پارلیمنٹ میں ”جنگ و جدل“ کا خدشہ

تحریر:نواز رضا
جمہوری نظام میں پارلیمنٹ ہی اقتدار کا سرچشمہ ہوتی ہے اس کے پاس جہاں قانون سازی کا اختیار ہوتا ہے وہاں ملک کا انتظامی سربراہ اس کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے جس پارلیمنٹ میں اپوزیشن کمزور ہو وہا ں جمہوریت بھی کمزور ہو تی ہے اور ملک کے انتظامی سربراہ میں ”فرعونیت “ آجاتی ہے ملک ” سول آمریت “ کی لپیٹ میں آجاتاہے لیکن جن جمہوری ممالک میں اپوزیشن مضبوط ہوتی ہے وہاں ملک کا انتظامی سربراہ” صلح جو“ ہوتا ہے اور وہ ”عاجز “ بن کر اپوزیشن کو ”قریب تر“ لانے کوشش کرتا ہے وہ حتی الوسع ایسی حکمت عملی اختیار کرتا ہے کہ اپوزیشن ایجی ٹیشن کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے حکومت سے مذاکرات کی میز پر بیٹھے لیکن جن جمہوری معاشروں میں اپوزیشن کو دھکے مار ایجی ٹیشن پر مجبور کیا جاتا ہے وہاں جمہوریت کی جلد ”شام“ ہو جاتی ہے اور پھر آمریت کی طویل ”سیاہ“ رات ایسی مسلط کر دی جاتی ہے جسے ختم کرنے کے لئے نسلوں کو قربانیاں دینا پڑتی ہیں خود پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ”لڑائی “ جمہورت کو پٹڑی سے اتارنے کا باعث بن چکی ہے جس سے ملک آمریت کی مضبوط گرفت میں آتا رہا ماضی میں طالع آزما حکومت اور اپوزیشن کی ”لڑائی“ کراتے رہے یا اس تاک میں بیٹھے رہتے کہ کب حکومت اور اپوزیشن میں ”میدان“ سجے تو وہ جمہوریت کی بساط ہی لپیٹ دیں۔ پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ان قوتوں کی آلہ کار بنتی رہی ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان جمہویت کی پٹڑی سے اترتا رہا۔ 25جولائی 2018ءکو ہونے والے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کے خلاف رد عمل میں متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی عوام کو سڑکوں پر آنے کی کال دینا چاہتے تھے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی خان کو ایجی ٹیشن سے روکا اور پاکستان مسلم لیگ (ن) جس کے مینڈیٹ کا سب سے زیادہ ”قتل عام ہوا اسے پارلیمنٹ کی راہ دکھائی۔ اگر اس وقت اپوزیشن اسمبلیوں کا حلف نہ اٹھاتی تو آج عمران خان کی حکومت نہ ہو تی کوئی اور”مسند اقتدار“ پر فائز ہو تا۔ پاکستا ن کی اپوزیشن کا عمران خان پر یہ کیا کم احسان ہے کہ ”متنازعہ انتخابات “ کے باوجود حلف اٹھا کر پارلیمنٹ میں بیٹھ گئی لیکن اسے پارلیمنٹ کی بد قسمتی کہیے یا کچھ اور پچھلے 10ماہ کے دوران حکومت اپوزیشن کو ”ون اوور“(win over ) نہیں کر سکی بلکہ اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کیا ہے وہ ابھی تک ”کنٹینر“ پر سوار ہے وہ مسلسل اپوزیشن کو حکومت کے خلاف دھرنا دینے کے لئے اکسا رہی ہے مولانا فضل الرحمن نے تو حکومت کا چیلنج قبول بھی کر لیا ہے بھلا ہو پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا جس نے تاحال مولانا فضل الرحمنٰ کی ”ہاں میں ہاں “ نہیں ملائی اور وہ اس معاملہ کو آگے لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسے اپوزیشن کی ”شرافت “ یا” مصلحت“ پر مبنی پالیسی کہیں حکومت اور اپوزیشن عام انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کر نے کے بعد اپنے کام کو بھلا بیٹھی ہے ہم نے اپوزیشن کے ایک بڑے لیڈر کو پارلیمانی کمیٹی کی یاد دلائی لیکن انہوں نے کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا اور بات آئی گئی ہو گئی۔ ایسا دکھائی دیتا ہے حکومت اوراپوزیشن کسی دباﺅ کی وجہ سے دھاندلی کی تحقیقات کے ”باب“ کو بند ہی کرنا چاہتی ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف میں ”ہارڈ لائنر“ کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جن میں سے بیشتر نے پہلی بار پارلیمنٹ دیکھی ہے وہ ہر وقت اپوزیشن پر”ادھار“ کھائے رہتی ہے اور پارلیمنٹ کو”حالت جنگ “ میں رکھنا چاہتی ہے وہ ”کپتان“ کو خوش کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے قومی اسمبلی میں سپیکر اور سینیٹ میں چیئرمین پہلے ہی ان ”جوشیلے“ارکان کے ہاتھوں پریشان ہیں سپیکر اور چیئرمین بارہا وزیر اعظم سے حکومت کے ”جوشیلے “ ارکان کی شکایت کر چکے ہیں اب ان پر حکومت کی طرف سے اپوزیشن کو دبا کر رکھنے کا”دباﺅ “ہے فواد حسین چوہدری پارلیمنٹ میں ”آگ “ لگانے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ جب تک وہ حکومتی ترجمان کے فرائض انجام دیتے رہے انہوں نے ”آگ “ کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیا اب ان کی جگہ دوسروں نے لے لی ہے پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے حالیہ اجلاس میں پارلیمنٹ میں وزیر اعظم عمران خان اور وزراءکی تقاریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کئے جانے والے ” احتجاج اور نعرے بازی “ کا جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا پارٹی کے بعض ” لڑنے مرنے “ کے لئے تیار ارکان نے اپنی قیادت سے اپوزیشن کی” اینٹ کا جواب پتھر“ سے دینے کی اجازت مانگی تو ”کپتان“ نے اپوزیشن کو اسی انداز میں جواب دینے کا” گرین سگنل “ دے دیا جس میں وہ ان پر” حملہ آور“ ہو گی لیکن یہ بات قابل ذکر ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس طرز عمل سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپوزیشن کی سطح پر نہیں آا چاہیے حکومت میں جس قدر برداشت ہو گی اس قدر خوش اسلوبی سے پارلیمنٹ کی کارروائی چلائی جائے گی نقارخانہ میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی کے اجلاس میں ”رونق افروز“ ہوئے وہ کم و بیش ایک گھنٹہتک اپنی نشست پر بیٹھے رہے انہوں اس دوران اپوزیشن کے کسی لیڈر سے سلام دعا کی اور نہ ہی ان کی طرف دیکھا وہ تقریر کئے بغیر ہی چلے گئے اگر وہ تقریر کرتے تو ہنگامہ آرائی کا امکان تھا جو بالاخر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تصادم کا باعث بن جاتا۔ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماﺅں کے ایک اجلاس میں پی ٹی آئی کے ارکان کے ”طرز عمل “ کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں ”حکومتی وار“ کا بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے وزیر اعظم کی ایوان میں آمد پر کوئی ہنگامہ ہوا اور نہ ہی شور شرابہ۔ البتہ جب وہ اٹھ کر جانے لگے تو اپوزیشن ”گو عمران گو“ کے نعرے لگا کر سر آسمان پر اٹھا لیا پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ” سلیکٹڈ “وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی سے بھاگ گئے، ہم ان سے عوامی معاملات پر اہم سوالات کرنا چاہتے تھے، عمران خان آئے بیٹھے کوئی بیان دئیے بغیر چلے گئے ، عمران خان قومی اسمبلی میں آئے کیوں تھے ؟ دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومتی جماعت کے ارکان خاموشی سے اپوزیشن کے نعروں کو سنتے رہے اور کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ ایسا دکھائی دیتا ہے ہنگامہ آرائی موجودہ پارلیمنٹ کا مقدر بن گئی ہے اپوزیشن کو شکایت ہے کہ قومی اسمبلی میں سپیکر اسد قیصر شدید حکومتی دباﺅ میں ہیں انہیں اپوزیشن کو نظر انداز کر کے حکومتی ارکان کو بات کرنے کاموقع دینے کے لئے کہا جا رہا ہے 10ماہ میں پہلی بار اپوزیشن نے سپیکر کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ اپوزیشن تو حکومت سے الجھنے کے موقع کی تلاش میں رہتی ہے لیکن اب حکومت اپوزیشن کو دھمکیاں دینے پر اتر آئی ہے۔ حکومت خواجہ آصف اور سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان تلخ جملوں کو ہضم نہیں کر پائی۔ یہی وجہ ہے وزیر دفاع پرویز خٹک جو دھیمے انداز میں گفتگو کرتے ہیں نے خواجہ آصف کو ”واررننگ“ دے دی ہے کہ ” خواجہ آ صف نے سپیکر کے خلاف اپنے غصہ کا اظہار کیا ہے ،غصہ ہمیں بھی آتا،” ہم اپنے سپیکر“ کے تحفظ کے لئے آگے آئے تو پھر ”جنگ“ ہو سکتی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل ہم اپنے سپیکر کے تحفظ کے لئے کھڑے ہو جائیں“۔ قومی اسمبلی میں وزیر دفاع پرویز خٹک کے لب و لہجے اور دھمکی آمیز جملوں پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو یہ بات کہنا پڑی کہ” پرویز خٹک نے ہمارا سپیکر کہہ کر بات کی ہے۔کیا وہ پورے ہا ﺅس کے سپیکر نہیں؟ جس پرسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کووضاحت کرنا پڑی کہ” میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ پورے ایوان کا سپیکر ہوں“۔ اب دیکھنا یہ ہے حکومت پارلیمنٹ کو ”جنگ وجدل“ کا میدان بناتی ہے یا حکمت سے پارلیمنٹ کی کارروائی پر امن طور پر چلاتی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*