10 برس کی عمر کے بعد ایک اور زبان سیکھنا دماغ کےلیے نہایت مفید

(گذشتہ سے پیوستہ)اس جائزے میں محققین نے 20 افراد کے دماغ کے اسکین کا مشاہدہ کیا۔ ان سب کی عمر 30 کے قریب تھی اور یہ سب کم از کم 13 ماہ کے لیے برطانیہ میں رہ چ±کے تھے۔ ان سب نے قریب 10 سال کی عمر سے انگریزی زبان سیکھنا شروع کر دی تھی۔ ان افراد کے دماغ کے ایمیجنگ تجزیے کا موازنہ ایسے افراد سے کیا گیا جو محض انگریزی بول سکتے تھے۔
روز مرہ زندگی میں یک سے زائد زبانوں کے ساتھ رابطے میں رہنے اور اس ان کی مدد سے کام کرنے سے دماغ کے ڈھانچے کو انتہائی ادراکی یا علمی محرک کی مدد ملتی ہے جو لسانیات سے متعلق دماغی ڈھانچے کی سالمیت کو محفوظ بنانے میں غیر ممولی کردار ادا کرتا ہے نیز ایک سے زائد زبانوں کے ساتھ روز مرہ کے کام انجام دینے والے افراد میں بڑھاپے میں ذہنی تنزلی اور کمزوری کے امکانات کافی کم ہو جاتے ہیں۔
اس بارے میں تجزیاتی جائزے پیش کرنے والے امریکا کے کینٹ اسکول آف سائیکالوجی کے مححققین کی ٹیم کے سربراہ کرسٹوس پلیاٹسکاس ہیں۔
ماضی میں اس بارے میں ہونے والے زیادہ تر تجزیاتی مطالعات میں ایسے افراد پر ریسرچ کی گئی جنہوں نے بچپن میں دو یا اس سے زیادہ زبانیں سیکھیں اس لیے مححقین کا کہنا ہے کہ اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ دماغ میں یہ مثبت تبدیلیاں کس مخصوص وقت میں جنم لینا اور جڑیں پکڑنا شروع کر دیتی ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*