پاک وہند کشیدگی میں کمی ہوئی ہے ،ترجمان پاک فوج

Spokesperson Pak Army Maj General Asif Ghafoor

راولپنڈی(آ ئی این پی) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پا ک بھا رت کشیدگی میں کمی ہو ئی ہے مگر جنگ کا خطرہ موجود ہے، پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا جواب دیا اور بھارت کی جارحیت کی وجہ سے دونوں ملک جنگ کے قریب تھے،کہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا خطے کے امن میں رکاوٹ ہے، اگر بھارتی مظالم جاری رہے تو کشمیریوں کا ردعمل لازمی ہے، اب بھارت پر منحصر ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے وہ کیا کرتا ہے کیونکہ خطے میں کشیدگی میں کمی کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، مقبوضہ کشمیر میں خواتین سے زیادتی اور لوگوں کو نابینا کرنے کیلئے پیلٹ گنز کا استعمال کیا جارہا ہے، میجر جنرل آصف غفور نے بد ھ کو امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ بھارتی پائلٹ کی رہائی پاکستان کی طرف سے امن کا پیغام تھا، دیکھتے ہیں اب بھارت ہمارے امن کے پیغام کا کیا جواب دیتا ہے، الزامات سے بہتر ہے کہ بھارت اپنی اصلاح کے اقدامات کرے،انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور جارحیت کی جس کا پاکستان نے جواب دیا، بھارت کی جارحیت کی وجہ سے دونوں ملک جنگ کے قریب تھے،ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا خطے کے امن میں رکاوٹ ہے، اگر بھارتی مظالم جاری رہے تو کشمیریوں کا ردعمل لازمی ہے، اب بھارت پر منحصر ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے وہ کیا کرتا ہے کیونکہ خطے میں کشیدگی میں کمی کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، مقبوضہ کشمیر میں خواتین سے زیادتی اور لوگوں کو نابینا کرنے کیلئے پیلٹ گنز کا استعمال کیا جارہا ہے، کشمیریوں پر مظالم جاری رہے تو ردعمل بھی آئے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر اقوام متحدہ کی کمیشن کی رپورٹ بھی موجود ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر مقامی افراد کا رد عمل فطری ہے، دنیا کو دیکھنا ہوگا کہ کشمیری نوجوانوں کو کس چیز نے تشدد کی طرف دھکیلا ہے، بھارت الزام تراشی کررہا ہے ، بھارت کو دیکھنا چاہیے یہ واقعات کیوں ہورہے ہیں۔ترجمان پاک فوج نے بھارتی الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ حملے میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا لیکن اس کے باجود وزیراعظم نے تحقیقات کی پیشکش کی۔ اب بھارت کی جانب سے ڈوزیئر ملا، اس پر تحقیقات جاری ہیں۔ ڈوزیئر کو متعلقہ وزارت دیکھ رہی ہے۔ کوئی ملوث ہوا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*