پاکستان ریلوے کا نظام درہم بر ہم

چند دن قبل رحیم یار خان ریلوے سٹیشن پر ایک مال گاڑی کی کچھ بوگیاں پٹڑی سے اتر کرالٹ گئیں جس کیو جہ سے ریلوے ٹریک پر ٹریفک معطل ہوگئی اس کے بعد ریلوے کا نظام درہم برہم ہوگیا مسافر ملک کے مختلف شہروں میں رل گئے وہ پریشانی کے عالم میں گھنٹوں تک انتظار کرتے رہے ان مسافروں جن میں بوڑھے عورتیں اور بچے بھی شامل تھے ریلوے سٹیشنوں پر پڑے رہے جوکہ ایک نہایت ہی افسوسناک عمل ہے ۔
جہاں تک وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی بات ہے تو انہوں نے جب سے ریلوے کی وزارت کی چارج کو سنبھالا ہے وہ ہر روز نئے دعوے کرتے ہیں کہ میں ملک میں اورٹرینیں چلاﺅں گا اور ریلوے کو منافع بخش ادارہ بناﺅں گا جیسے بلند و بالا دعوتے کرتے اور سابقہ حکومتوں پر صرف الزامات لگاتے رہتے ہیں اور یہاں ان کی ایڈمنسٹر یشن کا یہ عالم ہے کہ ایک معمولی حادثے کے بعد پورے ملک میں ریلوے کا نظام درہم برہم ہوگیا اور جس کو قابو کرنا مشکل ہوگیا تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ احمدصرف وعدے اور سابقہ حکومتوں پر بے جاتنقید کرسکتے ہیں عملی اقدامات نہیں کرسکتے انہوں نے ملک میں جو نئی ٹرینیں چلانے کی بات ہے تو ان کو شاید اس سلسلے میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ نظر نہیں آتا ؟ کیونکہ یہاں اندرون ملک جانے والی ٹرینوں کی تعداد بہت ہی کم ہے گزشتہ ادوار میں یہاں ایک سازش کے تحت چلنے والی منافع بخش ٹرینوں کو بند کردیا گیا جس سے صوبے کے غریب عوام شدید مشکلات کا شکار ہوگئے اور وہ ٹرانسپورٹرز کے رحم وکرم پر رہ گئے جو ان کو اپنی بسوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح دھونس کر بیٹھاتے اور اپنی مرضی کا کرایہ وصول کرتے ہیں ۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے اندرون ملک جانے والی ٹرینوں میں اباسین ایکسپریس جو پشاور تک ،چلتن ایکسپریس جو لاہور تک اور ایک نان سٹاپ ٹرین جو کراچی تک جاتی تھیں کو بند کردیا گیا ان ٹرینوں میں رش کا یہ عالم تھا کہ ان میں سیٹوں کی بکنگ کئی کئی دن پہلے کی جاتی تھی اس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کتنی منافع بخش ٹرینیں تھیں لیکن اس کے باوجود ان کو بند کردیا گیا ۔
اس لئے یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید احمد بلند و بالا دعوے اور سابقہ حکومتوں پر تنقید کرنے کی بجائے اپنی کارکردگی بہتر کریں اور اس طرح معمولی حادثے کے بعد ملک میں جو بحران پیدا ہوا جیسے بحرانوں کی روک تھام کےلئے اقدامات کریں اور اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں ٹرینوں کے مسئلے کو بھی حل کریں کیونکہ وہ بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمے کے بھی دعوے کرتے رہتے ہیں لیکن بڑی افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کو اپنے ہی محکمے کا پتہ نہیں ہے ان کو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے اندرون ملک جانےوالی بند ٹرینوں کو دوبارہ بحال کرنے کے ساتھ ساتھ محکمے میں اصلاحات لانی چاہےے اگر وہ ایسا کرینگے تو پھر محکمہ ترقی کرے گا اس کےلئے زبانی دعوﺅں اور وعدوں کی بجائے عملی طور پر اقدامات کرنے پڑیں گے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*