اگلا ڈیڑھ سال معاشی استحکام کا دور

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے وسط مدتی معاشی فریم ورک جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگلا ڈیڑھ سال معاشی استحکام کا دور ہے ڈالر خریدنے والوں کو نقصان ہوگا 30سال میں معیشت کو نقصان پہنچایا گیا آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کرنا غلط ہے ہمیں ایکسچینج ریٹ مستحکم چاہئیں مصنوعی طریقے سے قدر کو روک کر معیشت کو مضبوط نہیں رکھا جاسکتا ،بجٹ خسارہ تجارتی خسارہ اور سرمایہ کاری کم ہونا بڑے مسائل ہیں وسط مدتی فریم ورک قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو پیش کیا جائے گا ایف بی آر ٹھیک نہیں ہوگا تو مسائل حل نہیں ہونگے ۔
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا اگلاڈیڑھ سال معاشی استحکام کے دورہونے کا بیان فی الحال ایک دعویٰ ہی لگتا ہے کیونکہ اس وقت ملک کی معیشت کی حالت بہت ہی خراب ہے جس کی وجہ سے عوام شدید معاشی صورتحال سے دوچار ہیں موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد مہنگائی کا ایک نہ رکھنے والا سلسلہ جاری ہے نوماہ کے اقتدار میں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات ،گیس اور بجلی کے نرخوں میں ہوشرباءاضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے اب وقت ملک میں مہنگائی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جس کے باعث ایک غریب آدمی کےلئے دووقت کی روٹی کا حصول بہت ہی مشکل ہوگیا ہے اور اگر مہنگائی کی یہ رفتار اسی طرح رہی تو پھر شاید نوبت فاقوں تک پہنچ جائے جوکہ یقینا بہت ہی خطرناک صورتحال ہوگی ۔
اب وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے اگلا ڈیڑھ سال معاشی استحکام کے دور کا دعویٰ اس گھمبیر صورتحال میں کہاں تک کار گر ثابت ہوسکتا ہے یہ ایک بہت ہی اہم سوال ہے جو ہرذی شعور کے ذہین میں ابھرتا ہے اور جس کا جواب حل طلب ہے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو اپنے اس دعوے کو عملی جامہ پہنانے کے اقدامات کرنے چاہئیں اگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتے تو یہ ایک بڑی ناکامی ہے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو اس دعوے کی تفصیل بتانی چاہےے تاکہ عوام جوکہ شدید معاشی صورتحال سے دوچار ہے کو کچھ سکون مل سکے کہ اگلے ڈیڑھ سال میں حکومت کیا کرنے جارہی ہے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے اپنے مذکورہ بیان میں ملک کی معیشت کو 30سالوں کے دوران شدید نقصان پہنچانے کی بات کی ہے تو اب حکومت کو اس سلسلے کو روکنے کےلئے احسن اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے صرف نشاندہی کرنا درست نہیں ،جہاں تک ایف بی آر کے ٹھیک ہونے کی بات ہے تو اس ضمن میں حکومت کو ملک کے بڑے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں اور کاروباری حضرات سے ٹیکس لینے کا نظام درست کرنا چاہےے حکومت کو ان بڑے لوگوں سے ٹیکس وصول کرنا چاہےے اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کرنا چاہےے حکومت کو عوام ریلیف دینے اور مہنگائی کی تیز رفتار کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کرنے چاہئیں صرف مہنگائی کرکے ان پر بوجھ ڈالنا کسی بھی طرح صحیح اقدام نہیں کیونکہ عوام کو اس کا متحمل نہیں ہوسکتے ۔
اس کے ساتھ ساتھ کو ملک سے پیسہ لوٹ کر باہر لے جانے والوں کےخلاف کریک ڈاﺅن کرکے وہ پیسہ واپس ملک لانے اور ان لوگوں کے اثاثے فروخت کرکے پیسہ قومی خزانے میں جمع کرنا چاہےے اس اقدام سے معیشت کی حالت سنبھل سکتی ہے اس لئے ایسا کرنا انتہائی ضروری ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*