کیا حکومت مستحکم ہو پائے گی؟

سکندر خان بلوچ
بعض اوقات چیزیں بڑی Symbolicثابت ہوتی ہیں۔ میں جب بھی تحریک انصاف کی کارکردگی پرکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو میرے سامنے ایک تصویر آجاتی ہے۔پھر سارے خیالات گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ آج میں یہ تصویر اپنے قارئین سے بھی شئیر کرنا چاہتا ہوں۔2018میں الیکشن سے پہلے تمام پارٹیاں اپنا اپنا زور لگا رہی تھیں۔ عوام کو طرح طرح کے سہانے خواب دکھائے جا رہے تھے۔ بڑے بڑے جلسے منعقد ہو رہے تھے۔ ہر جلسہ دیکھ کر یہی محسوس ہوتا تھا کہ یہی پارٹی جیتے گی۔ الیکشن کی دوڑ میں شامل ویسے تو تمام پارٹیاں ما شا ء اللہ بہت تجربہ کار تھیں لیکن تحریک انصاف اس میدان میں با لکل نئی تھی۔ تحریکِ انصاف اور عمران خان نے بڑے بڑے بلند و بانگ دعوے دل خوش کن وعدے کرنے شروع کئے۔ مثلاً ”نیا پاکستان بنائیں گے۔ کرپشن با لکل ختم کر دیں گے۔وزیر اعظم اور دیگر وزراء سب سادہ زندگی اختیار کریں گے۔ ایک کروڑ نوکریاں پیدا کی جائیں گی۔ غریبوں کے لئے پچاس لاکھ گھر بنائے جائیں گے “ وغیرہ وغیرہ۔عمران خان کے یہ نعرے عوام میں مقبول ہوئے۔ان نعروں کو عوام نے پذیرائی بخشی۔لوگ دوسری دونوں بڑی پارٹیوں کو پہلے ہی آزما چکے تھے۔لہٰذا عوام نے عمران خان کو حقِ حکمرانی عطا کر دیا۔ اس دور میں ویسے تو سوشل میڈیا پر طرح طرح کے کمنٹ اور تبصرے پڑھنے کو ملے لیکن انہی تبصروں میں ایک بڑی دلچسپ تصویر بھی گردش کررہی تھی۔یہ تصویر ایک ہاتھی کی تھی۔ کچھ لوگ عمران خان کو پکڑ کر بائیں طرف سے ہاتھی پر بٹھانے کو کوشش کرتے ہیں۔ بہت تگ و دو کے باوجود وہ عمران خان ہاتھی پر نہیں بیٹھ سکتا۔ جونہی وہ ہاتھی کی پیٹھ تک پہنچتا نیچے گر جاتا۔ اب وہ خان کو ہاتھی کے دائیں طرف لے آتے ہیں اور اس طرف سے اوپر بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کامیاب نہیں ہو پاتے بالاخر تنگ آکر وہ عمران خان کو ہاتھی کی پچھلی طرف سے چڑھانے کی کوشش کرتے ہیں اور عمران خان چڑھ جاتا ہے لیکن تھوڑی ہی دیر بعد ہاتھی جب ہلتا ہے تو عمران خان پیچھے کی طرف سے گر جاتا ہے۔بہر حال جو کچھ قدرت کو منظور تھا وہ ہو گیا۔ عمران خان اقتدار تک پہنچ گیا اور اب 09ماہ سے اقتدار میں ہونے کے باوجود تا حال عوام تک خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا۔ جسکی بہت سی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ تو خان کے وہ بڑے بڑے وعدے تھے جو خان نے عوام سے کررکھے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اب تک پورا نہیں ہو پا رہا۔ مہنگائی بڑھی ہے جس کی وجہ سے غریب آدمی کی زندگی جہنم بن چکی ہے۔ عوام کیا کریں اور کہاں جائیں؟ تحریکِ انصاف کے سپورٹرز بھی اپنی حکومت اور اسکی کارکردگی سے سرِ دست مایوس نظر آے ہیں۔ اب کچھ لوگوں نے سوچنا شروع کردیا ہے کہ ہم نے عمران خان کو ووٹ دے کر شاید اپنے ساتھ زیادتی کی ہے۔لوگوں میں دن بہ دن مایوسی پھیل رہی ہے اور یہ مایوسی ملک کے لئے اچھی نہیں۔قوموں میں ترقی ہمیشہ اسوقت ہوتی ہے جب ملک میں امن و امان ہو اور ایک مستحکم حکومت ملک پر حکمرانی کررہی ہو۔ مگر بد قسمتی سے جب سے موجودہ حکومت اقتدار میں آئی ہے حکومت عدم استحکام کا شکار ہے۔ اسکی دو بڑی وجوہات ہیں اول: ہمارے موجودہ حکمرانوں نے بے مقصد اور خوامخواہ کے بیانات دے دے کر اپوزیشن کو اپنا دشمن بنا لیا ہے۔اپوزیشن کو چور ڈاکو کہنا وہ بھی بغیر کسی ثبوت کے معزز سیاستدانوں کو زیب نہیں دیتا۔حکومتی رویے کی وجہ سے اپوزیشن حکومت کے نہ صرف خلاف ہے بلکہ بہت ایکٹو ہے۔ وہ حکومت کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی غلطی بھی معاف کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اتنی طاقتور اپوزیشن کا مقابلہ کرنا حکومت کے لئے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ حکومت کی دوسری بڑی خامی حکومتی حکمرانی ٹیم ہے۔یہ ٹیم ایسے اشخاص پر مشتمل ہے جو اپنے فرض کی ادائیگی سے زیادہ حکمرانی انجوائے کرنے کے شوقین ہیں۔ ان میں سے کوئی عہدہ دار بھی اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ عوام بے شک بھوک سے مر جائیں لیکن انہیں اپنی مراعات بڑھانے کی فکر ہے۔ اسی لئے حکومت تا حال اپنے آپ کو مستحکم نہیں کر سکی۔ حالانکہ انہیں اقتدار سنبھالے ہوئے 09ماہ ہو چکے ہیں اور حکومت کو سنبھلنے کے لئے یہ عرصہ کافی سے زیادہ ہے۔ اس سلسلے میں بھی اپوزیشن کا سب سے بڑا اعتراض حکومت کی نا تجربہ کاری ہے۔ ساتھ ہی یہ لوگ نالائق بھی ہیں۔ ان میں حالات کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت ہی نہیں۔حکومت کا اسوقت سب سے بڑا مسئلہ معیشت کی بحالی ہے جو حکومت سے سنبھل ہی نہیں پا رہی۔ یہاں ایک بڑا بنیادی سا سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ جب تحریک انصاف اقتدار کے لئے ہاتھ پاﺅں مار رہی تھی تو کیا اسے ملکی معیشت کی اصل صورت حال کا پتہ نہ تھا۔اسد عمر صاحب شروع سے وزیر خزانہ نامزد تھے تو انہوں نے ان سارے حالات کا پتہ لگانے کی کیوں کوشش نہ کی اور پھر حالات کے مطابق معیشت کی بہتری کے لئے منصوبہ بندی کیوں نہ کی گئی۔ وزیر خزانہ ملک کا اہم ترین وزیر ہوتا ہے جس کی پالیسیوں پر قومی ترقی کا دارومدار ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے اسد عمر صاحب اس معیار پر پورے نہیں اترے۔ایسے نظر آتا ہے کہ حکومت کے پاس کوئی معقول پالیسی ہی نہیں۔اقتدار میں آتے ہی حکومت نے دائیں بائیں سے قرض لینے کی سر توڑ کوشش کی۔کسی حد تک کامیابی بھی ہوئی۔ اپوزیشن نے خان صاحب کا مذاق اڑایا کہ بھیک منگا وزیر اعظم ہے۔ ادھر ادھر سے قرض لینے کا مقصد تو یہی تھا کہ آئی ایم ایف کی سخت اور وطن مخالف شرائط سے بچا جائے۔مگر ایساہو نہیں سکا۔ پچھلے چند ماہ سے اسد عمر صاحب قوم کو تو خوش کن بیانات سے تسلی دیتے رہے ہیں۔ مثلاً ضروری نہیں کہ ہم آئی ایم ایف کے پاس جائیں۔آئی ایم ایف کی سخت شرائط ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔عام آدمی پر ان بیانات کا بڑا مثبت اثر ہوا مگر اب آخر میں وزیر خزانہ نے وہ بم گرا ہی دیا جو وہ کافی دنوں سے چھپائے پھر رہے تھے۔فرماتے ہیں ” اگر آئی ایم ایف کے پاس نہ گئے تو ملک دیوالیہ ہو جائیگا“ ہمیشہ سخت فیصلوں کے لئے قوم کو تیار کیا جاتا ہے مگر یہاں تو انٹی کلائمکس ہو گیا۔ اسوقت مہنگائی کا سونامی بے قابو ہے۔عوام مہنگائی اور ٹیکسز سے چلا رہے ہیں۔حکومت اگر عوام کی دلجوئی کے لئے کچھ نہیں کر سکتی تو کم از کم آئی ایم ایف جیسے بیانات سے عوام کا سکون تو نہ چھینے۔ دوسرا اب تک حکومت تمام مہنگائی اور معاشی بدحالی کا الزام سابقہ حکمرانوں پر لگاتی آرہی ہے۔ مگر اب حکومت کو کچھ اپنی کارکردگی بھی دکھانی چاہیے۔اس وقت قومی ترقی با لکل ختم معلوم ہوتی ہے۔عمران خان کا سادگی کا نعرہ بھی محض نعرہ ہی ثابت ہوا ہے کیونکہ آہستہ آہستہ عوامی نمائندے سادگی سے دور ہو رہے ہیں۔اسکی ایک بڑی مثال حکومت کا50کروڑ روپے کی نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ ہے۔حالانکہ خود عمران خان نے شروع میں کہا تھا وزراء کو نئی گاڑیاں نہیں دی جائیں گی۔ ترقیاتی فنڈز نہیں دئیے جائیں گے۔وعدے کرنا تو بہت آسان ہے لیکن ان وعدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے کیونکہ عمران خان کو ممبران اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز بھی دینے پڑے اور اب ان صاحبان کے لئے پچاس کروڑ روپے کی گاڑیاں بھی منگوائی جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ عوام اب اتنے بھولے بھی نہیں رہے۔اپوزیشن عوام کی مایوسی اور حکومت کے خلاف غصہ کو کیش کرا سکتی ہے۔اپوزیشن نے بھی حکومت گرانے کی کھلم کھلا دھمکی دے رکھی ہے۔نوجوان بلاول نے تو ایک لات سے حکومت گرانے کا اعلان کررکھا ہے۔آئی ایم ایف نے معاشی بد حالی کی وارننگ دے دی ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی میٹنگ بھی آنیوالی ہے۔پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے کے لئے بھارت خاصا متحرک ہے۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے۔ عمران خان کی حکمرانی کے خلاف آجکل ایک دلچسپ ٹوئیٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔وہ کچھ یوں ہے :” اختلافات اپنی جگہ مگر اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عمران خان غریبوں کے لئے فرشتہ ثابت ہوا ہے لیکن مہنگائی کا۔ آج کل خان صاحب عوام کا تیل نکال رہے ہیں“۔ لہٰذا موجودہ حالات میں حکومت کا مستحکم ہونا مشکل نظر آتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*