے کی جانے والی مہنگائی پر شدید تنقید کی تھی اور برسراقتدار آنے کے بعد عوام کو بھر پور ریلیف دینے کے وعدے بھی کئے تھے لیکن اس نے حکومت جب سنبھالی تو یہ انکشاف کیا ہے کہ ان کو خزانہ بالکل خالی ملا ہے جس کی وجہ سے امور حکومت بھی نہیں چلاسکتے ۔
یہ صورتحال یقینا حکومت کےلئے پریشان کن ضرور تھی مگر اس سلسلے میں صرف عوام کو نشانہ بنانا درست اقدام نہیں حکومت کو ان سیاستدانوں سے لوٹے گئے پیسوں کو واپس لانے کے اقدامات کرنے چاہئیں حکومت کو ملک میں موجود ان کے اثاثوں کو فروخت کرکے رقم قومی خزانے میں جمع کرنی چاہےے جس سے معاشی حالات بہتر ہوسکتے ہیں قرضے لینا مسئلے کا حل نہیں ۔
جہاں تک ایمنسٹی اسکیم کا تعلق ہے تویہ موجودہ صورتحال میں ملک کی معیشت کی بہتری کےلئے اچھا اقدام ہے اس سے ملک کی معیشت کو سنبھالا مل سکتا ہے یہ حکومت کا احسن اقدام ہے اس لئے اپوزیشن کو ایمنسٹی سکیم کی مخالفت نہیں کرنی چاہےے بلکہ وہ اپنا احتساب کرتے ہوئے ملک سے لوٹ کرلے جانے والی دولت کو ملک میں واپس لانے کے اقدامات کرکے ملک سے حب الوطنی کا مظاہرہ کرے یہ ملک سب کا ہے اور اس کا بقاءسب کےلئے ضروری ہے کیونکہ ملک ہے تو سب کچھ ہے اپوزیشن کو ملک کی معیشت کی بہتری کےلئے حکومت سے تعاون کرنا چاہےے جوکہ ملک کے مفاد میں اقدام ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*