پاکستان اور بالخصوص بلوچستان بے پناہ قدرتی وسائل سے مالامال ہیں،جام کمال

Chief Minister Balochistan, Mir Jam Kamal

کوئٹہ(خ ن) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیرصدارت محکمہ ٹرانسپورٹ کے امور کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کوئٹہ شہر میں گرین لوکل بس سروس کے پائلٹ پروجیکٹ کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ ٹرانسپورٹ کو منصوبے کے امور کو جلد از جلد حتمی شکل دینے اور محکمہ خزانہ کو منصوبے کے لئے فنڈز کے اجراءکی ہدایت کی گئی، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ میر عمر خان جمالی، پارلیمانی سیکریٹری بشریٰ رند، دنیش کمار، ایڈیشنل چیف سیکریٹری منصوبہ بندی وترقیات عبدالصبور کاکڑ، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری ٹرانسپورٹ، سیکریٹری آرٹی اے اور دیگر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گرین بس منصوبے میں کوئٹہ کے مقامی ٹرانسپورٹرز کی شراکت داری کے لئے اظہار دلچسپی طلب کئے جائیں گے، ابتدائی طور پر دس بسوں پر مشتمل سروس کا آغاز جوائنٹ روڈ، سریاب روڈ اور ایئرپورٹ روڈ پر کیا جائے گا۔ پائلٹ پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد آئندہ مالی سال میں گرین بس سروس کو شہر کے دیگر روٹس تک وسعت دی جائے گی جبکہ کوئٹہ ترقیاتی پیکج کے تحت تعمیر ہونے والی سڑکوں پر بس ٹرمینل بھی بنائے جائیں گے، اجلاس میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے محاصل میں اضافے کے لئے مختلف اقدامات اٹھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، صوبے کے سرحدی علاقوں میں محکمہ ٹرانسپورٹ چیک پوسٹ قائم کرکے مال بردار اور مسافر گاڑیوں کے روٹ پرمٹ چیک کرے گا، مال بردار اور مسافر گاڑیوں کی روٹ پرمٹ فیس پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان میں مناسب اضافہ کیا جائے گا جو کہ 2013میں مقرر کی گئی تھیں، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ روٹ پرمٹ کی تجدید نہ کرانے والے ٹرانسپورٹرز کی فہرست اخبارات میں مشتہر کرکے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو بھی فراہم کی جائے گی تاکہ انتظامیہ نادہندہ ٹرانسپورٹرز کے خلاف کاروائی کرسکے جبکہ مال بردار اور مسافر گاڑیوں کے روٹ پرمٹ کے اجراءکے نظام کو ایس آر ایس سافٹ ویئر کے ذریعہ ڈیجیٹیلائز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا،اجلاس میں صوبے کی قومی شاہراہوں پر بڑھتے ہوئے حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ حادثات کی روک تھام کے لئے مسافر بسوں کی حدرفتار مقرر کرنے کے لئے بس مالکان کو اپنی بسوں میں ٹریکر اور کیمرے نصب کرنے کا پابند کیا جائے گا جو حکومت بلوچستان کی منظور شدہ کمپنیوں سے انہیں رعایتی نرخوں پر فراہم کئے جائیں گے،کوئٹہ میں ٹریکنگ سسٹم کا مرکزی کنٹرول روم اور ڈویژنل ہیڈکواٹرز میں ذیلی کنٹرول روم قائم کئے جائیں گے جو بسوں کی رفتار کو مانیٹر کریں گے، اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ قومی شاہراہوں پر چلنے والی مسافر بسوں کے پرمٹ کے اجراءاور تجدید کو مسافر بسوں میں سفر کرنے والے مسافروں کی انشورنس سے مشروط کیا جائے گا، روٹ پرمٹ کی حامل گاڑیوں کو اسٹریکر جاری کئے جائیں گے جن پر پرمٹ کی تاریخ تجدید درج ہوگی اور یہ اسٹریکر گاڑی کے فرنٹ شیشے پر نمایاں طور پر چسپاں کئے جائیں گے، اجلاس میں محکمہ ٹرانسپورٹ کی استعداد کار میں اضافہ کے لئے فنڈز کی فراہمی اور ملازمین کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایس این ای کی منظوری کے حوالے سے محکمہ خزانہ کو ہدایت جاری کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں محاصل کے حامل محکموں کی کارکردگی بڑھاکر صوبے کے محاصل میں اضافہ کی جانب توجہ نہیں دی گئی اگر محکمہ ٹرانسپورٹ اور دیگر محکموں کے امور کو صحیح کرتے ہوئے اس کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے تو صوبے کے محاصل میں سالانہ تیس سے 35ارب روپے تک اضافہ کیا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں صوبے کی قومی شاہراہوں کی تعمیر وتوسیع میں اضافہ ہوگا اور سی پیک کی تکمیل سے ٹرانسپورٹ بھی کئی گنا بڑھے گی جس سے صوبے کو بہت بڑا ریونیو مل سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ خدمات کی فراہمی اور گورننس کو بہتر بناکر ہم اپنے وسائل میں کئی گنا اضافہ کرتے ہوئے خودانحصاری حاصل کرسکتے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ اچھی کارکردگی کے حامل محکموں اورافسران کی ستائش کی جائے گی اور محاصل میں محکموں کو حصہ دے کی ان کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج پہلی مرتبہ کسی وزیراعلیٰ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کی بریفنگ لی ہے اور یہ اہم محکمہ ماضی میں نظرانداز رہا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بالخصوص بلوچستان بے پناہ قدرتی وسائل سے مالامال ہےں، ان وسائل کو ترقی دے کر ملک اور صوبے کے معاشی استحکام اور بلوچستان کے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لئے بروئے کار لایا جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*