ریونیو کا مقررہ ہدف حاصل کرنے کے لئے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی کامیابی ناگزیر ہے،میاں زاہد حسین

Mian Zahid

کراچی (کامرس ڈیسک)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چےئر مےن اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے ٹیکس نیٹ کے بڑھنے اور سفید اکنامی میں اضافہ کے واضح امکانات ہیں۔حکومت پاکستان نے 1958سے اب تک 10بار ایمنسٹی اسکیمز جاری کیں ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے ، تاہم ان اسکیموں کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے۔ اپریل 2018 میں گزشتہ حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی ایمنسٹی اسکیم کے نتیجے میں 121ارب روپے حکومتی خزانہ میں جمع ہوئے اور تقریباً 80ہزار لوگ ٹیکس نیٹ میں شامل ہوئے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ پی ٹی آئی حکومت ماضی میں ایمنسٹی اسکیموں کے سخت خلاف رہی ہے لیکن ریونیو ٹارگٹ کے حصول میںتاحال 370ارب روپے کی کمی کے باعث اور ملک میں فارمل اکنامی کے اضافہ کے لئے ایمنسٹی اسکیم لانے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ایمنسٹی اسکیم سے پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بہتر ہوگا جواس وقت صرف 11فیصد ہے جبکہ چین اور بھارت کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو بالترتیب 17اور 20فیصد ہے ۔FBRکے مطابق اس اسکیم کے تحت 300سے 400ارب روپے وصول ہونے کی توقع ہے تاہم گزشتہ اسکیموں کے نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس ٹارگٹ کا حصول اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ تاہم تمام ٹیکس نادہندگان کے لئے ضروری ہے کہ اس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھاکر ملکی معیشت کی ترقی میں معاون بنیں۔ جو لوگ اس ایمنسٹی کے تحت اپنے اثاثہ جات ظاہر نہیں کرینگے ان کے اثاثوں پر 300فیصد جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ انکو 5سال کی قید بھی ہوسکتی ہے۔ جولائی 2019کے بعد ٹیکس نادہندگا ن کے خلاف انکم ٹیکس قوانین کے تحت کاروائی کی جائیگی ، ایمنسٹی اسکیم کے تحت اپنے اندرون و بیرون ملک اثاثہ جات ظاہر کرکے سزاو جرمانہ سے بچنے کا آخری موقع ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ حکومت ایمنسٹی اسکیم کو IMFپروگرام سے پہلے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے لانے پر غور کررہی ہے اس لئے کہ IMFماضی کی طرح ایمنسٹی اسکیم کی مخالفت کرسکتا ہے۔ ایمنسٹی اسکیم لانے سے پہلے حکومت کو FATFسے بھی کلیئرنس لینا ضروری ہے جہاں اس وقت پاکستان کا منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے متعلق کیس چل رہا ہے۔ایمنسٹی اسکیم بے نامی ایکٹ سے بھی مطابقت رکھتی ہے اور مذکورہ ایکٹ کے عملی نفاذ میں معاون ثابت ہوگی۔ وزیر خزانہ اسد عمر اس ایمنسٹی اسکیم کی کامیابی کے بارے میں پر امید ہیں اور اس اسکیم کی کامیابی کو ٹیکس نیٹ کے بڑھنے کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اب تک 18لاکھ انکم ٹیکس ریٹرنز فائل ہوچکی ہیں جبکہ پانچ سال میں 50لاکھ لوگو ں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس اسکیم میں 3سلیبز تجویز کئے گئے ہیں جو بالترتیب 5فیصد، 7.5فیصد اور 10فیصد ہیں جس کے ذریعے ٹیکس نادہندگان کو کالا دھن سفید کرنے کا آخری موقع فراہم کیا جائے گا۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ ایف بی آر کے قوانین چھوٹے درجے کے کاروبار سے مطابقت نہیں رکھتے جسکی وجہ سے چھوٹے تاجروں کی اکثریت ٹیکس نیٹ میں آنے سے کتراتی ہے۔ اسمال اور مائیکرو سیکٹر کے لئے نئی ٹیکس اتھارٹی بنائی جائے جس کے ٹیکس قوانین مارکیٹ کے تقاضوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہوں، اس سے حکومت کوملنے والے ریونیو میں 100فیصد اضافہ ممکن ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*