وسائل میں کمی نہیں ، ہم اپنے آپ کو خود ہی نظرانداز کرتے رہے ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

Mir Jam Kamal Khan

خالق آباد(خ ن)وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ پی ایس ڈی پی کی شکل میں بلوچستان کی تقدیر کے فیصلے چند لوگ کم معلومات کی بنیاد پر کرتے رہے ہیں، ہم کسی دوسرے سے گلہ نہیں کرسکتے، بلوچستان کی پسماندگی اور غربت کے ذمہ دار یہاں کے حکمران ہی رہے ہیں، کبھی بھی سندھ، پنجاب اور کے پی کے سے آکر کوئی وزیراعلیٰ نہیں بنا، جو لوگ آج پی ایس ڈی پر شور کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ترقیاتی عمل جام ہے یہ وہ دوفیصد لوگ ہیںجن کی دکانداری بند ہوئی ہے اور جن کی میڈیا تک رسائی ہے، عام لوگوں کو تو علم ہی نہیں کہ پی ایس ڈی پی میں ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جاتا رہاہے، اگر یہ لوگ پی ایس ڈی پی میں پائی جانے والی خامیوں اور غلطیوں پر بھی شور کرتے تو شاید آج ترقیاتی منصوبے زمین پر نظر آرہے ہوتے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوٹ لانگو میں منعقدہ ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کیا تھا، جلسے میں قبائلی و سیاسی عمائدین اور عوام کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی، سینیٹر منظور احمد کاکڑ، صوبائی وزیر میر نصیب اللہ مری، وزیراعلیٰ کے معاونین خصوصی آغا شکیل درانی، میر رامین محمد حسنی اور سردار نور احمد بنگلزئی بھی اس موقع پر موجود تھے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ باقی صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان میں غربت اور پسماندگی زیادہ ہے اور یہاں لوگ مشکل زندگی گزاررہے ہیں، ہم ہی یہاں کے حکمران رہے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ہم نے اپنی سرزمین سے کتنا انصاف کیا، آج بھی بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں میں حکومت بنیادی سہولیات فراہم نہیں کرسکی ہے، انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبہ بندی کرنے والوں کو بھی نہیں پتہ کہ کس علاقے کے عوام کی کیا ضرورت ہے، ترقی اس وقت ہی ممکن ہوسکے گی جب منصوبہ بندی کرنے والے کوئٹہ سے نکل کر ضلعوں تک جائیں گے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری آبادی کم ہے جو خوش بختی ہے اور یہ ہمارے ذمہ داری ہے کہ وسائل کے بہتر استعمال کے ذریعہ ترقیاتی عمل کے ثمرات ہر علاقے تک پہنچائیں، اگر وسائل کا غلط استعمال ہوگا تو غربت اور پسماندگی بڑھے گی اور اگر ہم صحیح منصوبہ بندی کے تحت وسائل استعمال کریں گے تو غربت اور پسماندگی میں کمی آئے گی، انہوں نے کہا کہ اگر پی ایس ڈی پی کی کتاب صحیح بنتی تو آج ہر جگہ خوشحالی ہوتی، اس کتاب میں شامل منصوبوں پر بیس فیصد فنڈ بھی نہیں لگائے گئے اور جہاں یہ فنڈز خرچ بھی ہوئے ہیں تو ان کا فائدہ نہ ہوسکا، منصوبے نامکمل ہیں اسکول ہے تو ٹیچر نہیںہے، ہسپتال ہے تو ادویات نہیں ہیں، جہاں ضرورت نہیں وہاں بے تحاشا پیسہ لگایا گیا اور جہاں ضرورت تھی ان علاقوں کو نظر انداز کیا گیا، انہوں نے کہا کہ اگر ہم آج اپنے سیاسی ساتھیوں کے ساتھ مل کر پی ایس ڈی پی کی کتاب ٹھیک کردیں تو یہ صوبے کے ساتھ بہت بڑا احسان ہوگا، وزیراعلیٰ نے کہاکہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں دو سو سے ڈھائی سو ارب روپے بلوچستان کی ترقی پر صحیح معنوں میں خرچ کریں گی تو خوشحالی نظر آئے گی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ وسائل میں کمی نہیں اور نہ ہی وفاق ہم سے تعاون نہیں کررہا، ہم اپنے آپ کو خود ہی نظرانداز کرتے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں میں گذشتہ پانچ سال کے دوران بلوچستان کے ساتھ صرف وعدے ہوئے، ہم نے وفاقی حکومت سے کہا کہ مغربی روٹ پر کام کا آغاز کیا جائے ہم شکر گزار ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے ہماری بات سنی اور ساٹھ ارب روپے کی لاگت کے مغربی روٹ پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے اور آئندہ مالی سال میں چمن سے کراچی تک دورویہ شاہراہ پر کام کا آغاز ہوگا، وزیراعظم نے کوئٹہ میں کارڈک سینٹر اور کینسر ہسپتال کے منصوبوں کا بھی سنگ بنیاد رکھا ہے، جو بلوچستان کے عوام کے لئے بہت بڑی سہولت ہوگی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے اچھی منصوبہ بندی کے ذریعہ نظام کو ٹھیک کرنا ہے جب تک عام آدمی کو انصاف اور نچلی سطح تک سہولتیں نہیں ملیں گی ترقی نہیں ہوگی، انہوں نے کہا کہ بلوچستان ایک طویل وعریض صوبہ ہے، جہاں کے عوام اپنے ہر مسئلے اور روزگار کے حصول کے لئے کوئٹہ تک نہیں پہنچ سکتے، لہٰذا ہم نے اختیارات کی مرکزیت ختم کرکے اسے نچلی سطح تک منتقل کیا ہے، اب ترقیاتی منصوبے ضلعی سطح پر حقیقی ضروریات کے مطابق بنیں گے اور روزگار ضلعی سطح پر ملے گا،جس کے لئے ریکروٹمنٹ پالیسی میں ترمیم کی جارہی ہے، وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومتی کوششوں کے باعث آج ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں سالوں بعد سرجری کا آغاز ہوا ہے، اسی طرح تعلیمی اداروں کی بہتری کے لئے بھی ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں وعدے تو بہت کئے گئے لیکن عملی اقدامات نہیں کئے گئے، ترقیاتی بجٹ کا غیر مساویانہ استعمال کرکے کچھ اضلاع میں اربوں روپے فنڈز دیئے گئے جبکہ دیگر اضلاع کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا، اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے تو ہم عوام کا حق ادا بھی کریں گے، قبل ازیں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا خیرمقدم کیا، انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے تک یہ پورا علاقہ کانفلکٹ زون تھا اور یہاں عوام کی زندگیاں محفوظ نہیں تھیں تاہم موجودہ حکومت کی کوششوں ، سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں اور عوام کے تعاون سے آج ہر جگہ امن نظر آتا ہے، انہوں نے کہا کہ خالق آباد کے عوام نے گذشتہ انتخابات میں ہر پولنگ اسٹیشن پر بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار کو کامیاب کرایا، انہوں نے کوٹ لانگو آمد پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا، اس موقع پر مختلف سیاسی اور قبائلی شخصیات نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بلوچستان عوامی پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا، صوبائی وزیر نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر مہمانوں کو روایتی پگڑیاں پہنائیں اور شیلڈ پیش کیں۔ بعدازاں وزیراعلیٰ اور دیگر مہمانوں کے اعزاز میں صوبائی وزیر داخلہ کی کی جانب سے ظہرانہ دیا گیا۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ نے خالق آباد میں زیر تعمیر کمپلیکس کے منصوبوں کے معائنہ کیا اور بریفنگ لی، وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ ان اہم نوعیت کے عوامی منصوبوں کی تکمیل کو ہرصورت یقینی بنایا جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*