پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے،سپیکر قومی اسمبلی

speaker national assembly asad qaisar

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے ،دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیںہو تا ،حالیہ دنوں میں جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے باعث شدت پسندی کو فروغ ملا ،مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال پر تشویش ہے، جنگیں سیاسی تنازعات کا حل نہیں ہوتیںبلکہ انسانی اور مادی حیثیت پر گہرے نقوش چھوڑدیتی ہیں، مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کر کے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے ، پاکستان امن، سلامتی اور ترقی کے لیے اتفاق رائے پر یقین رکھتا ہے۔وہ پیر کو قطرکے دارالحکومت دوحہ میں منعقدہ 4روزہ بین الپارلیمانی یونین کی 140ویں اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ متحرک پارلیمان ہی امن، خوشحالی، اور تعلیم کی حقیقی ضامن ہیں، انسانی تحفظ، اقتصادی خوشحالی، سماجی شمولیت، ماحولیاتی استحکام اور سماجی ماحولیاتی نظام کومطلوبہ سطح تک پہنچانا صرف اور صرف فعال اداروں کی موجودگی میںہی ممکن ہو سکتا ہے ، ریاستی بجٹ میں تعلیم میں سرمایہ کاری کی بدولت مُستحق طالب علموں کو قرضے اور فنڈز مہیا کر کے ہم پُر امن معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اکیسویں صدی میں ہمیں جن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان میں تعلیم کا فقدان اولین حیثیت کا حامل ہیں، تعلیم ہی ایک ایسا موضوع ہے جس میں کوئی سرحد یا انتظامی امور رکاوٹ نہیں بنتے ، تعلیم کا حصول سب کے لئے ایک مشترکہ ٹارگٹ ہے جس کے لیے موثر قانون سازی ہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اور پاکستانی پارلیمان کی جانب سے نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ اور ان کی عوام سے دلی دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے ،دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیںہو تا ،پاکستانی عوام گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردی کے ناسور سے چھُٹکارا حاصل کرنے کے لئے نبرد آزما ہے، اس جنگ میںہمارے ساٹھ ہزار سے زائدشہری شہید ہو چکے ہیں، ہم اس دکھ اور مصیبت کی شدت سے بخوبی آگاہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستا ن کی موجودہ حکومت پرُامن اور عوام دوست پالیسیاں وضع کر رہی ہے، پاکستان اپنے پڑوسیوں سمیت دنیا بھر میں مساوات، احترام اور برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے، تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے ، حالیہ دنوں میں جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے باعث شدت پسندی کو فروغ ملا ہے۔انہو ں نے کہا کہ مشرق وسطٰی کی موجودہ صورت حال پر تشویش ہے مشرقِ وسطی ٰ میں موجودہ تنازعات میں اضافہ ہوا ہے، جنگیں سیاسی تنازعات کا حل نہیں ہوتیںبلکہ انسانی اور مادی حیثیت پر گہرے نقوش چھوڑدیتی ہیں، جنگ کے حقیقی امکانات کو ماند کرنے کے لئے ہمیں بات چیت کے دروازے کھلے رکھنا ہونگے ، مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کر کے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور خطے کو جنگ کی ہولناکیوں سے بچایا جا سکتا ہے، پاکستان امن، سلامتی اور ترقی کے لیے اتفاق رائے پر یقین رکھتا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*