رمضان سے قبل مہنگائی آگئی

ایک خبر کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں رمضان المبارک سے قبل ہی مہنگائی نے سراٹھالیا جس نے شہریوں کی کمر توڑ دی دکانداروں نے حسب معمول دودھ ،گوشت اور سبزیوں کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیاجبکہ دوسری جانب انتظامیہ قیمتوں پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے کوئٹہ میں چھوٹے گوشت کی قیمت میں 50روپے فی کلو اضافہ کردیا گیا جس سے اب اس کی قیمت 850روپے فی کلو ہوگئی جبکہ اس کا سرکاری نرخ 650روپے فی کلو مقرر ہے ۔
رمضان المبارک سے قبل ہی مہنگائی کا شروع ہوجانا قابل تشویش بات ہے کیونکہ اب بھی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں مہنگائی اپنے عروج پر ہے اس وقت صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں تاجروں نے اپنے ریٹ مقرر کررکھے ہیں وہ کسی بھی سرکاری نرخنامے پر عمل نہیں کررہے جیسا کہ اوپر درج کیا جاچکاہے چھوٹے گوشت کا سرکاری نرخ 650روپے فی کلو مقر ر ہے لیکن قصاب 800روپے فی کلو میں سرعام فروخت کررہے تھے اور اب مزید 50روپے اضافہ کے بعد 850روپے فی کلو کردیا اسی طرح بڑا گوشت بھی سرکاری نرخ پر فروخت نہیں ہورہا جبکہ دودھ اور دہی فروش تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ انتظامیہ کو مانتے ہی نہیں وہ ایک عرصے سے اپنے مقرر کردہ نرخوں پر دودھ اور دہی فروخت کررہے ہیں کچھ عرصہ قبل انہوں نے نرخوں میں مزید اضافہ کردیا اور اس نئے نرخوں پر فروخت کی جارہی ہے اس کے علاوہ سبزیوں ،فروٹس فروشوں کی من مانیاں بھی زور وشور سے جاری ہیں وہ اپنی مرضی سے ہر شے فروخت کررہے ہیں کیونکہ ان سے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی نے دودھ اور دہی کے نرخوں میں اضافے پر کچھ دن کا روائی کی اور دکانداروں اور ڈیری مالکان کو بھاری جرمانے بھی کئے جس پر انہوں نے ریٹس کم کردیئے لیکن پھر اچانک دوبارہ اضافہ کردیا گیا جو اب تک جاری ہے ایسا ڈسٹرکٹ کنٹرول کمیٹی کی ناقص کارکردگی کے باعث ہوا ۔
اب رمضان المبارک سے قبل مہنگائی میں اضافہ تشویشناک عمل ہے اس لئے اس کی روک تھام بہت ضروری ہے کیونکہ ہمارے ہاں یہ بد قسمتی رہی ہے کہ ہر سال رمضان المبارک میں تمام تاجر اشیاءخوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں جو آئندہ پورے سال نافذ العمل ہوجاتا ہے باالفاظ دیگر وہ رمضان کے مقدس ماہ کو ایک سیزن کا نام دیتے ہیں جس میں عوام کو ہر طرف سے خوب لوٹا جاتا ہے اس دوڑ میں ٹیلرز اور حجام میں پیچھے نہیں رہتے وہ بھی اپنے نرخوں میں من مانا اضافہ کرتے ہیں اور اس طرح وہ بھی اپنا نرخنامہ ریونیو کرتے ہیں جبکہ ا نتظامیہ بے بس نظر آتی ہے ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ انتظامیہ کو فور ی طورپر ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹی کو فعال کرتے ہوئے رمضان کے مقدس ماہ میں آنےوالے مہنگائی کے ممکنہ سیلاب کو روکنے کے احسن اقدامات کرنے چاہئیں ۔
٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*