سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کا بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات پر اظہار تشویش

اسلام آباد (آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ 2ہفتوں میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق بریفنگ دی جائے،چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ دشمن قوتیں بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، سپیشل سیکرٹری داخلہ میاں وحید الدین نے بتایا کہ ڈپلومیٹک انکلیو میں امریکی سفارتخانہ سے مل کر فائرنگ رینج اپ گریڈیشن کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے کمیٹی کواس معاملے پر تفصیلی رپورٹ دی جائے گی، سینیٹر شہزاد وسیم نے سمارٹ کارڈ میں لگائی جانے والی چپ میں ڈیٹا ہونے سے متعلق بھانڈا پھوڑ دیا،چیئرمین نادرا نے اعتراف کیا کہ چپ میں کارڈ ہولڈر کا کوئی ڈیٹا نہیں ،کمیٹی نے سمندر پار پاکستانیوں بالخصوص متحدہ عرب امارات میں پاکستانی شہریوں کو قومی شناختی کارڈ کے اجراءمیں سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ منگل کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا۔اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر اے رحمان ملک کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ 3 دنوں میں بلوچستان میں دہشت گردی کے 2 حملے ہوئے جس میں8 افراد شہید ہوئے،کمیٹی گوادر پی سی ہوٹل پر اور کوئٹہ میں پولیس پر دہشتگردانہ حملوں کی شدید مذمت کرتی ہے، کمیٹی بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے، کمیٹی بلوچستان میں دہشتگرد کاروائیوں میں اضافے پر گہرے تشویش کا اظہار کرتی ہے،حکومت اس نئی لہر کو نظرانداز نہ کرے اور نیشنل ایکشن پلان کا از سرِنو جائزہ لیا جائے،وزارت داخلہ دو ہفتوں کے اندر کمیٹی کو نیشنل ایکشن پلان پر بریفنگ دے،دشمن قوتیں بلوچستان میں دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، ملک بھر اور خاص کر بلوچستان کے اہم مقامات کی سیکورٹی سخت کی جائے۔ جس پر سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ 3 سال سے میٹرو پولیٹن کارپوریشن اختیارات کےلئے خوار ہو رہا ہے۔سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ لوکل باڈیز ایکٹ کا کردار صوبوں کی طرح کا نہیں ہو سکتا تھا، کام رکے ہوئے ہیں جنہیں شقوں کی وجہ سے لٹکایا گیا ہے، جو لوگ ریٹائرڈ ہوئے ہیں انہیں بھی مسائل کا سامنا ہوگا،جو محکمے ایم سی آئی کے پاس ہیں ان کے ملازمین کا مستقبل دا پر لگا ہوا ہے۔سیکریٹری داخلہ میاں وحید الدین نے میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایم سی آئی اور سی ڈی اے میں کو اختلاف نہیں ہے،لوکل گورنمنٹ قوانین پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا،سابق وزیر داخلہ کے پاس معاملہ بھیجا گیا تھا،کابینہ کو معاملہ بھیجا گیا تو جواب ملا کے وزیر نئے آگئے ہیں، وزارت داخلہ نے کابینہ کی ہدایت پر سمری دوبارہ بھیج دی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ سی ڈی اے جو پیسہ ایم سی آئی کو بھیجتا ہے اس کا کیا حساب ہے، ابھی تک ایم سی آئی کو پیسے نہیں دیئے گئے، ہمیں جواب چاہیے کہ ایم سی آئی کو کتنے عرصے میں پیسے ادا کیے جائیںگے، قانون کے مطابق جو اقدام اٹھانا ہو اس کے کیے ہدایات کہ ضرورت نہیں ہے۔رحمان ملک نے ہدایت کی کہ ایم سی آئی کا پیسہ15روز میں حوالے کیا جائے۔اجلاس میں میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قوانین کے مطابق سی ڈی اے کے تمام ملازمین کے حقوق محفوظ ہیں،کوئی کام ایسا نہیں ہو رہا جو قوانین کے خلاف ہو، قوانین پر جو تجاویز بھیجتے ہیں اس پر اعتراض لگا کر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ وزارت داخلہ کے ساتھ بیٹھ کر میٹروپولیٹن کارپوریشن کا معاملہ نمٹایا جائے۔قائمہ کمیٹی نے قوانین،اختیارات اور فنڈز کا معاملہ نمٹانے کےلئے 15 دن کا وقت دیدیا۔بورڈ کی تشکیل کے معاملے پر میئر اسلام آباد نے اختلاف برقراررکھا۔ سی ڈی اے حکام نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ بورڈ کا سربراہ چیف کمشنر ہوتا ہے، چیف کمشنر کی ہدایات کے بعد بلدیاتی حکومت کا اختیار قابل عمل ہوسکے گا۔ میئر اسلام آباد نے کہا کہ بورڈ کی تشکیل کے معاملے پر قانون کو کا جائزہ لینا ہوگا۔سپیشل سیکرٹری برائے داخلہ میاں وحید الدین نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈپلومیٹک انکلیو میں امریکی سفارتخانہ سے مل کر فائرنگ رینج اپ گریڈیشن کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے کمیٹی کو فائرنگ رینج اپ گریڈیشن معاملے پر تفصیلی رپورٹ دی جائے گی۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں فائرنگ رینج معاملے پر بریفنگ کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر شہزاد وسیم نے سوال کیا کہ سمارٹ شناختی کارڈ میں نصب چپ میں کیا ڈیٹا ہے جس پر چیئرمین نادرا عثمان مبین نے بتایا کہ سمارٹ کارڈ میں لگی چپ میں کوئی ڈیٹا نہیں،سمارٹ کارڈ میں چپ سیکیورٹی فیچر کا حصہ ہے،سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ اگر کارڈ میں ڈیٹا نہیں تو یواے ای حکومت نے سمارٹ کارڈ کیوں لازمی قرار دیا۔چیئرمین نادرا نے بتایا کہ شہریوں کی شکایات کے لئے ایک سیل قائم کیا گیا ہے جس میں روزانہ 200کے قریب شکایات موصول ہوتی ہیں جبکہ وزیراعظم شکایات سیل سے اب تک 8ہزار شکایات موصول ہو چکی ہیں اور وزیراعظم آفس سے آنے والی شکایات کا 15دن میں ازالہ کرنے کا وقت مقرر کیا گیا ہے، پاکستانی شہریت سے متعلق چیئرمین کمیٹی رحمان ملک نے کہا کہ پاکستانی شہریت لے کر افغان باشندے یہاں زمینیں خرید رہے ہیں ، سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ دنیا میں جتنی آسانی سے پاکستانی شہریت لی جا سکتی ہے اتنی آسانی سے کسی اور ملک کی شہریت نہیں ملتی، جس پر چیئرمین نادرا نے کہا کہ افغان باشندوں کو قومی شناختی کارڈ کے اجراءمیں ملوث نادرا اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*