پاکستان امن اور باہمی احترام پر یقین رکھتا ہے

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پی ایم اے کا کول میں کیڈٹس کی پاسنگ آﺅٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان امن اور باہمی احترام پر یقین رکھتا ہے اس کا پر چار پاکستان کی پالیسی ہے کسی بھی جارحیت کی صورت میں منہ توڑ جواب دیا جائےگا ہماری مسلح افواج ہر جارحیت کا بھر پور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے حالیہ کشیدگی میں مسلح افواج نے صلاحیتوں کا بھر پور لوہا منوایا پاکستان ہمسایہ ممالک کےساتھ برابری کی سطح پر تعلقات چاہتا ہے پاکستان حق خودارادیت کےلئے کشمیری بھائیوں کا ساتھ دے گا قومی سلامتی سے بڑھ کر کوئی مقدس فریضہ نہیں ۔
صدر مملکت عارف علوی کا مذکورہ بیان قابل تعریف ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری مسلح افواج ہر جارحیت کا بھر پور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہےں ہماری افواج کا شمار دینا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے یہ نہ صرف ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے کےساتھ ساتھ ہر محاذ پر اپنے فرائض سرانجام دیتی ہیںاگر ملک میں کہیں زلزلہ ،سیلاب اور دیگر آفات جب آتی ہیں تو اس کےلئے پاک افواج کو ہی طلب کیا جاتا ہے اس کے علاوہ دیگر اہم فرائض بھی پاک فوج سرانجام دیتی رہتی ہے جن میں انتخابات کے دوران امن وامان کے قیام کےلئے بھی ڈیوٹیاں دینا شامل ہیں پاک فوج نے پاک وہند حالیہ کشیدگی میں اپنا بھر پور لوہا منواتے ہوئے ہندوستان کے دوجہاز جو پاکستان میں گھس آئے تھے کو مار گرایا اور اس طرح ایک سمندری آبدوز کو بھی تباہ کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک مضبوط اور طاقتور فوج ہے جو اپنے ملک کا دفاع کرنا خوب جانتی ہے ۔
یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات چاہتا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمسایہ ممالک خصوصاً ہندوستان کا تعلقات ٹھیک نہیں رکھنا چاہتا وہ پاکستان سے مسائل پر بات چیت کرنے سے گریز اں رہتا ہے جب بھی پاکستان اس کو مسائل پر بات چیت کےلئے دعوت دیتا ہے تو وہ راہ فرار کرتا رہتا ہے اس کے علاوہ اپنے ملک میں ہونےوالی کسی بھی تخریب کاری کا بغیر کسی تحقیق کے الزام لگادیتا ہے جبکہ دوسری جانب افغانستان جس لاکھوں مہاجرین کو پاکستان نے پناہ دی لیکن اس کے باوجود پاکستان کےخلاف اقدامات کرتا رہتا ہے وہ یہ کام ہندوستان کےساتھ ملکر کرتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ایران بھی پاکستان سے سے بہتر تعلقات کا خواہان نہیں و ہ ہندوستان کے تعاون سے گوادر رپورٹ کے مقابلے میں چاہ بہار نامی پورٹ بنا رہا ہے جس کا مقصد گوادر پورٹ کی اہمیت کو نقصان پہنچانا ہے ۔
جہا ںتک کشمیریوں کا تعلق ہے تو ان پر ہندوستان مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے لیکن پاکستان حق خودا رادیت کےلئے ان کا ساتھ دے رہا ہے کیونکہ وہ اپنی آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں لیکن ہندوستان ان کی تحریک کو کچلنے کےلئے اپنی لاکھوں فوج کو علاقے میں تعینات کرکے کشمیریوں پر ظلم کررہا ہے ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کو پاکستان سے اپنے تعلقات بہتر کرنے کے اقدامات کرنا چاہئیں اس سے خطے میں استحکام پیداہوگا جو سب کے بہترین مفاد میںہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*