وزیراعظم کا ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر اظہار برہمی

وزیراعظم عمران خان نے لاہور کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور وزیر قانون راجہ بشارت سمیت دیگر حکام سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ داروں کےخلاف ایکشن اور آئندہ 72گھنٹوں میں ادویات کی پرانی قیمتوں کو بحال کیا جائے وزیراعظم عمران خان نے پنجاب حکومت کو رمضان المبارک میں عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے اور پنجاب کے آئندہ بجٹ میں کمزور طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی ہدایت کردی ۔
وزیراعظم عمران خان کا مذکورہ بیان قابل تعریف ہے کیونکہ ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں میں بہت ہی زیادہ اضافہ کیا گیا بلکہ اکثر ادویات کی قیمتوں میں 100فیصد تک اضافہ بھی کیا گیا جوکہ بلاشبہ قابل مذمت اقدام ہے اس سے غریب عوام بہت ہی مالی مشکلات سے دوچار ہورہی ہے کیونکہ ادویات ایک اہم عنصر ہے جو ہر انسان چاہے وہ غریب ہویا امیر سب کی ضرورت ہوتی ہے او راگر اس کی قیمتوں میں ہوشرباءاضافہ کردیا گیا تو اس سے غریب آدمی براہ راست متاثر ہوگا یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ دو ا ساز کمپنیوں نے اپنے طور پر داﺅں کی قیمتوں میں اضافہ کیا جو غریب عوام کےساتھ ایک بڑی زیادتی کے مترادف اقدام ہے ۔
اب وزیراعظم عمران خان کا ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر برہمی کا اظہار اور ذمہ داروں کےخلاف ایکشن لینے اور ادویات کی قیمتوں کو واپس پرانی سطح پر لانے کی ہدایت تو عوام کو ریلیف دینے کی جانب ایک بہت بڑا اقدام ہے اس لئے وزیراعظم عمران خان کو اس عمل پر فوری طورپر عمل درآمد کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں کہیں ایسا نہ ہوکہ یہ بھی محض اخباری بیان یا دعوے تک محدود رہے کیونکہ اس وقت ملک میں موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جس سے عوام کی معاشی حالت بہت ہی بگڑ چکی ہے اب اگر وزیراعظم عمران خان نے عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کا آغاز کردیا ہے تو یہ احسن اقدام ہے ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے مزید احسن اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ جیسا کہ اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مہنگائی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے اس لئے اس کی روک تھام کرنی بہت ضروری ہے اگر ایسا نہ کیا جاتا تو موجودہ حکومت بری طرح ناکام ہوجائے گی اور وہ جب دوبارہ عوام کی عدالت میں آئے گی تو اسے کامیابی نہیں مل سکتی ،جس سے یقینا اس کا مستقبل تاریک ہوگا کیونکہ اس نے اقتدار میں آنے سے قبل عوام سے اسے ریلیف دینے کے وعدے کئے تھے مگر وہ اس پر عمل درآمد نہیں کرسکی جو اس کی ناکامی ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*