اگلا ڈیڑھ سال معاشی استحکام کا دور ہے ،وزیر خزانہ

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں)وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی بحرانی کیفیت ختم ہوگئی ہے ، اب ہم استحکام کے مرحلے میں ہیں جو ڈیرھ سال تک رہے گا،بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تجارت ہونی چاہیے ،ڈالر خریدنے والوں کو نقصان ہوگا، 30 سال میں معیشت کو نقصان پہنچایا گیا،روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کرنا غلط ہے،ہمیں ایکسچینج ریٹ مستحکم چاہئیں ،مصنوعی طریقے سے قدر کو روک کر معیشت کو مضبوط نہیں رکھا جا سکتا،بجٹ خسارہ، تجارتی خسارہ اور سرمایہ کاری کم ہونا بڑے مسائل ہیں، پاکستان اتنی برآمدات نہیں کرتا جتنی ضرورت ہے،ایف بی آر ٹھیک نہیں ہوگا تو مسائل حل نہیں ہوں گے ،وسط مدتی فریم ورک قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو پیش کیا جائے گا۔ پیر کو یہاں وزیر خزانہ اسد عمر نے وسط مدتی معاشی فریم ورک جاری کرتے ہوئے کہاکہ یہ فریم ورک اکنامک ایڈوائزری کونسل نے تیار کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ ورلڈ بینک اور اے ڈی بی سے بھی مشاورت کی گئی ہے،فریم ورک میں اعدادو شمار نہیں دئیے گئے۔انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف کےساتھ مذاکرات جاری ہیں،اس لیے اعداد و شمار نہیں دئیے جارہے۔انہوںنے کہاکہ فریم ورک میں معاشی اصلاحات کی حکمت عملی دی گئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ جمہوریت پر بڑے بڑے لیکچر دیے جاتے ہیں ،جمہوریت پر یقین کم ہوتا ہے ،انہوںنے کہاکہ بڑے بڑے فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں ۔ انہوںنے کہاکہ وسط مدتی فریم ورک قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو پیش کیا جائے گا ۔ اسد عمر نے کہاکہ پاکستان کی معیشت کو تین بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔انہوںنے کہاکہ بجٹ خسارہ،سرمایہ کاری اور تجارتی خسارہ بڑے مسائل ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان اتنی ایکسپورٹ نہیں کرتا جتنی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ جو مریض آئی سی یو میں تھا اس کو نکال لیا لیا۔ انہوںنے کہاکہ معیشت کے بحران کا دور ختم ہوچکا ہے،معاشی سست روی کا دور ہے ۔انہوںنے کہاکہ اگلا ڈیڑھ سال معاشی استحکام کا دور ہے ۔ اسد عمر نے کہاکہ ڈالر خریدنے والوں کو نقصان ہوگا،ابھی تھوڑا نقصان ہوا ہے بعد میں زیادہ نقصان ہوگا۔وزیر خزانے نے کہاکہ لوگوں کو کہا گیا کہ ڈالر خریدو۔انہوںنے کہاکہ 30 سال میں معیشت کو نقصان پہنچایا گیا،روپے کی قدر کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کرنا غلط ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں ایکسچینج ریٹ مستحکم چاہئیں ۔ اسد عمر نے کہاکہ روپے کی قدر کو زیادہ رکھنا نقصان دہ ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ مصنوعی طریقے سے قدر کو روک کر معیشت کو مضبوط نہیں رکھا جا سکتا۔اسد عمر نے کہاکہ آج روپیہ اپنی قیمت پر ہے ۔انہوںنے کہاکہ افریقہ کے آدھے ممالک کی معاشی ترقی زیادہ ہے ۔انہوںنے کہاکہ بنگلہ دیش ہم سے آگے نکال چکا ہے ،قرضے صرف سود ادا کرنے کے لیے لیے جا رہے ہیں ۔اسد عمرنے کہا کہ 800 ارب روپیہ سود کی ادائیگی پر خرچ ہورہا ہے ۔انہوںنے کہاکہ ایف بی آر ٹھیک نہیں ہوگا تو یہ مسائل حل. نہیں ہوں گے ۔وزیر خزانہ نے کہاکہ پچھلے سال 1900 ارب روپے کا خسارہ ہوا ،اس لیے ہر بار آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے ۔۔انہوںنے کہاکہ پاکستان میں بچت کی شرح انتہائی کم ہے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان ایران کے راستے وسطی ایشیائی ممالک تک تجارت کرسکتا ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں،دونوں ممالک کے درمیان تجارت ہونی چاہیے۔وزیر خزانہ نے کہاکہ بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات ہونے چاہئیں ۔اسد عمر نے کہا کہ اس وقت قرضے ہم صرف پرانے قرضے واپس کرنے کےلئے نہیں لے رہے بلکہ اس پر سود ادا کرنے کے لیے بھی لے رہے ہیں، سود کی ادائیگی کے لیے 800 ارب سے زیادہ قرض لیا گیا، یہ ہم خطرناک حد سے بھی آگے چلے گئے۔انہوںنے بتایاکہ 2003 میں ہماری برآمدات معیشت کے حجم کے ساڑھے تیرہ فیصد تھیں جو پچھلے سال 8 فیصد ہوگئی یعنی ہم ترقی کے بجائے تنزلی پر چلے گئے، ہمیں پچھلے سال 1900 ارب روپے کا خسارہ ہوا، یہی وجہ ہے کہ ہم دوست ممالک اور اذئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں اور ہر ایک سے مدد مانگتے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ اگر صرف بلوچستان کے وسائل کا ٹھیک سے استعمال کرتے تو آئی ایم ایف کے سامنے نہ کھڑے ہوتے۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان میں سیونگز ریٹ دنیا کے کم ترین ممالک میں سے ہے، اگر پیسہ بچائیں گے اور سرمایہ کاری کریں گے تو آگے بڑھیں گے، چین اور بھارت کی ترقی کی وجہ سیونگ ریٹ کا زیادہ ہونا ہے، گزشتہ سال پاکستان کا سیونگ ریٹ 10 فیصد تھا۔انہوں نے کہا کہ معذرت کے ساتھ کوئی ٹیکس نہیں دینا چاہتا، اتنے سوال آپ بیٹی کا رشتہ دیتے ہوئے نہیں پوچھتے جتنے سوال ایف بی آر ٹیکس ریٹرن میں پوچھتا ہے اس لیے ٹیکس کی ادائیگی کےلئے آسانی پیدا کی جائے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کا کوئی فائدہ نہیں، اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم لانے کا فیصلہ ہوگیا ہے تاہم یہ اسکیم اس وقت کامیاب ہوگی جب لوگوں کو یہ پتا ہوگا کہ اسکیم جب ختم ہوگی تو اس کے بعد ان کے پاس چھپنے کی جگہ نہیں ہوگی لہٰذا اسکیم سے فائدہ اٹھائیں اس کے بعد گلہ نہ کریں۔اسد عمر نے کہاکہ ہمارے بیرونی انفارمیشن کے ذریعے بہت بہتر ہوگئے ہیں، اب بے نامی اکاو¿نٹس کے حوالے سے قانون کا نوٹی فکیشن کردیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے کہاکہ وہ رپورٹرز جو معیشت کی کوریج کرتے ہیں،بہت اچھی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں،اینکرز کےساتھ ان رپورٹرز کی نشست کروانی چاہے تاکہ وہ بھی اچھے سوال پوچھنا سیکھیں۔اسد عمر نے کہا کہ اگر یہی بیانیہ میڈیا پر چلتا رہے گا کہ ہم کل صبح کیا کریں گے تو 70 سال گزر گئے دنیا کے ممالک ایک ایک کرکے آگے نکلتے گئے اور ہم صرف یہی پوچھتے رہے کہ کل کیا کرنا ہے کیونکہ ہم وہ کام کرنے کےلئے تیار نہیں جس کا فائدہ آج سے 3، 5، 20 اور 30 سال بعد نظر آئےگا۔انہوںنے کہاکہ اگر ہم صرف خبر یا الیکشن مقاصد کےلئے معیشت کے فیصلے کریں گے تو جو پاکستانیوں کا حق ہے وہ ہمیں حاصل نہیں ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*