کسی بھی نظام کو چلانے کیلئے عدل و انصاف ضروری ہے،جام کمال

Chief Minister Balochistan, Mir Jam Kamal

کوئٹہ(این این آئی)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں عدل و انصاف کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے آج ہم مشکلات کا شکار ہیںآج ہم نے دین اسلام کو چند عقائد تک محدود اور اسکا عملی استعمال ختم کردیا ہے ہمارا نظام شخصیت پسندی کی بنیاد پر چلاتا رہا ہے بدقسمتی سے اچھے لوگوں کو آگے نہیں آنے دیا جاتامیںاپوزیشن نہیں بلکہ ماضی کے طریقہ کار کوتنقید کانشانہ بنارہا ہوں ماضی میں 20اسکیمات کی تختیاں لگائی جاتی لیکن ان میں 18سال بعد بھی اسکیمات مکمل نہیں ہمارے کام اس لئے فائدہ مند نہیں لگتے کیونکہ ٹھیکیدار سیمنٹ اوردیگر کام روک رہے ہیں عوامی نمائندوں کو قابل احتساب بنانے کی ضرورت ہے ۔یہ بات انہوں نے جمعرات کی رات مقامی ہوٹل میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کانفلیکٹ اینڈ سیکورٹی سٹڈی کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر چیئرمین پکس میجر جنرل (ر) محمد سعد خٹک ایم ڈی پکس عبداللہ خان ،شاہد قریشی و دیگر نے بھی خطاب کیاًتقریب میں سابق صوبائی وزیر میر عاصم کردگیلو ،آغا عمر بنگلزئی ،ڈپٹی کمشنر پشین اورنگزیب بادینی ،وزیراعلیٰ کے معاون رامین محمدحسنی سمیت طلباءو طالبات کی بڑی تعداد موجودنے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو ذمہ دار اور قابل احتساب بنانے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں تنقید ضرور کی جائے لیکن تنقید برائے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے ہم صوبے میں نوجوانوں کیلئے سوشل انوسٹمنٹ پروگرام لارہے ہیںبلوچستان میں نالائق لوگوں کو بھی سرکاری نوکریاں مل جاتی ہیںجسے ہم ٹھیک کررہے ہیں نوجوان تعلیم اور ہنر پرکسی قسم کا سمجھوتہ نہ کریںاور پرائیویٹ سیکٹر کی جانب بھی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی اور مسلمان ہیں لیکن ہمیں چند اسلامی تعلیمات سکھائی گئی ہیں ہم دین کی بنیاد سنت اور قرآن و حدیث پر عملی طور پر عمل نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہم 70سال میں بھی دین نہیں سیکھ پائے ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی نظام کو چلانے کیلئے عدل و انصاف ضروری ہے کائنات عدل کے انصاف پر چلتی ہے پاکستان کی سب سے بڑی خامی یہاں عد ل و انصاف کا نظام نہ ہونا ہے انصاف اسلام کا اہم ستون ہے لیکن ہم نے اسے پورا نہیں کیا انصاف نہ ملنے کی وجہ سے لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے جس سے معاشرے میں خامیاںپیدا ہورہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہر انسان کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ د اری ہے جب تک عدل کا نظام قائم نہیں ہوتا ہم ترقی یا پاکستان کو اسکی اصل روح کے مطابق نہیں چلاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ جس دن انصاف کا نظام ٹھیک ہوگیا ہم ترقی ضرور کریں گے ہمیں نہ خدا کا خوف ہے اور نہ نظام کا خوف ہے جس کی وجہ سے آج ہم من حیث القوم بدحالی کا شکار ہیں ہم نے کبھی بھی نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی ہمیشہ نظام قبائلیت ،شخصیت پرستی پر چلتا رہا ہے ہر ایک اقتدار میںآنا اور اقتدار میں آکر اسے بچانا چاہتا ہے جس کی وجہ سے ہم اچھے لوگوں کو آگے نہیں آنے دیتے ۔انہوں نے کہا کہ عوام بالخصوص نوجوان ووٹ کازیادہ سے زیادہ استعمال کرکے اچھے لوگوں کو آگے لائیں تاکہ سسٹم کو چلاسکیں ہمیں معلوم ہے کہ چند ایم پی ایز ملکر ایک حکومت کے سربراہ کو منتخب کرتے ہیںلیکن انکے پیچھے بھی عوامی رائے ہوتی ہے اس لئے عوام کو چاہئے کہ وہ اہل ایم پی اے لیکرآئیں تاکہ وہ آگے چل کرا نکے فائدے کیلئے کام کرسکیںنوجوان آگے آکر اپناکرداراد ا نہیں کر رہے جس کی وجہ سے ہمیں اچھے لوگوں کی کمی کا سامنا ہے عوام کو ہم سے امیدیں زیادہ اور نتائج کم مل رہے ہیںاگر حکومت عوامی ضروریات پوری نہیں کریگی تو ہم غیرمقبول ہوجائیں گے۔جام کمال نے کہا کہ صرف بلوچستان ہی نہیںبلکہ تمام صوبوں میں نظام خراب ہے وہ علیحدہ بات ہے کہ خرابی کی نوعیت میں فرق ہے ہرکوئی پی ایس ڈی پی ،خسارہ ،روڈ کی بات کر رہا ہے ہمیں اس تمام عمل کو نوجوانوں کوسمجھانے کی ضرورت ہے جس کیلئے میں خود یونیورسٹیوں میں جا¶ں گا۔انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی مستقبل کا تعین کرنے والی کتاب ہے میں اپوزیشن کو نہیں بلکہ ماضی کے پی ایس ڈی پی بنانے کے طریقہ کار کو تنقیدکا نشانہ بناتاہوں جس میں پیسے کم اور خرچ زیادہ تھے آج تک 2003ءکی اسکیمات مکمل نہیں ہوسکی ہیںعمان کے فنڈ سے بننے والا ایک ہسپتال شہر سے دور 80کروڑ کی لاگت سے بنایا گیاقلات کی ایک اسکیم 2کروڑ روپے کی وجہ سے مکمل نہیں ہوپارہی کوئٹہ میں بھی اسی طرح کے بہت سے مسائل ہیں ہم یہ نظام ٹھیک کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں زمینی اوراصل حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے یہاں کام عوامی فائدے کیلئے نہیں بلکہ ٹھیکے دینے ،کنکریٹ استعمال کرنے اور ذاتی کاموں کیلئے ہوتے ہیں جنہیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے جبکہ جن کاموں میں بچت کم ہوتی ہے انہیں پورا ہی نہیں کرنے دیاجاتا ۔انہوں نے کہا کہ نوجوان سیاست سمیت ہرشعبے میں آگے آئیں اور ملک کی باگ ڈور سنبھالیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*