بارش نے پول کھول دیئے

گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ہونےوالی موسلادھار بارش نے میونسپل کارپوریشن سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے پول کھول دیئے۔ تھوڑی دیر ہونےوالی بارش نے شہر کو تلمل کردیا جس سے نالیوں کے بند ہونے سے بارش کا سارا پانی سڑکوں پر آگیا اور اس طرح اہم سڑکیں اور دیگر روڈ ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ اس صورتحال نے میٹروپولیٹن کا رپوریشن کے صفائی کے دعوﺅں کی کلی کھول دی کیونکہ وہ ایک عرصے سے شہر میں صفائی کی مہم کے نام سے بڑا زور وشور سے کام کررہی تھی وہ بھی صرف چند مخصوص مقامات پر کی جارہی ہے جن میں شہر کی اہم سڑکیں ہیں اس کے علاوہ کارپوریشن کو شہر گردونواح کا بالکل خیال نہیں تھا چند مخصوص مقامات کی صفائی ہونے کے باوجود وہاں پر بارش کے بعد نالیوں کے بند ہونے سے پانی سڑکوں پر آگیا۔ اس کے علاوہ کثیر سرمایہ سے کوئٹہ شہر میں بنایا جانےوالا برساتی پانی کے نکالنے کےلئے منصوبہ بری طرح ناکام ہوکر رہ گیا حالانکہ اس بڑے منصوبے پر بہت ہی زیادہ کثیر سرمایہ خرچ ہوا تھا اور اس کے تعمیر کے دوران شہریوں کو بڑی تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔ اس کی تعمیر پر بہت زیادہ عرصہ لگایا گیا تھا مگر اس کے باوجود اس کا بری طرح ناکام ہونا متعلقہ محکموں کےلئے ایک سوالیہ نشان ہے ۔
جہاں تک بات بارش کے بعد پانی کی سڑکوں پر آنے کی ہے تو یہ بہت پرانی بات ہے اس پر گزشتہ حکومتوں نے کبھی توجہ نہیں دی ۔متعلقہ اداروں کو اس کا خیال اس وقت آتا تھا جب بار ش ہوتی ہے وہ اس وقت صورتحال کو بہتر کرنے کے دعوے کرتے ہیں جو ہمیشہ کی طرح بے سود ثابت ہوتے ہیں ۔
صوبائی دارالحکومت کے نشیبی علاقوں جن میں اہم علاقے میں شامل ہیں بارش کا پانی آتا ہے لیکن اس پر آج تک کوئی حکومت قابو نہیں پاسکی جوکہ بلاشبہ قابل مذمت اقدام ہے۔ سابقہ حکومت نے کثیر سرمایہ سے برساتی نالے بنائے لیکن وہ بھی بری طرح ناکام ہوگئے ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن اور متعلقہ اداروں کو اس اہم مسئلے کی جانب خصوصی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے یہ مسئلہ صر ف بیانات دینے یا دعوے کرنے سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کرنے پڑیںگے۔ جہاں تک صفائی کی صورتحال کا تعلق ہے تو اس کو چند مخصوص علاقوں تک محدود رکھنے کی بجائے شہر کے گردونواح کے علاقوں تک پھیلایا جائے کیونکہ یہ علاقے بھی میونسپل کارپوریشن کا حصہ ہیں لیکن ان میں اکثر مقامات پر کبھی صفائی کے عملے کو نہیں دیکھا گیا ان علاقوں میں علاقے کے مکین اپنے مدد آ پ کے تحت صفائی کرتے ہیں جوکہ متعلقہ محکمے کےلئے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے کیونکہ یہاں کی عوام بھی متعلقہ محکمے کو ٹیکس ادا کرتی ہے کو صفائی جیسی بنیادی سہولت سے محروم کرنا ان کے ساتھ زیادتی کے مترادف اقدام ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*