بلوچستان اور گوادر کی ترقی ایک حقیت

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو ،صوبائی وزیر اطلاعات ظہور احمد بلیدی ،چیف سیکرٹری بلوچستان ڈاکٹر اختر نذیر سمیت آئی جی پولیس محسن حسن بٹ اور دیگر نے گوادر کا دورہ کیا اس دوران گوادر کے دہشتگردی کے واقعہ کے محرکات اور مختلف پہلوﺅں کا جائز لیا اس موقع پرا نہوں نے کہا کہ بلوچستان اور گوادر کی ترقی ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ملک اور صوبے کی ترقی کے خلاف سازشیں ناکام بنائی جائے گی پاکستان کے دشمنوں کو اس کی ترقی گوارہ نہیں جسے روکنے کےلئے وہ بلوچستان میں دہشتگرد ی کو ہوا دہتے ہیں دہشتگردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے پر تمام سکیورٹی اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں انہوں نے گوادر ہوٹل میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کی تکمیل پر اطمینان کا اظہار کیا ۔
صوبائی وزراءمیر ضیاءلانگو اور ظہور احمد بلیدی سمیت دیگر حکام کا مذکورہ بیان قابل تعریف ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان اور گوادر کی ترقی ایک حقیقت ہے جس کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں کیونکہ بلوچستان اور گوادر میں ترقی بہت جلد ہوگی چین کے تعاون سے ایک گیم چینجر منصوبہ سی پیک کا آغاز ہوگیا ہے جس کے یقینا بلوچستان اور گوادر میں مثبت نتائج بر آمد ہونگے اس لئے دشمنوں کو یہ ہضم نہیں ہورہا جس کی وجہ سے وہ دہشتگردی کی کاروائیاں کررہے ہیں جوکہ یقینا قابل مذمت اقدام ہے ایسے عوام صوبے کے مفاد میں نہیں ہے کہ کیونکہ یہ صوبے ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا جس کی وجہ سے یہ پسماندگی کا شکار رہا اور اس کی عوامج میں احساس محرومی پیدا ہوگیا اب اگر صوبہ ترقی اور کی راہ پر گامزن ہوہا ہے تو اس سلسلے میں میں تمام اکائیوں کو مل کر صوبے کی ترقی کےلئے اقدامات کرنے ہونگے کیونکہ جب تک ایسا ایسا نہیں کیا جاتا صوبہ اسی طرح پسماندگی کا شکار رہے گا اب اس کی ترقی کےلئے اگر ایک موقع ملے گا تو اس کو ضائع نہیں کرنا چاہےے ۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی قیادت میں قائم صوبائی مخلوط حکومت کو اس سلسلے میں طوری طور پر احسن اقدامات کرنے چاہئیں عوام کو اس حکومت سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں کیونکہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ایک سینئر پارلیمنٹرین ہیں وہ اپنے تجربے سے صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے اس لئے صوبے کی تمام پارٹیوں اور دیگر سیاسی رہنماﺅں کو ان کے ساتھ ساتھ بھر پور تعاون کرنا چاہےے کیونکہ بلوچستان سب کا مشترکہ صوبے ہے اور اس طرح اس کی ترقی بھی سب کے مشترکہ مفاد میں اقدام ہے ۔
اس وقت وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور اس طرح وہ بلوچستان کی مخلوط حکومت میں بھی اس کی اتحادی جماعت ہے اس طرح یہ صوبے کے بہترین مفاد میں ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے قبل بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے کے دعوے اور وعدے کرچکے ہیں اس لئے اب ان کو اپنے ان وعدوں اور دعوﺅں کو عملی جامہ پہنانے کے اقدامات کرنے چاہئیں اس سے بلوچستان ملک کے دیگر ترقی یافتہ صوبوں کے برابر آسکتا ہے جوکہ یقینا اس اور اسکے عوام کے بہترین مفاد میں ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*