پہلی سہ ماہی کے دوران اقتصادی اعتمادبحال ہوا ہے، افراط زر میں کمی ہوئی لیکن رفتار کم ہے، عالمی اقتصادی سروے

کراچی(کامرس ڈیسک) ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ اکاو¿نٹنٹس (اے سی سی اے) اور انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ اکاو¿نٹنٹس(آئی ایم اے) کی جانب سے کیے گئے حالیہ مشترکہ سروے”عالمی اقتصادی حالات کاسروے(جی ای سی ایس) “ سے معلوم ہوا ہے کہ سنہ 2019ءکی پہلی سہ ماہی کے دوران ، پہلی مرتبہ عالمی سطح پر اقتصادی اعتماد اگرچہ بحال ہوا ہے لیکن یہ ابھی بھی کم ہے۔اس عالمی رائے شماری میں 1355 اکاو¿نٹنٹس نے حصہ لیا اورایشیا پیسفک نیزمشرق وسطیٰ سمیت تمام اہم خطوں میں اعتماد کا اظہار کرنے کے علاوہ اسے بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔ تاہم، مشرق وسطی ٰکے علاوہ تمام خطوں میں یہ اعتماد ، گزشتہ ایک سا ل کے مقابلے میں،اب بھی کم ہے۔زیادہ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ حالیہ سروے میں گلوبل آرڈرز کے انڈیکس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔یہ انڈیکس حالیہ سہ ماہی عرصے کے دوران ظاہر ہونے والے اعتماد سے زیادہ ہے اور جس پیغام کی جانب جی ای سی ایس نشاندہی کرتا ہے،ا±س پر زور دیتا ہے کہ اس سال عالمی ترقی کی رفتار اگرچہ کم ہے لیکن کسی بڑی تباہی کی علامت نہیں ہے۔عالمی اقتصادی حالات معلوم کرنے کے لیے کے لیے کیے گئے سروے(جی ای سی ایس) کے مطابق افراط زر کے حوالے سے تشویش میں کمی ہوئی ہے کیوں کہ جواب دینے والے 48 فی افراد نے اخراجات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو سنہ 2018ءکی چوتھی سہ ماہی میں 52فیصد سے کم ہے۔سروے میں ،عالمی سطح پر جواب دینے والوں میں سے ،صرف22 فیصد لوگوں نے فنانس تک رسائی میں در پیش مسائل کا تذکرہ کیا اور تجویز پیش کی کہ اس میں آسانی پیدا کرنا چاہیے۔سروے کے شرکاءمیں سے 45 فیصد نے بتایا کہ وہ عملے میں تخفیف پر غور کر رہے ہیں جبکہ 17 فیصد نیا عملہ بھرتی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔جواب دہندگان میں سے 36 فیصد سرمایہ کاری کے نئے پروجیکٹس میں کمی کا سوچ رہے تھے جبکہ صرف 16 فیصد جواب دہندگان نئے پروجیکٹس میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں اضافے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔اپنابزنس ختم کرنےوالے سپلائرز کے بارے میں صرف 12 فیصد کو تشویش تھی جس میں، سنہ 2018ءکی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں کوئی تبدیلی نہیں ہو ئی تھی۔اے سی سی اے کے چیف ماہر معاشیات، مائیکل ٹیلر نے عالمی نتائج کے بارے میں کہا :”اگرچہ سنہ 2018ءکی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں سنہ 2019ءکی پہلی سہ ماہی کے دوران اعتماد کے انڈیکس میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ اب بھی بہت کم ہے اور ترقی کی رفتار بھی کم ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ ایک سال کے مقابلے میں اعتماد اور سرگرمی کے اشارئیے بہت کم ہیں لیکن دیگر انڈیکس میں ، گزشتہ سال کی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں ،اس سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران، معمولی بہتری آئی ہے۔تاہم، ترقی کی رفتار میں یہ کمی زیادہ شدید نہیں ہو گی۔“مائیکل ٹیلر نے مزید کہا:”ترقی کی رفتار میں کمی کی علامتوں میں اضافے سے پہلے افراط زر کی تصویر ابھرتی ہے جو رفتہ رفتہ دھندلی ہوتی جا رہی ہے۔ اس میں مزید کمی ہوئی ہے کیوں کہ طلب بھی کم ہوئی ہے۔“ٹیلر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:”عالمی اقتصادی حالات کاسروے(جی ای سی ایس) آپریشنل اخراجات کے حوالے سے تشویش میں کمی ظاہر کرتا ہے۔ یہ مسلسل تیسری سہ ماہی ہے جس کے دوران سنہ 2018ءکی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں کمی ہوئی ہے۔“انسٹی ٹیوٹ آف منیجمنٹ اکاو¿نٹنٹس کے نائب صدربرائے ریسرچ اینڈ پالیسی، رائف لاسن (پی ایچ ڈی، سی ایم اے، سی پی اے) نے امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کے باعث مجموعی امکانات کے حوالے سے بڑے خطرے سے متنبہ کیا جس میں ٹیرف سمیت دیگر مجوزہ اقدامات شامل ہیں۔ لاسن کے مطابق کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی خطے متاثر ہو سکتے ہیں۔اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو امکان ہے کہ عالمی معیشت آئندہ سال بھی تیزی سے ترقی کرے گی اور موجودہ 3.5 فیصد سے بڑھ کر 4.0 فیصد ہو جائے گی۔لاسن نے مزید کہا:”اس سال کے آغاز سے ہی امریکا کی تجارتی پالیسی سازی میں تحفظ پر زیادہ زور دیا گیا ہے جس سے چین کے ساتھ تجارتی جنگ کے امکانات تشویشناک ہو گئے ہیں۔“ جوابی ٹیرف کے حوالے سے چین کے حالیہ اعلان کا تذکرہ کرتے ہوئے لاسن نے کہا:”یہ رد عمل بے کار نہیں رہے گا بلکہ برآمدات کے شعبے کو خطرے میں ڈال دے گا باوجود اس کے کہ امریکا نے اس ٹیرف پر عمل درآمد کے لیے ، مئی کے آخر تک عوامی رائے عامہ معلوم کرنے کا اعلان کیا ہے۔“سنہ 2019ءکی پہلی سہ ماہی کے بارے میں عالمی اقتصادی حالات سروے(جی ای سی ایس) (https://accaglobal.com/gb/en/professional- insights/global-economics/gecs-q1-2019.html دیکھا جا سکتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*