سرکاری سکولوں کے معیار کی بہتری

صوبائی وزیر اطلاعات و ہائر ایجوکیشن میر ظہور احمد بلیدی نے تربت میں ضلعی افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں سرکاری سکولوں کے معیار کو پرائیویٹ سکولوں کے برابر لانا ہوگا اسی طرح سرکاری محکموں میں گڈ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کے معیار کو قائم کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے اس پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ۔
صوبائی وزیراطلاعات و ہائیر ایجوکیشن میر ظہور احمد بلیدی کا مذکورہ بیان قابل تعریف ہے سرکاری سکولوں کے معیار کو بہتر بنانا اور ان کو پرائیویٹ سکولوں کے برابر لانا ضروری ہے کیونکہ صوبے کے اکثر علاقوں میں سرکاری سکولوں کی حالت ٹھیک نہیں ہے صوبے کے دوردراز کے علاقوں میں ایسے سکول موجود ہیں جن میں سہولتوں کا فقدان ہے جس کی وجہ سے عوام اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں کی بجائے پرائیویٹ سکولوں میں داخل کراتے ہیں صوبائی وزیر اطلاعات و ہائیر ایجوکیشن نے مذکورہ بیان میں یہ واضح کیا ہے کہ سرکاری سکولوں کے مقابلے میں پرائیویٹ سکولوں کا معیار بہتر ہے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت صوبے میں انقلابی اقدامات لاتے ہوئے سرکاری سکولوں کے معیار پر بھر پور توجہ دے تو ان کی حالت بہتر ہوسکتی ہے اور اس طرح عوام پھر ان کو پرائیویٹ سکولوں پر ترجیح دینگے لیکن اس سلسلے میں صوبائی حکومت کو گرانقدر اقدامات کرنا ہونگے جن میں سرکاری سکولوں میں پائی جانے والی خامیوں ،سٹاف کی کمی ،عمارتوں کی خستہ حالی ،عمارتوں میں ضروری ساز سامان کی فراہمی اور اسکے ساتھ ساتھ اساتذہ کو اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دینے جیسے اقدامات شامل ہیں کیونکہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ یونیز میں بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی ڈیوٹی صحیح معنوں میں ادا نہیں کرسکتے بلکہ ایسے اساتذہ کو جائے تعیناتی پر فرائض انجام دینے سے مستثنیٰ رکھا جاتا ہے کیونکہ وہ لیڈر ہوتے ہیں صرف یہی نہیں اساتذہ ہڑتال جیسے انتہائی اقدام بھی کرتے ہیں جس کی وجہ سے پورے سال میں سردیوں ،گرمیوں کی چھٹیوں کےساتھ ساتھ ہڑتال کے موقع پر اگر کی جانےوالی چھٹیوں کو شمار کیا جائے تو صرف چند ماہ رہتے ہیں جوکہ نصاب مکمل کرنے کےلئے ناکافی ہوتے ہیں اس طرح سرکاری سکولوں کا رزلٹ پرائیویٹ سکولوں کے مقابلے میں اچھا نہیں آتا کیونکہ پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ میں مذکورہ خامیاں نہیں ہوتیں وہ پور ا سال تندہی سے اپنے فرائض سرانجام دے کر اپنے سکولوں کے بہترین رزلٹ لانے کےلئے اقدامات کرتے ہیں کیونکہ اس سلسلے میں ان سے پوچھنے والے حکام ہوتے ہیں دوسری جانب سرکاری سکولوں میں چونکہ اساتذہ سے ان کی کارکردگی کے حوالے سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہونا اس لئے وہ اس دوڑ میںپےچھے رہتے ہیں ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی دارالحکومت اور متعلقہ محکمے کے ارباب اختیار کو سرکاری سکولوں میں پائے جانے والی خامیوں کو دور کرنے کےلئے احسن اقدامات کرنے چاہئیں کیونکہ جب تک ایسا نہیں ہوگا سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ سکولوں کے برابر نہیں لایا جاسکتا اسی طرح سرکاری محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کےلئے ان میں گڈ گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کے معیار کو قائم کرنے کےلئے صوبائی حکومت کو بہتر کرنے کےلئے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہےے اگر ایسا کیا جائے تو تعلیم سمیت تمام محکموں کی کارکردگی بہتر کی جاسکتی ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*