پاکستان کا محافظ ہمارا ایٹم بم

تحریر۔محمد اسلم خان
پاکستان کا ایٹم بم اور دور مار میزائل دونوں برصغیر میں امن کی ضمانت ہیں جب تک یہ صلاحیت ہمارے پاس موجود ہے ہمیں کسی سے کوئی خطرہ نہیں ، لیکن جاری بحران سے ایک حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ پاکستان کو اپنا دفاعی جنگ کا فلفسہ تبدیل کرنا ہوگا اور بھارت کے ساتھ ساتھ تل ابیب سمیت اسرائیل کے اہم مراکز کو اپنے ہدف پر رکھنا ہوگا۔ہمیں بھی ایران کی طرح اعلان کرنا ہو گا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں تل ابیب ہمارا پہلا ہدف ہوگا۔وزیراعظم عمران کی”امن یلغار “ پر شردھالو اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کر رہے ہیں”ساﺅ تھ بلاک نئی دہلی“ سے مال توڑنے والے موذی کے جنگی پاگل پن پر ایک لفظ کہنے کو تیار نہیں’ لیکن ساری دنیا اور بھارتی باضمیر دانشور مودی کا بینڈ بجا رہے ہیں۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے جنازے اٹھانے والا بے غیرت ٹولہ نجانے کہاں مرکھپ گیا ہے وہ بے ہود، حسین حقانی کے اسلام آبادی پیرو کار اورکڑاکے نکالنے والے جعلی دانشور مسخرے کونے کھدروں میں منہ دے کر رو رہے ہیں کہ بحران ان کے پالن ہار بھارت اور مودی کے لئے ذلت رسوائی لے کر آیا، ساری دنیا مودی پر لعن طعن کررہی ہے۔باقی یہ سب طوطا کہانیاں ہیں کہ امریکہ یا برطانیہ نے موذی مودی کو روک لیا۔ یہ وزیراعظم عمران خان اور مسلح افواج کی دانشمندانہ اور دلیرانہ حکمت عملی تھی جس نے سرحد کو لکیر قرار دینے والوں سمیت امن کے نام نہاد گڑبالووئں کے فلفسہ امن کو پامال کرکے رکھ دیا۔ اگر ہمارے شاہینوں نے ابھی نندن کے جہاز کو اپنی حدود میں نہ مار گرایا ہوتاتو امن کے جعلی پجاریوں کی ٹر،ٹر کسی صورت بند نہیں ہونی تھی۔قلندر لاہوری نے مدتوں پہلے لکھ دیا تھا۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!
OIC کے مالک عرب شہزادوں نے ہماری درخواستوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی “منہ بولی ماتا “ششما سوراج کو مہمان اعزاز بناکر چھوڑا لیکن دو بھارتی جہاز گرتے ہی سب کی عقل ٹھکانے آگئی اسی OIC کو مظلوم کشمیری اور بھارتی مظالم یاد آگئے اور بھارت میں اب مودی کو OIC والا پنگا لینے پر بھی وہ گالی پڑ رہی ہے کہ الحفیظ الامان۔بھارتی طیارے کیا تباہ ہوئے اسرائیلی سازش بھی خاکستر ہوگئی۔ اسرائیلی جارحانہ عزائم پر لپٹا بھارتی نقاب اتر گیا۔ اصل کہانی سامنے آگئی ہے۔ پاکستان پر حملہ صرف بھارت نے نہیں کیا بلکہ اسرائیل کی پکائی کھچڑی تھی جس کی ہنڈیا بالاکوٹ اور ایل او سی کے آر پار پھوٹ چکی ہے۔ اسرائیل کو بھی پتہ چل گیا ہو گا کہ نہتے فلسطینیوں اور پاک فضائیہ کے شاہینوں میں کتنا فرق ہے۔ عرصہ پہلے کہی مرحوم یاسر عرفات کی بات یاد آگئی۔ جب ا±ٓن سے پوچھا گیا کہ تحریک آزادی فلسطین کامیاب کیوں نہیں ہورہی تو انہوں نے کہاتھا کہ ’بدقسمتی ہمارا ہمسایہ پاکستان نہیں۔‘عربی زبان جاننے، کئی عالمی ایوارڈز جیتنے اور جنگوں کی رپورٹنگ پر خصوصی مہارت رکھنے والے رابرٹ فسک کا کہنا ہے کہ پہلے خبر اسے ملی کہ ’دہشت گرد کیمپ پر حملہ‘ تو میرے ذہن میں یہی خیال آیا کہ اسرائیل نے غزہ یا کہیں اور حملہ کیا ہوگا لیکن جب ’بالاکوٹ‘ کا نام لیاگیا تو میرے ذہن کو فورا جھٹکالگا کہ ایسا تو کوئی شہر فلسطین، مصر، لبنان یا اس کے اردگرد نہیں بلکہ یہ تو پاکستان میں ہے۔ کیسے کسی نے اسرائیل اور انڈیا کو ملادیا ہے؟
تل ابیب اور نئی دہلی میں اڑھائی ہزار میل کا فاصلہ اپنی جگہ لیکن ان دونوں کو پیہم ایک ہونا کیا مطلب ہے؟ اسرائیل دراصل اسلام دشمن خطرناک سیاسی کھیل کھیل رہا ہے اور اس مقصد کے لئے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ مل کر اس سازش پر عمل پیرا ہے۔ بھارت اس وقت اسرائیل کی اسلحہ کی فروخت کی سب سے بڑی منڈی بن چکا ہے۔ کہاجاسکتا ہے کہ دوجنونی، دو پاگل اور خون آشام درندے آپس میں مل گئے ہیں اور ان کا نشانہ پاکستان کے اندر اس قوت کو نشانہ بنانا ہے جس سے اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کو پسینہ آتا ہے اور وہ دن رات اسی خواب وخیال میں رہتے ہیں کہ کیسے اس طاقت پر ضرب لگائی جائے اور اسکے جوہری دانت توڑ دئیے جائیں۔ واللہ خیرالماکرین۔ اللہ کریم نے ان کے مکروفریب کو کئی بار توڑا ہے، الحمد اللہ ایک بار پھر اس کی شان کریمی کا صدقہ پاکستان نے ایک گھونسے میں بھارت، اس کے پیچھے چھپے اسرائیل کو بحرمردار میں پھینکا ہے۔ ایک عرصہ قبل یہ بات محسوس کی گئی کہ اسرائیل غیرمعمولی طورپر بھارت کے ساتھ اتحاد بنارہا ہے اور خفیہ انداز میں بہت سی چیزیں زیرزمین چل رہی ہیں۔ یہی وہ وجہ تھی کہ بھارتی میڈیا کو اسرائیلی ساختہ رافائل سپائس2000 ’سمارٹ بم‘ استعمال کرنے کا مصالحہ ’کھلایا‘ گیا۔ یہ مصالحہ اتنی مقدار میں کھلایا گیا کہ بھارتی میڈیا نے رپورٹنگ کے نام پر جو ’نوٹنکی‘ کی اس نے ’دھمال‘ اور ’گول مال‘ فلموں میں ہنسی کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ ایسے ایسے نمونے ٹی وی سکرین پر نمودار ہوئے کہ کشیدگی کے اس ماحول میں بھی عوام ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*