کیا ٹیکنالوجی نے انسان کو محفوظ بنا دیا ہے

تحریر:اسد اللہ غالب
میری ملاقات ایک نوجوان سے ہوئی۔ ڈاکٹر محمد یوسف۔ کمیونی کیشن انقلاب میںپی ایچ ڈی۔ اور وہ بھی چین سے۔میںنے ان سے پہلا سوال تو یہ کیا کہ کوئی ایک ماہ سے موبائل کال دوسرے شخص کے ساتھ کنکٹ ہونے میں تیس چالیس سیکنڈ کا وقفہ کیوں آتا ہے۔ یہی سوال میںنے کالم نگار محمد اسلم خان سے پوچھا تو ان کا جواب تھا کہ کال کہیں سے ری روٹ ہوتی ہے۔ ڈاکٹر محمد یوسف کا جواب تھا کہ سگنل کامسئلہ ہو سکتا ہے مگر انہیں خودبھی یہ پریشانی لاحق ہے کہ ا ب موبائل کال فوری طور پر کنکٹ نہیں ہوتی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کال ملنے میں تاخیر کی وجہ کیا ہے۔ میںنے اپنی موبائل کمپنی کی ہیلپ لائن پر پوچھا کہ آپ کا نیٹ ورک سست کیوں پڑ گیا ہے۔ کہنے لگے۔ نہیں، ایسی تو کوئی بات نہیں مگر آپ کو کوئی شکائت ہے تو پی ٹی اے سے پتہ کر لیجئے۔ مجھے معلوم تھا کہ پی ٹی اے سے ایک گھڑا گھڑایا جواب ملے گا۔ اے پی ایس کے دلدوز سانحے کے روز میںنے ضرب عضب ویب سائٹ بنائی۔ چند روز بعد یہ بند ہو گئی ، میںنے پی ٹی ا ے سے پوچھا تو وہاں سے ایک ا یسے اعلیٰ ترین افسر نے جو ویب سائٹ بلاک کرنے کی ڈیوٹی پر مامور تھا، کہا کہ نہ انہوں نے ایسی کوئی ویب سائٹ بلاک کی ہے اور نہ انہیںایساکرنے کا کوئی حکم کسی اورنے دیا ہے۔ میںنے ایک اعلی فوجی افسر سے بات کی کہ کیا میں کوئی غلطی کر بیٹھا ہوں۔ انہوںنے کہا ہم تو اس پر خوش تھے۔ پتہ نہیں انہوںنے آگے کس سے بات کی مگر پانچ منٹ کے اندر ویب سائٹ پھر سے چالو ہو گئی۔ ا س کا مطلب یہ تھا کہ کوئی ایک کام کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ متعلقہ محکمہ ہی یہ ڈیوٹی ادا کرے، کوئی دوسرا ادارہ بھی ایسی حرکت کر سکتا ہے۔
اب میری اور آپ کی فون کالز فوری کیوں نہیں ملتیں۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں اور سب سے بڑی وجہ جو میرے ذہن میں آ رہی ہے کہ امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی والے ہماری کالیں ہیک کررہے ہیں۔ وہ ایسا کرنے پر قادر ہیں۔ ساری دنیا ان کی مٹھی میں ہے۔ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ میری اورا ٓٓٓپ کی کال اگر کوئی چاہے تو کسی سے ملنے دے ورنہ نہیں ملے گی اور دوست عزیز آپ سے اکثر شکائت کریں گے کہ آپ کا فون تو بند ہی ملتا ہے یا بے حد مصروف۔ آپ سو یقین دلاتے رہیں کہ فون تو کھلا ہوتا ہے مگر کون یقین کرے گا۔چلئے یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ گوگل نے دنیا کو بری طرح اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ ہماری پرائیویسی محفوظ نہیں۔ ہم کہاں جاتے ہیں ، کھانے میں کیا لیتے ہیں۔ کس قسم کے اخبار پڑھتے ہیں،کس طرح کی ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ ہماری ایک ایک حرکت مانیٹر ہو رہی ہے۔ حتی کہ ہم کس کے ساتھ ہوتے ہیں ، کس سے کیا لین دین کرتے ہیں۔ ہماراٹیلی فون بند بھی ہو تو ساری مطلوبہ اطلاعات گوگل کو فراہم کرتا رہتا ہے۔چلئے اسے بھی معمول کی بات سمجھ لیں مگر یہ تو معمول کی بات نہیں کہ ا مریکہ کا صدارتی الیکشن روس ہیک کر لے اور مرضی کے نتائج حاصل کر لے۔ ہمارے جیسے ملک میں انجینیرڈ نتائج مرتب ہوتے رہتے ہیں۔ ہمارا ٓر ٹی ایس بھی ہمارے کام نہیں آیا۔ایک سابق امریکی صدر جمی کارٹر جدید ٹیکنالوجی سے اس قدر تنگ ہیں کہ کسی کو ای میل تک نہیں بھیجتے۔ اپنے ہاتھ سے خط لکھتے ہیں اور خود پیدل چل کراسے پوسٹ باکس میں ڈالتے ہیں مگر وہ کیسے یقین کر لیں کہ راستے میں ان کی ڈاک کھولنے والا کوئی نہیں توسوال یہ ہوا کہ کیا جدید ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو محفوظ بنایا ہے، آسان بنایا ہے، پر آسائش بنایا ہے ، جواب ملے گا کہ نہیں۔ ٹیکنالوجی جامد شے نہیں۔ دنیا میں علم و فن کا ارتقا جاری رہتا ہے۔ جدید سائنس ،انجینئرنگ اور میڈیسن نے بہت سے کمالات دکھائے۔ مگر اس کی ابتدا ہی ہیرو شیماا ور ناگا ساکی میں لاکھوں بے گناہوں کا خون کرنے سے ہوئی۔ آج امریکہ دنیا کے درجنوں ممالک میں بمباری کر رہا ہے ا ور ہر پانچ منٹ بعد کسی نہ کسی ملک میں امریکی بم معصوم زندگیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ہی تھی جس نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے مسکن کا سراغ لگایا اور پھر یہ بھی ٹیکنالوجی ہی تھی کہ ا مریکی صدر اوبامہ نے وائٹ ہاﺅس میں بیٹھ کر ایبٹ آباد میں لائیو کمانڈو آپریش کی نگرانی کی۔میں نے ڈاکٹر محمد یوسف سے پوچھا کہ تاریخ کے ہر موڑ پر دنیا کو کئی چیلنج درپیش رہے ہیں اور پھر ان کا توڑ بھی تلاش کیا جاتا رہا ہے۔ رومن اور ایرانی بادشاہتوں کو مسلمانوں نے ٹھکانے لگایا۔ پھر مسلمانوں کی طاقت کو کچل دیا گیا، کیا آج ہم جدید ٹیکنالوجی کی جارحانہ یلغار کا کوئی توڑ تلاش کر سکتے ہیں۔ نوجوان پروفیسر نے چین میں تین سال گزارنے کے تجربے کی رو سے بتا یا کہ چین نے فیس بک، ٹوئٹر، واٹ ایپس ، گوگل وغیرہ کے مقابلے میں اپنی ایپس تیار کر لی ہیں اور آج امریکہ کو سب سے بڑا خطرہ چینی ہیکروں سے در پیش ہے، ویسے بھی دنیا بھر کے ہیکروں کے لئے چین نے کئی سہولتیں فراہم کر رکھی ہیں ، وہ جعلی آئی پی ایڈریس بناتا ہے اور ان کی مدد سے دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا ہیکر کسی کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے، کسی کا بھی ڈیٹا چوری کر سکتا ہے۔ کسی کا ڈیٹا ضائع کرسکتا ہے اور کسی ڈیٹا افشا کر سکتا ہے۔
یہ کام پچھلے برسوں میں تواتر سے ہوتے رہے۔ ان میں سے ہم پانامہ کو بھگت رہے ہیں اور وکی لیکس نے بھی ہمیں ننگا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ایک ہم کیا۔ دنیا کا کوئی شخص اس کی یلغار سے محفوظ نہیں رہا۔سوال پھر یہی ہے کہ ٹیکنالوجی نے انسان کی نجی زندگی کے اندر تانک جھانک کیوں کی ہے۔ اور اگر کی ہے تو اس سے دنیا کو محفوظ بنانے میں کیا مدد ملی ہے۔ اگر تو ٹیکنالوجی نے دہشت گردی کی روک تھام کرنا تھی تو پھر شام، لیبیا،عراق ، افغانستان پر امریکہ کودنیا بھر کی فوجوں کے ساتھ یلغار کیوں کرنا پڑی ا ورا س یلغار نے بھی دنیا میں امن تو قائم نہیں کیا۔ امریکہ میں ہر قسم کی ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے نائن الیون ہوا، لندن میں سیون سیون ہوا۔ ممبئی میں بڑا سانحہ ہوا اور اب نیوزی لینڈ میں تو غدر ہی مچ گیا۔ اس سے پہلے فرانس، بلجیم اور ہالینڈ میں کیا کچھ نہیں ہوتا رہا۔ سیاروں کے ذریعے لمحہ لمحہ کی سرویلنس بھی کسی کام نہیں آ رہی۔ پاکستان میں بھی بھارت نے بارہ طیاروں کے ساتھ سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ رچا دیا اور ا سکے جواب میں پاکستان نے چوبیس طیاروں کے ساتھ یلغار کی۔ بھارت ا ور پاکستان دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں مگر ایک دوسر ے کے ساتھ مڈ بھیڑ سے کسی نے گریز نہیں کیا۔ ہاں یہ تو ہوا کہ کشیدگی کا دائرہ وسیع نہیں ہونے پایا مگر شام پر نظر ڈالئیے، کتنے برسوں سے عالمی طاقتیں وہاں قتل عام کرر ہی ہیں۔ایساکیوں ہے کہ کوئی طاقتور اپنے سے کمزور ملک کو برداشت کرنے کو تیار نہیں تو پھرٹیکنالوجی جتنی مرضی ترقی کر جائے،انسانی جان تو محفوظ نہیں ہو پائی۔ انسانی جان تو ہلاکو خان، چنگیز خان کے ہاتھوں سے بھی محفوظ نہیں تھی جب صرف گھوڑے تھے اور صرف تلواریں اور نیزے یا بھالے۔ اب یہی کام ٹیکنالو جی کی مدد سے کیا جا رہا ہے ا ور زیادہ وسیع پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔ میری اور ڈاکٹر محمد یوسف کی بحث کو ڈاکٹر محمود شوکت نے سناا ور کہا کہ آپ لوگ ٹیکنالوجی سے خوف زدہ کیوں ہیں ،کسی توڑ کی بات کیوں کر رہے ہیں۔ یہ کیوںنہیں دیکھتے کہ آج صرف سرجری کے شعبے میں کتنا بڑاا نقلاب آگیا ہے۔ ڈاکٹر محمود شوکت بھی صحیح کہتے ہیں مگر جب ایک اچھے بھلے انسان کی پرائیویسی مجروح ہو گئی ہے تو ایک بے وقار زندگی کس کام کی۔ میںنے ایک ویڈیو کلپ سنا جس میں بھارت کے تینوں فلمی خان ایک اسٹیج پر اکٹھے تھے تو ایک خاںنے بتایا کہ انہیں دھمکیاں ملتی ہیں کہ ہمیں تمہاری گاڑی کا پتہ ہے جس میں گھر سے نکلتے ہو اور ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ ا س میں بم کیسے نصب کیا جاتا ہے تو میزبان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ مالدار آدمی ہیں ،ہر روز گاڑی بدل لیا کریں مگر کوئی سابق امریکی صدر جمی کارٹر کو بتائے کہ وہ اپنی پرائیویسی کوکیسے بچائے ا ور کوئی مجھے بتائے کہ جب میں اپنے بچوں اور عزیزوں، دوستوں کے ساتھ سراسر نجی گفتگو کرتا ہوں تو اسے روئے زمین پر کون مانیٹر کر رہا ہے اور کیوں۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ میںاپنا موبائل فون گندے نالے میں پھینک دوں۔ اور جس کسی سے کوئی بات کرنی ہو تو اس کے پاس جا کر کر لوں۔ آر چالیس سال قبل بھی تو اسی طرح گزارا ہو جاتا تھا۔قارئین میں سے کوئی زیادہ سیانا ہوتو میری راہنمائی کرے۔ ویسے یہ مسئلہ میرا ذاتی نہیں،ہم سب کا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*