سابق حکومتوں کی کارکردگی موجودہ حکومت سے بہتر رہی ہے،نواب رئیسانی

nawab aslam raisani

کوئٹہ(این این آئی)بلوچستا ن اسمبلی کا اجلاس سو ا دوگھنٹے کی تاخیر سے سپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت شروع ہوا ۔اجلاس میں پی ایس ڈی پی 2018-19پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے آزاد رکن بلوچستان اسمبلی نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا کہ آج کے اجلاس میں کوئی دوسرا موضوع نہیں بلکہ سپیکر اسمبلی اپوزیشن اور حکومت دونوں بینچز سے اراکین لے کر پی ایس ڈی پی کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی قائم کریں تاکہ یہ کمیٹی پی ایس ڈی پی میں شامل منصوبوں کا جائزہ لے سکے انہوں نے کہا کہ میں بارہا یہ مطالبہ ایوان میں دہراتا رہا ہوں کہ سپیکر اگر کمیٹی قائم کرسکتے ہیں تو کردیں اور اگر کمیٹی قائم نہیں کرسکتے تو بھی ہمیں واضح کہہ دیں۔ آج کے اخبارات میں وزیراعلیٰ کا ایک بیان شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پی ایس ڈی پی کا راگ الاپنے والے اپنے مفادات کی سیاست کررہے ہیں وزیراعلیٰ کو ایوان میںبلایا جائے تاکہ ان سے پوچھا جاسکے کہ مفاد پرست کون ہے کون مفادات کی سیاست کررہا ہے اپوزیشن اراکین مفادپرست ہیں یا وزیراعلیٰ خود مفادات کی سیاست کررہے ہیںانہو ں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے مجھے دو مرتبہ فون کیا ہے مگر میں نے ان کا فون اٹینڈنہیں کیا میں ایک منتخب نمائندہ ہوں اگر وزیراعلیٰ نے بات کرنی ہے تو وہ اس جرگے میں آکر مجھ سے فلور پر بات کریں ۔انہوں نے کہاکہ اس ایوان میں بیٹھے ہوئے ہم سب عزیز و اقارب ہیں اور ایک سیال وطن میں رہ رہے ہیں قائد ایوان کو اس طرح کے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں جس پر سپیکر نے کہا کہ آپ وزیراعلیٰ کے بیان کوایوان کی پراپرٹی بنانے کے لئے تحریک لائیں ۔ انہوں نے سپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ اسمبلی کی کارروائی کو آپ نے پندرہ منٹ دس منٹ اور ڈھائی منٹ میں تقسیم کیا ہے اسی طرح بلوچستان میں ترقی کے عمل کو بھی تقسیم کیا گیا ہے میں گزشتہ تینتیس سالوں سے اس ایوان میں آتا جاتا رہا ہوں اور اس لئے محسوس کررہا ہوں کہ پہلے طاقت کا سرچشمہ عوام ہوا کرتے تھے اور آج آپ لوگ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں محسوس کررہا ہوں کہ پی ایس ڈی پی پر ہم بارہ سال بھی بحث کریں یہ لاحاصل رہے گی لہٰذا پی ایس ڈی پی سے متعلق کمیٹی بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔قائد حزب اختلاف ملک سکندرخان ایڈووکیٹ نے بھی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں میں نظر انداز کئے جانے پراپنے تحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس معزز ایوان میں استدعا کی تھی کہ پی ایس ڈی پی میں شامل منصوبوں کی تفصیلات ایوان میں لائی جائیں جس پرسیشن کے اختتام تک عملدرآمد نہیں ہواہم نے پی ایس ڈی پی کی تفصیلات اس لئے ایوان میں پیش کرنے کی استدعا کی تاکہ اگر اس میں کوئی کمزوری یا کمی بیشی ہے تو اپوزیشن اس ضمن میں اپنی رائے کااظہار کرتے ہوئے حکومت کی رہنمائی کرے ۔ انہوںنے کہا کہ دس مہینے کا طویل عرصہ گزر چکا ہے مگر اب تک بلوچستان میں ترقی کا پہیہ رکاہوا ہے گیارہ گھنٹے اور تاخیر کے طویل ترین کابینہ اجلاسوں کا نتیجہ صفر ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں خامیوں کی ذمہ دار سابق حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ ریکروٹمنٹ پالیسی اوردیگر قوانین لارہی ہے یا لاچکی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سابق حکومتوں کی کارکردگی موجودہ حکومت سے بہتر رہی ہے موجودہ دور حکومت میں میرٹ پر تعیناتیاں ، شفافیت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اس عرصے میں حکومت نے سپیشل اسسٹنٹس کی تعیناتیوں کے لئے ایوان سے قانون پاس کرایاجبکہ ترقی کے دعوے صرف لفاظی جمع خرچ کی حد تک ہی موجود ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ صوبے میں سپیشل اسسٹنٹس کو تعینات کرنے کی ضرورت نہیں تھی تمام محکموں میں افسران موجود ہیں حکومت کو متعلقہ محکموں کے افسران و عملے سے کام لینا چاہئے اگر ایسی حکومت چلے گی اور حالات یہی رہیں گے تو بلوچستان کبھی ترقی نہیں کرسکے گا۔جمہوری حکومتوں میں حکومت اور اپوزیشن دوایسے پہیے ہیں جوایک دوسرے کے بغیر نہیں چل سکتے حکومت اپوزیشن کے بغیرلوگوں کی خدمت نہیں کرسکتی انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تہیہ کررکھا ہے کہ حکومت کے ہر مثبت کام میں ان کی معاونت کریں گے مگر غلط کاموں میں حکومت کا محاسبہ کرنا بھی ہماری آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اپوزیشن اراکین کا استحقاق ہے کہ ان کے حلقوں میں بھی حکومتی اراکین کے حلقوں کے مساوی ترقی ہونی چاہئے ۔پی ایس ڈی پی میں شامل ترقیاتی منصوبوں میں ردوبدل کا اختیار حکومت کو نہیں ایوان کو آگاہ کیا جائے کہ پی ایس ڈی پی میںکتنے آن گوئنگ اور نئے منصوبے شامل کئے گئے ہیں اور کتنے منصوبے پی ایس ڈی پی سے نکالے گئے ہیں ۔پی ایس ڈی پی پر اپوزیشن اراکین کے تحفظات کے خاتمے تک ہمارا احتجاج بدستور جاری رہے گا ۔اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے ایوان سے ٹوکن واک آﺅٹ بھی کیا ۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ قائد حزب اختلاف اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی انتہائی سینئر پارلیمنٹرینز ہیں پھر وہ کیونکر حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود پی ایس ڈی پی کو ایوان میں زیر بحث لارہے ہیں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اراکین کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ بلوچستان کے تمام حلقوں کو یکساں ترقی کے عمل میں شامل کیا جائے گا اورگارنٹی دیتا ہوں کہ کسی معزز رکن کے حلقے کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی پی ایس ڈی پی کی جان چھوڑ کر کسی بارشوں سے ہونے والے نقصانا ت اور ایجنڈے میںشامل امن وامان کی صورتحال پر بحث آگے بڑھائی جائے ۔جمعیت علماءاسلام کے اقلیتی رکن شامل لعل نے ترقیاتی منصوبوں میں مخصوص نشستوں پر آنے والے اراکین کو نظر انداز کیا جانے پر ایوان میں اپنے تحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ستم ظریفی ہے کہ ہمارے معاشرے میں کمزور طبقے کے ساتھ ہی زیادتی ہوتی ہے شنید میں آیا ہے کہ اراکین اسمبلی کی سفارشات پر تمام اضلاع میں دس دس کروڑ روپے کے منصوبے دیئے جارہے ہیں تاہم حکومت نے خواتین اورا قلیتی نمائندوں کو نظر انداز کررہی ہے اس موقع پر حکومتی رکن محمدخان طوراتمانخیل کے ریمارکس پر شام لعل اور حکومتی اراکین کے بیچ تندو تیز جملوں کا تبادلہ بھی ہوا اوراپوزیشن و حکومتی اراکین بیک وقت بولتے رہے جس پر کان پڑی آواز سنائی نہ دی تاہم بعد میں اجلاس کی صدارت کرنے والے پینل آف چیئر مین قادر علی نائل کی ہدایت پر اراکین بیٹھ گئے اور اس موقع پر غیر پارلیمانی الفاظ کارروائی سے ہذف کرادیئے گئے ۔ بعداز اں اظہار خیال کرتے ہوئے پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ پی ایس ڈی سے متعلق تفصیلات ایوان میں پیش کی جائیں تاکہ اراکین کو معلوم ہوسکے کہ نئے منصوبوں کی نوعیت کیا ہے اور پہلے سے شامل منصوبوں کی نوعیت کیا ہے انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے جام ہونے سے بلوچستان میں ترقی نہیںہورہی اور ترقی کا عمل رکا ہوا ہے تبدیلی سرکار نے آج ملک کو کس نہج پر پہنچایا ہے جی ڈی پی کی رپورٹ سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے آج نیپا ل ، مالدیپ ، بنگلہ دیش جیسے ممالک کی معیشت ہم سے بہتر ہے موجودہ حکومت میں پاکستان تیس ارب ڈالر کا مقروض ہوچکا ہے حکومت کہہ رہی ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاق کا دیوالیہ ہوگیا ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ صوبوں کو منتقل ہونے والے اختیارات ان سے چھینے جائیں اوراین ایف سی میں صوبوں کا حصہ مزید کم کیا جائے جو آئین کی خلاف ورزی ہے آئندہ چند ماہ بعد حکومت تنخواہیں ادا کرنے کے قابل بھی نہیں ہوگی انہوں نے سبی ہرنائی ریلوے لائن کے التواءپر بھی اپنے تحفظات کااظہار کیا ۔ بی این پی کے احمد نواز بلوچ نے کہا کہ سابق حکومت میں واسا ، پی ایچ ای اور بی ڈی اے کے محکموں کے ذریعے لگائے جانے والے ٹیوب ویلز کو ری وزٹ کرکے جہاں عملے یا مشینری کی ضرورت ہے ہنگامی بنیادوں پر انہیں فراہم کرتے ہوئے حکومت آئندہ پی ایس ڈی پی میں کوئٹہ کے پانی کے لئے میگا منصوبہ رکھے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سریاب سمیت کوئٹہ کے گنجان آباد علاقے ہزارہ ٹاﺅن ، مشرقی بائی پاس اور دیگر علاقوں میں پانی کا سنگین بحران ہے ۔ بی این پی کے میر اکبر مینگل نے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر حالیہ ٹریفک حادثے میں چھ افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ این ایچ کو پابند کیا جائے کہ قومی شاہراہوں کو ڈبل ٹریک کیا جائے ہم نے صوبائی وزیر صحت سے اسمبلی فلور پر استدعا کی تھی کہ عوام کو ہنگامی صورتحال میں علاج معالجے کے لئے ایمرجنسی سینٹر ز فعال کئے جائیں قومی شاہراہ پر قریب طبی مراکز نہ ہونے سے حادثات میں زخمی ہونے والے افراد بروقت علاج نہ ملنے سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پی ایس ڈی پی جمود کا شکار ہے روزگار نہ ہونے سے مزدور طبقہ نان شبینہ کا محتاج ہے یہاں تقریریں کرنے اور اجلاس منعقد کرنے سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہورہا صوبے کے لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ہم اگر ان کو کچھ نہیں دے سکتے تو ہمیں اس ایوان میں بیٹھنے کا حق ہی حاصل نہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ہمارے حلقوں میں ایک غیر منتخب سپیشل اسسٹنٹ جن کا نام کرپشن کرنے والوں میں شامل ہے اس کی ایماءپر افسران کے ٹرانسفر پوسٹنگ کئے جارہے ہیں یہ ناقابل برداشت ہے جام کمال بزرگ آدمی ہیں انہیں ان جیسے لوگوں سے دور رہنا چاہئے ۔ جمعیت علماءاسلام کے میر یونس عزیز زہری نے کہا کہ میرے حلقہ انتخاب میں بھی غیر منتخب نمائندہ مداخلت کررہا ہے حکومت کرپشن کے خاتمے کے دعوے کرتی نہیں تھکتی میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کرپشن کی تحقیقات کے لئے لوکل گورنمنٹ کی جانب سے کمشنر کی سربراہی میںبنائی جانے والی کمیٹی کو کیوں غیر فعال کیا گیا ہے انہوںنے کہا کہ حکومت کا موقف ہے کہ پی ایس ڈی پی میں عدالت نے چار شعبوں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے مگر میرے حلقے میں جہاں 66سکول بند تھے اب ان کی تعداد161سکولوں تک جا پہنچی ہے اگر پی ایس ڈی پی کی صورتحال یہی رہی تو ضلع کے نصف سکول بند ہوجائیں گے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کی شکیلہ نوید دہوار نے استفسارکیا کہ کیا مخصوص نشستوں پر منتخب ہوکر آنے والے ارکان دیگر ارکان کے برابر نہیں کیا ہم بغیر کسی قربانی اور جدوجہد کے آئے ہیں دو ماہ سے نادرا موبائل وین کے لئے درخواست دی ہے مجھے تو مستونگ شہر کے لئے وین نہیں ملتی مگر دور دراز علاقوں میں موبائل وین جارہی ہے ایک واقعے کو لے کر ڈاکٹروں نے سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال کی ہے بی ایم سی اور سول ہسپتال میں غریب لوگ علاج معالجے کے لئے جاتے ہیں مگر وہاں پر ان کا کوئی پرسان حال نہیں افسوسناک امر تو یہ ہے کہ سرکاری ہسپتال تو بند پڑے ہیں مگر پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھاری فیسیں لے کر ڈاکٹرز عوام کا علاج کررہے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*