وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیرصدارت جی ڈ ی اے گورننگ باڈی کا 18واں اجلاس

Chief Minister Balochistan, Mir Jam Kamal

کوئٹہ(خ ن) وزیراعلیٰ بلوچستان و چیئرمین گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی گورننگ باڈی جام کمال خان کی زیرصدارت منعقد ہونے والے گورننگ باڈی کے 18ویں اجلاس میں گوادر شہر (اولڈٹا¶ن) کی ٹا¶ن پلاننگ اور بہتری کے منصوبوں کی منظوری دیتے ہوئے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو نکاسیءآب، سڑکوں اور گلیوں کی پختگی اور شہری سہولتوں کی فراہمی کے منصوبوں پر فوری طور پر عملدرآمد کا آغاز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، گورننگ باڈی کے اجلاس میں رکن قومی اسمبلی محمد اسلم بھوتانی، رکن صوبائی اسمبلی میر حمل کلمتی سمیت گورننگ باڈی کے دیگرا راکین نے شرکت کی جبکہ ڈی جی جی ڈی اے شاہ زیب کاکڑ کی جانب سے اجلاس کا ایجنڈا پیش کیا گیا، گورننگ باڈی نے سربندر میں سمندری کٹا¶ کی روک تھام کے لئے بریک واٹر وال کی تعمیر کی منظوری بھی دی، اجلاس میں گوادر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ فیز IIکے تحت پائپ لائن کی تنصیب کے منصوبے ، پیشو کان ایونیو اور پدیزر ایونیو کو منسلک کرنے کے لئے لنک روڈ کی تعمیر، گوادر کے سینٹرل پارک کی بہتری، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت تھیم پارک کی تعمیر، جے ڈی اے بلڈنگ کنٹرول سیکشن کے پولیس اسکواڈ کے لئے 16آسامیوں اورواٹر با¶زر اور صفائی سمیت دیگر جدید مشینری خریدنے کی منظوری بھی دی گئی، اجلاس نے جی ڈی اے کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے مالی معاونت کے لئے سالانہ بنیادوں پر قابل واپسی گرانٹ کی فراہمی کی منظوری بھی دی جبکہ جی ڈی اے کے حدود کار میں اضافے سے اصولی طور پر اتفاق کرتے ہوئے اس ضمن میں سمری صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی، اجلاس میں گوادرکی مقامی آبادی کے لئے جدید سہولتوں سے آراستہ رہائشی منصوبے اور نئی جیٹی کی تعمیر کے مجوزہ منصوبوں کا بھی جائزہ لیتے ہوئے ان کی منظوری دی گئی اور جی ڈی اے کو ہدایت کی گئی کہ گوادر کے موجود ہ شہر کی ترقی سمیت دیگر منصوبوں میں مقامی آبادی کی مشاورت اور رضامندی بھی حاصل کرتے ہوئے ان میں احساس شراکت داری اجاگر کیا جائے اور مقامی آبادی کے معاشی تحفظ کو یقینی بنایا جائے، اجلاس میں جی ڈی اے کو ہدایت کی گئی کہ واٹر ٹریٹمنٹ سے حاصل ہونے والے پانی کو شجر کاری، پارکوں، تعمیرات اور کارواشنگ جیسے کاموں کے لئے بروئے کار لایا جائے اور اس پانی کو تجارتی بنیادوں پر استعمال کرتے ہوئے حاصل ہونے والی آمدنی کو واٹرٹریٹمنٹ پلانٹ کے اخراجات سمیت شہر کی ترقی کے منصوبوں کے لئے بروئے کار لایا جائے، اجلاس میں گوادر میں بننے والی نئی ہا¶سنگ اسکیمو ں کو واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور نکاسیءآب کے نظام کے قیام کا پابند بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا،گورننگ باڈی نے جی ڈی اے کو گوادر میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافے اور سیاحت کے فروغ کے لئے بھی موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی، اجلاس میں اس امر سے اتفاق کیا گیا کہ مختلف اداروں کے زیرانتظام گوادر کی ترقی کے مجوزہ منصوبوں میں حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لینا لازم ہوگا، اجلاس کو گوادر کے پانی کے منصوبوں کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ سنوڑ اور شادی کور ڈیم سے پائپ لائن کے ذریعہ گوادر کو پانی کی فراہمی سمیت ڈی سیلینیشن پلانٹس کے منصوبوں کی تکمیل سے گوادر کے لئے روزانہ 17ملین گیلن پینے کا پانی دستیاب ہوسکے گا، اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ 25ارب روپے کی لاگت کے گوادر کے بزنس پلان کے وفاقی منصوبے کا آغاز 2003ءمیں کیا گیا جسے 2013ءمیں مکمل ہونا تھا تاہم ابھی تک وفاقی حکومت سے 4سو ملین روپے کا اجراءہوا ہے جس سے گوادر میں سڑکوں کی تعمیر سمیت صحت، تعلیم اور مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبے مکمل کئے گئے اور بعض منصوبے زیر تکمیل ہیں جبکہ وفاقی اور صوبائی پی ایس ڈی پی کے تحت بھی مختلف شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے،سی پیک منصوبوں کے لئے قائم مشترکہ رابطہ کمیٹی نے جی ڈی اے ہسپتال میں میڈیکل کالج کے قیام کی منظوری دی ہے اور ہسپتال کو 150بستروں تک توسیع دینے کے معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، اجلاس میں اس امر سے اتفاق کیا گیا کہ منصوبوں کی طوالت سے ان کی افادیت کم اور اخراجات بڑھ جاتے ہیں لہٰذا ایسے منصوبے بنائے جائیں جو دو سے تین سال میں مکمل ہوسکیں، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ گوادر کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کی نئی عمارت کے مجوزہ منصوبے کو بھی عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ گوادر کے عوام کو صحت کی بہتر سہولتیں ان کی دہلیز پر دستیاب ہوسکیں، انہوں نے کہا کہ گوادر کے موجودہ شہر کی ترقی اور بہتری بھی اتنی ہی اہم ہے جتنے گوادر کے دیگر ترقیاتی منصوبے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*