آلودگی سے پاک پانی کی قلت

تحریر : محمد مظہر رشید چودھری
جس طرح زندہ رہنے کے لئے آکسیجن انتہائی ضروری ہے ویسے ہی پانی بھی اہم ہے اس کے بغیر بھی کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا یہ ہی وجہ ہے کہ موجودہ وقت میں پانی کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک نے پانی کو ذخیرہ کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے تاکہ پانی کی کمی کی صورت میں اِس کو استعمال میںلایا جاسکے ،پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورسز کی رپورٹس کے مطابق پانی کا مسئلہ واٹر بم بنتا جارہا ہے۔ ترجمان سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق سی پی آر ڈبلیو آر کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025ئ تک ملک بھر میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ جانے کا خدشہ ہے ملک بھر میں دستیاب 142 ملین ایکڑ فٹ پانی میں سے صرف 42 ملین ایکڑ فٹ پانی استعمال ہورہا ہے باقی 100 ملین ایکڑ فٹ پانی مختلف طریقوں سے ضائع ہورہا ہے پینے کے قابل پانی کی کمی بڑھتی چلی جارہی ہے، جوپانی دستیاب ہوتا ہے وہ آلودہ ہونے کی وجہ سے انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔
ایک سروے کے مطابق پاکستان کا 80 فیصد پانی آلودہ ہے مستقبل قریب میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ پانی کی قلت ہی ہوگا ،سانچ کے قارئین کرام !وطن عزیز پاکستان کے بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں کے لوگوں کو بھی پانی کی کمی کا سامنا ہے خاص طور پر پینے کا پانی آلودگیوں سے پاک نہ ہے جس کی وجہ سے آج شہر وں کے تقریباََ 95فیصد لوگ پینے کے لئے واٹر فلٹریشن پلانٹ سے پانی لانے پر مجبور ہیں زیر زمین پانی کی سطح جہاں بہت نیچے جا چکی ہے وہیں پینے کے لئے صاف میٹھا پانی آسانی سے دستیاب نہ ہے آج سے چار دہائیاں پیشتر گھروں میں استعمال کے لئے پانی مقامی حکومتوں (بلدیہ ) کی ذمہ داری ہوتی تھی جس کا باقاعدہ ماہانہ بل بھی ادا کیا جاتا تھا وقت گزرنے کے ساتھ جس طرح مرکزی حکومتوں نے نئے آبی ذخائر بنانے پر توجہ نہیں دی ویسے ہی شہروں میں گھروں کو فراہم کیا جانے والا پانی بھی آلودہ اور کم ہوتا گیا اب حالت یہ ہے کہ گھروں میں سرکاری پانی کے کنکشن بالکل ختم ہو کر رہ گئے ہیں اَب صبح شام کو بڑوں اوربچوں کے ہاتھوں میں پانی واٹر فلٹریشن پلانٹ سے لانے کے لئے پلاسٹک کے کین ہوتے ہیں جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی انکی دہلیز تک لانے میں حکومتیں مکمل ناکام ہو گئیں بلکہ گھروں سے دور واٹر فلٹریشن پلانٹ لگا کر عوام کو قطاروں میں لگا دیا گیا ،جوتاریخ کی کتابوں میں دوسوسال پہلے کنویں سے پانی لانے کی یاد دلاتا ہے۔
پاکستان میں دریاﺅں سے نکالی گئی نہروں کا نوے فیصد پانی زراعت اور آبپاشی کے لئے استعمال ہوتا ہے یہاں بھی ایک اندازے کے مطابق پچاس فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے جو انتہائی لاپرواہی کی وجہ سے ہوتا ہے برسوں پرانے نہری نظام کو جدید خطوط پر ترقی دینے کے لئے کوئی واضح پالیسی بنا کر عمل درآمد نہ ہوسکا جبکہ شہروں میں بھی عام آدمی صاف پانی کی اہمیت سے آگاہ نہ ہے جتنا پانی استعمال کیا جاتا ہے ا±تنا ہی ضائع بھی کیا جاتا ہے ،جس طرح شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی کمی کا سامنا ہے ویسے ہی صحت کے مراکز میں پانی کی قلت سے بھی لوگ متاثر ہورہے ہیں گزشتہ دنوں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ شائع ہوئی جس میں کہا گیا کہ “دنیا بھر میں صحت کی سہولیات کے مراکز میں پانی کی قلت سے2 ارب افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے مطابق غریب ممالک میں صحت کے نصف مراکز میں صفائی کے لئے پانی جیسی بنیادی سہولت بھی دستیاب نہیں ہے۔
جبکہ دستیاب پانی نو مولود بچوں اور ماﺅں کے لئے کئی بیماریوں کا سبب ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 10 لاکھ اموات کا سبب بچوں کی پیدائش کے دوران صفائی کی سہولیات کی عدم دستیابی ہے اور اسی طرح صحت کی سہولیات کے مراکز میں آنے والے مریضوں کی 15 فیصد تعداد پانی کی قلت اور صفائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے انفیکشن میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ رپورٹ میں ہسپتالوں کو صحت کے مراکز کی بجائے انفیکشن اور بیماریاں پیدا کرنے والی جگہیں قرار دیاگیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا میں صحت کی سہولیات کے مراکز پر900 ملین افراد کو پانی دستیاب نہیں ہے یا وہ غیر محفوظ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
اسی طرح ہر پانچ میں سے صحت کے ایک مرکز پر ٹائلٹ کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں 1.5 ارب افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر کے ممالک کو خبر دار کیا ہے کہ صحت جیسی بنیادی ضرورت کے مراکز پر پانی کی دستیابی اور صفائی کو یقینی بنائیں تاکہ 2 ارب افراد کو طبی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*