بلوچستان میں بارشیں ،بچے سمیت 6افراد جاں بحق 29زخمی ہوگئے

کوئٹہ/حب (نیوز ایجنسیاں/نامہ نگاران ) بلوچستان میں بارشوں کے باعث حب، دکی اور نوشکی میں ٹریفک حادثات اور مکانات گرنے سے بچے سمیت 6 افراد جاں بحق اور 29 زخمی ہوگئے۔دریائے ناڑی،دریائے بولان اور دریائے لہڑی میں نچلے درجے کے سیلابی ریلے گزر رہے ہیں ۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جیوانی میں 90، تربت 39، گوادر 32، پسنی 19، بارکھان اور کوئٹہ 17 جبکہ سبی میں 9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ بارشوں کے باعث اندرون بلوچستان ندی نالوں میں طغیانی آگئی، دریائے بولان میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔کوئٹہ کے علاقے تارو چوک پر سڑک کا بلیک ٹاپ پانی میں بہہ گیا جبکہ ٹرانسپورٹروں کو مشکلات کا سامنا ہے، سیوریج لائنیں ابل پڑیں، گندہ پانی سڑکوں پر آنے سے شہریوں کی پریشانی بڑھ گئی شدید بارشوں کے باعث کوئٹہ میں بجلی کے کئی فیڈر بھی ٹرپ کر گئے اور کئی علاقوں میں 8سے 10گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے جس سے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے حب میں پھسلن اورگردوغبار کے باعث پانچ مسافر کوچز الٹنے سے 3افراد جاں بحق جبکہ پچیس زخمی ہوگئے جبکہ دیگر حادثات میں تین افراد جاں بحق جبکہ تین زخمی ہوئے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جس کے پیش نظر حکومت نے بلوچستان بھر میں الرٹ جاری کر دیا۔تمام ڈپٹی کمشنروں کو اور پی ڈٰی ایم اے کو آپس میں رابطے رکھنے کی ہدایت کی ہے، صورتحال سے نمٹنے کے لئے وزیر اعلیٰ ہاو¿س میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے جبکہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو بھی کنٹرول فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔شدید بارشوں کے باعث دریائے ناڑی میں مٹھڑی وئیر کے مقام پر 28000کیوسک پانی کانچلے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے دریائے لہڑی میں 6600 اور دریائے بولان میں 3000 کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے جس کی وجہ سے ہائی فلڈ کا امکان ہے ہیوی مشینری لہڑی پروٹیکشن بند پر پہنچا دی گئی ہے ممکنہ فلڈ کے پیش نظر پٹ فیڈر کینال کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر ڈی سی آفس کچھی میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے ہنگامی صورت میں شہری رابطہ کریںانتظامیہ نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سیلابی ریلے کے پیش نظر تفریحی مقامات پر پکنک منانے سے گریز کریں۔گوادر میں بارشوں کے بعد آکڑہ اور بیلار ڈیم بھرگئے ہیں جبکہ ڈیموں میں پانی آنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے مطابق آکڑہ اور بیلار ڈیم کے اسپل وے سے اضافی پانی کااخراج جاری ہے۔ دوسری جانب گوادر، پسنی اور ملحقہ علاقوں میں بارشوں کے باعث بجلی کے کھمبے گر گئے ہیں۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کے کھمبے گرنے سے گوادر اور پسنی و نواحی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ کوئٹہ، کوہلو، اورماڑہ، چمن، زیارت، جیوانی، د±کّی،ڈیرہ اللہ یار سمیت دیگر علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔سیلابی ریلے کی وجہ سے ہرنائی کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیاتاہم بلوچستان میں شدید بارشوں کے بعد تمام کمشنرز اورڈپٹی کمشنرزکو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کردی گئی اور وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*